کشمیریوں میں امید باقی ہے کسی کو نا امیدی کی اجازت نہیں پاکستان کی ہمدردی نہیں عملی اقدام چاہیے۔۔فرزانہ یعقوب

بھارتی فوجیوں نے کشمیر میں ایک رات میں سو خواتین کی آبروریزی کی، ان مظالم کے باوجود خواتین مزاحمت کر رہی ہیں، بشیر سدوزئی ۔ جمشید حسین سردار نزاکت اور دیگر کا خطاب

کراچی ( ) آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کی سابق وزیر سماجی بہبود و نسواں فرزانہ یعقوب نے کہا ہے کہ جب تک کشمیریوں میں امید باقی ہے تب تک کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ نہ امید ہو۔کشمیریوں کو پاکستان کی ہمدردی نہیں بلکہ عملی کردار چاہیے۔ آزاد کشمیر کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر آواز اٹھائے۔ہمیں ان لوگوں کی آواز بننا ہے جو آواز نہیں اٹھا سکتے۔ ان خیالات کااظہار انھوں نے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی

میں ” کشمیر کی بیٹی، مصائب و مزاحمت” کے موضوع پر منعقد سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام منعقد اس سیمینار سے ، معروف صحافی و کالم نویس بشیر سدوزئی، ڈاکٹر خالدہ غوث، ڈاکٹر صابر ابو مریم، جمشید حسین، سردار نزاکت، سردار آصف خان نے اظہار خیال کیا جبکہ نظامت کے فرائض اینکر و براڈکاسٹر راحیلہ فردوس نے انجام دیے۔ سیمینار میں کراچی کی سول سوسائٹی، کے علاوہ کشمیریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مہمان خصوصی فرزانہ یعقوب نے کہا کہ ہمیں کشمیریوں پر فخر ہے وہ آج بھی ڈٹے ہوئے ہیں۔مقبوضہ کشمیر کے لوگ احتجاج اس لیے کرتے ہیں کہ ان کی جان اور مال بھارت نے غیر قانونی قبضہ کیا ہوا ہے۔ پروینہ آہنگر ایک بہادر عورت تھیں جس سے ہندوستان کی فوج بھی ڈرتی تھی۔ خرم پرویز کشمیر کے حوالے سے لکھتے تھے اور بین الاقوامی سطح کے تسلیم شدہ انسانی حقوق کے کارکن ہیں دو سال سے جیل میں بند ہیں۔ ڈاکٹر قاسم فکتو 33 سال ہو گئے جیل میں اور ان کی بیگم آسیہ اندرابی کو مجموعی طور پر 19 سال، انہوں نےکہا برہان وہانی نے کسی کو قتل نہیں کیا لیکن بھارتی فوج نے اس کا بھی قتل کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کشمیری اپنا کام کر رہے ہیں۔آزاد کشمیر کی حکومت صرف اس جگہ بات کرتی ہے جس کا دروازہ پاکستان کھولتا ہے۔ ہم سے بہت غلطیاں ہوئی ہیں ۔ آزادی کی اس جدوجہد میں نوجوانوں کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ معروف مصنف و کالم نگار بشیر سدوزئی نے کہا کہ کشمیریوں پر 70 سال سے ظلم ہو رہا ہے اس سے کشمیر کی بیٹی ہی متاثرہ ہوئی لیکن مزاحمت سے پیچھے نہیں ہٹی۔ کشمیر میں سات لاکھ سے زائد لوگ شہید ہو چکے ہیں۔ کشمیر ایک جیل کی شکل اختیار کر چکا ہے اور وہاں کے باشندے حتیٰ کہ چرند و پرند بھی پریشان ہیں، وہ جنگلات چھوڑ کر پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرف جا رہے ہیں۔ بھارتی فوجیوں نے ایک رات میں ایک سو خواتین کی عزت پامال کی، مگر ان تمام مظالم کے باوجود خواتین اپنے حق میں آواز اٹھاتی ہیں۔ بشیر سدوزئی نے مزید کہا کہ اتنی جدوجہد کے باوجود ہم ابھی بھی منزل سے دور کھڑے ہیں اور بھارت کے ظلم بڑھتے جا رہے ہیں۔ کراچی میں کشمیر کے حوالے سے پروگرام منعقد کرنے پر میں محمد احمد شاہ کا شکریہ گزار ہو۔ سردار نزاکت نے سیمینار میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی ماؤں اور بیٹیوں نے جو قربانیاں دیں وہ کسی عورت نے آج تک نہیں دیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے اندر آزادانہ ریفرینڈم ہونا چاہیے اور حکومت پاکستان سے درخواست کی کہ کشمیر کے انٹلیکچوئل کو بین الاقوامی سطح پر کشمیر کے وفود میں شامل کریں ۔ سردار آصف خان سدوزئی نے کہا کہ ہر آٹھ کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی تائنات ہے، مگر اس کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد نہیں رکی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی خاتون کی سب سے بڑی طاقت تعلیم ہے اور آزاد کشمیر میں دنیا کی سب سے بہترین تعلیم کا ریشو ہے۔ جمشید حسین نے کہا کہ کشمیر کی بیٹی آج بھی ہماری طرف اور پاکستان کے ایوانوں کی طرف دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں افراد کشمیر میں شہید ہو چکے ہیں اور ہم کشمیر کے وکیل بننے کی کوشش کرتے ہیں مگر ہمیں ڈر سے نکل کر درست انداز میں وکالت کرنی چاہیے۔۔ڈاکٹر صابر ابو مریم نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ بغیر مزاحمت کے حل نہیں ہو سکتا اور فلسطین کی مزاحمت نے بڑی طاقتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے کشمیریوں کو بھی نمائندگی دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ڈاکٹر خالدہ غوث نے کہا کہ ہمیں تمام معاملات کو نئے زاویے سے دیکھنا چاہیے اور عالمی سطح پر کشمیر کی عورتوں کے حوالے سے بے حسی بڑھ چکی ہے۔ کشمیر کی عورتیں بہت بہادر ہیں اور اپنے شوہر اور نوجوان بیٹوں کی لاشیں بہادری سے رخصت کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین کے مسئلے میں بہت مماثلت ہے اور بین الاقوامی سیاست کشمیر کی آزادی کے حق میں نہیں ہے۔