
سندھ کے عوام یونیورسٹیز کو 35 ارب روپے دیتے ہیں اس لیے نہیں کہ اساتذہ میں چھپی کالی بھیڑیں احتجاج کرتی پھریں ، والدین بچوں کو پڑھنے کے لیے بھیجتے ہیں، افسوس میرے ہاتھوں سے ایک ایسا اہلیت نامہ مسلط کرا دیا گیا جس کے مطابق اب نہ تو شیخ ایاز نہ ڈاکٹر جمیل جالبی نہ نثار صدیق کی جیسا کوئی شخص وائس چانسلر بن سکتا ہے نہ سدھار لا سکتا ہے ۔ قانون بدلنا اسمبلی کا اختیار ہے اساتذہ اپنا کام کریں حکومت کے کام میں رکاوٹ نہ بنیں، پی ایچ ڈی وائس چانسلرز نے ہماری یونیورسٹیز کو تباہ کر دیا ان میں سے اکثریت انتظامی اور مالیاتی امور کی مہارت سے نابلد ہے ہماری حکومت کسی استاد کو وائس چانسلر بننے سے روک نہیں رہی بلکہ مقابلے کے میدان کو وسیع کر رہی ہے وائس چانسلر کو سرچ کمیٹی شارٹ لسٹ کر کے تین نام مجھے بھیجتی ہے وزیراعلی ان تین ناموں میں سے کسی ایک کو چنتا ہے صوبے کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے وزیراعلی کو جو قانونی اختیار حاصل ہے وہ ضرور استعمال کیا جاتا ہے یا تو قانونی اختیار واپس لے لیں ۔ وزیر اعلی اپنے پاس سے کوئی نام مینوفیکچر نہیں کرتا جو تین نام اتے ہیں ان کے انٹرویو کرتا ہے ۔ حکومت اپنی ذمہ داری نبھائے گی اپنا کام کرے گی اور یہ پیغام سب کے لیے واضح ہونا چاہیے ۔ وائس چانسلر اپنی یونیورسٹیز کو سنبھالیں ۔ جب وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اپنی ذمہ داریوں سے ہاتھ اٹھا لیے فنڈز فراہم کرنے سے پیچھے ہٹ گئے تھے تو صوبائی حکومت نے خود ساری ذمہ داری قبول کی سندھ اسمبلی اور صوبائی کابینہ نے اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کیا ہم اپنا کام بھی بخوبی سمجھتے ہیں اور ذمہ داری بھی ۔ وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن پہلے بھی مسائل پیدا کرتا رہا ہے اور اب عملی طور پر کر رہا ہے اور وہاں سے بیٹھ کر اکسایا جا رہا ہے ۔جو خط لکھا وہ حیران کن تھا وہ مجھ سے بات کر سکتے تھے ملاقات کر سکتے تھے اور خط لکھنا بھی تھا تو اس کو پبلک کرنے کی ضرورت نہیں تھی اب ان کے خط کا جواب دے چکا ہوں وہ چاہیں تو پبلک کریں میں ایسا نہیں کروں گا ۔


کراچی (23 جنوری): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ میری بھرپور کاوشوں کے باوجود جنسی طور پر ہراساں کرنے والے وائس چانسلرز کو ہٹائے جانے میں ناکامی پر مایوسی ہوئی اور ایک دوسرے وائس چانسلر کے فرانسیسی ٹیم کے سفری اخراجات کیلئے یونیورسٹی کے اکاؤنٹ سے فنڈز نکالے گئے حالانکہ ٹیم پہلے ہی اپنے ذاتی اخراجات خرچ کرچکی تھی۔ انہوں نے احتجاج کا سامنا کرنے والی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو متنبہ کیا کہ وہ احتجاج ختم کرائیں بصورت دیگر انکا احتساب کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے یہ باتیں بدھ کو ایکسپو میں سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (سندھ ایچ ای سی) کے زیر اہتمام چوتھے ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجی شوکیس 2025 سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ تقریب میں سندھ بھر کی 41 یونیورسٹیوں نے 417 اہم تحقیقی منصوبے پیش کئے جو ٹیکنالوجی اور تحقیق میں صوبے کی تخلیقی صلاحیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ تقریب سے خطاب کرنے والوں میں چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر طارق رفیع اور وی سی این ای ڈی پروفیسر سروش لودھی شامل تھے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وائس چانسلرز کا تقرر سرچ کمیٹی کے ذریعے کیا جاتا ہے اور کہا کہ اس عہدے کے لیے پی ایچ ڈی کم از کم قابلیت ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا پبلک سیکٹر کی یونیورسٹیوں میں سنگین انتظامی حالات کو دیکھتے ہوئے جو کہ تباہی کے دہانے پر ہیں، کابینہ نے انتظامی تجربے کی شرط کو شامل کرنے کیلئے قانون میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا اور بل کو اسمبلی بھیج دیا گیا ہے۔ کچھ وائس چانسلرز اور مفاد پرستوں نے اس ترمیم کے جواب میں احتجاج پر اکسایا ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ اس قانون کا اطلاق کیسے ہوتا ہے۔ میں متعلقہ وائس چانسلرز کو خبردار کر رہا ہوں کہ وہ اپنی یونیورسٹیوں میں احتجاج بند کروائیں بصورت دیگر میں آپ سے حساب لوں گا۔ انہوں نے کہا کہ تین وائس چانسلرز پی ایچ ڈی ہولڈرز ، ڈگریاں اور مطلوبہ شائع شدہ تحقیقی مقالے رکھنے والے سرچ کمیٹی کے ذریعے تقرر کیے گئے لیکن جنسی ہراساں کرنے کے کیسز میں ملوث پائے گئے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے انہیں ہٹانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کیا اور انہیں اپنی مدت پوری ہونے تک اپنے عہدے پر رہنے کی اجازت دی۔ وزیراعلیٰ نے ایک وائس چانسلر کے
معاملے کی بھی نشاندہی کی جس نے دورہ کرنے والی فرانسیسی ٹیم کے سفری اخراجات کیلئے یونیورسٹی کے اکاؤنٹ سے فنڈز نکالے حالانکہ ٹیم پہلے ہی اپنے اخراجات آزادانہ خرچ کرچکی تھی۔ ان تنازعات کے باوجود وائس چانسلر عہدے پر برقرار ہیں اور وزیراعلیٰ انہیں ہٹانے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا یہ بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ہم قانون میں ترمیم کر رہے ہیں – تحفظات قائم کرنے کے لیے کیونکہ ہمارے بچے بہترین وائس چانسلرز کے مستحق ہیں جو یونیورسٹیوں کو مؤثر طریقے سے چلانا اور ملک کے مستقبل کو محفوظ بنانا جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون پی ایچ ڈی اور پروفیسرز کو وائس چانسلر کے طور پر تعینات کرنے سے نہیں روکتا۔ تاہم یہ ان سے دوسرے امیدواروں کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مزید برآں انہوں نے وفاقی ایچ ای سی کی جانب سے موصول ہونے والے خط کے حوالے سے ناراضگی کا اظہار کیا جس میں کہا گیا کہ انہوں نے خط کو سرکاری طور پر بھیجنے سے پہلے میڈیا کو جاری کر کے احتجاج پر اکسایا۔ کانفرنس کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے گھریلو حل کو فروغ دے کر غیر ملکی مصنوعات پر پاکستان کا انحصار کم کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک ملک نظریات کو عملی کامیابیوں میں بدل کر خوشحالی حاصل کرتا ہے۔ انہوں نے ضرورت سے زیادہ درآمدات کے معاشی اثرات پر روشنی ڈالی اور مقامی اختراعات میں فوری سرمایہ کاری کرنے پر زور دیا جو معاشرتی چیلنجوں سے نمٹنے اور غیر ملکی اشیاء پر انحصار کو کم کرتی ہیں۔ سندھ ایچ ای سی کے تعاون کا اعتراف کرتے ہوئے مراد شاہ نے اس کے اقدامات کی تعریف کی،جن میں ریسرچ فنڈنگ، پوسٹ ڈاکٹریٹ ایوارڈز، اور فیکلٹی ڈیویلپمنٹ پروگرام شامل ہیں۔
انہوں نے یونیورسٹیوں پر زور دیا کہ وہ اپنی اکیڈمیا-انڈسٹری پارٹنرشپ کو مضبوط کریں، عالمی کامیابی کی مثالیں بنیں۔ ہماری یونیورسٹیوں کو فوری طور پر مقامی مسائل کے عملی حل تیار کرنے میں طلباء اور محققین کی مدد کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ ذہنیت ہے جس کو ہمیں پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ ایچ ای سی اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے درمیان شراکت کی بھی تعریف کی جس میں ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر ثاقب فیاض مگن نے سہولت فراہم کی۔ اس تعاون سے صنعت کو کمرشلائزیشن کے مواقع کے لیے جدید منصوبوں کی نمائش کی جائے گی۔ تقریب میں موجود نوجوان محققین سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے سندھ اور پاکستان کے مستقبل کی تشکیل میں ان کے اہم کردار پر زور دیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ
آپ کے پاس ہر محقق کے ساتھ زندگیوں کو بدلنے اور ہماری قوم کو مضبوط کرنے کی طاقت ہے۔ وزیراعلیٰ نے علم کے عملی استعمال کے ذریعے اعلیٰ تعلیم اور کمیونٹی کی ترقی کیلئے سندھ حکومت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب کا اختتام اس پیغام سے کیا کہ آج کا شوکیس ہم سب کو اعلیٰ مقصد اور عظیم سنگ میل حاصل کرنے کی ترغیب دے۔ اس تقریب میں سفارت کاروں، وائس چانسلرز، محققین، اور صنعت کے رہنماؤں نے شرکت کی جو سندھ میں معاشی ترقی اور تکنیکی ترقی کی راہ ہموار کرنے کیلئے اکیڈمی اور صنعت کو پلنے کے وژن کے ساتھ متحد ہیں۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ، وزیراعلیٰ سندھ

























