امریکہ میں ایک وفاقی جج نے جمعرات کو برتھ رائٹ سیٹیزن شپ ختم کرنے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کو عارضی طور پر بلاک کر دیا ہے

ٹرمپ کو پہلا جھٹکا، پیدائشی حق کو منسوخ کرنے سے متعلق حکمنامہ عارضی طور پر معطل
ٹرمپ کو پہلا جھٹکا، پیدائشی حق کو منسوخ کرنے سے متعلق حکمنامہ عارضی طور پر معطل
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلا جھٹکا، وفاقی جج نے شہریت کے پیدائشی حق کو منسوخ کرنے سےمتعلق صدر ٹرمپ کا حکمنامہ عارضی طور پر معطل کردیا۔
ایری زونا، الی نوائے، اوریگن اور واشنگٹن ریاستوں نے عدالت کے سامنے معاملہ اٹھایا تھا، 25 منٹ سماعت میں جج نے انتظامیہ کے وکیل سے سوال کیا کہ وکلا کہاں تھے جب ٹرمپ کی ٹیم اس صدارتی حکمنامے کا مسودہ تیار کررہی تھی۔
امریکی و بھارتی سفارتکار ٹرمپ مودی ملاقات کیلئے کوشاں
جج نے کہا کہ اس حکمنامے کی آئینی حیثیت کی وکالت کے دعوے نے دماغ چکرا دیا، چودہویں آئینی ترمیم کے تحت امریکا میں پیدا ہونے والا تقریباً ہر بچہ خود بخود شہریت کا حقدار قرار پاتا ہے۔
جج نے صدر ٹرمپ کا اقدام یکسر غیر آئینی قرار دیدیا، مزید کارروائی تک صدارتی حکمنامہ 14روز کیلئے التوا میں ڈال دیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا منصب سنبھالنے کے دو دن کے اندر یہ واضح پیغام دیا ہے کہ ان کی حکومت چین سے مسابقت میں آگے رہنے کی جانب ایک بھر پور ایجنڈے پر عمل پیرا ہوگی، خاص طور پر جب سوال امریکہ میں مصنوعی ذہانت کے اور اسے ممکن بنانے والی انفرا اسٹرکچر کو ترقی دینے کا ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے کئی سرکردہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے رہنماؤں سے ملاقات کی اور “اسٹار گیٹ” نام کے مصنوعی ذہانت کے انفرا اسٹرکچر منصوبے میں 500 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔























