این ای ڈی یونیورسٹی کو بچانے کی مہم ، کس کا کیا کردار ہے ؟

نادر شاہ ایڈلجی ڈن شاہ یونیورسٹی اف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کو بچانے کی مہم ، کب کب کیا کچھ ہوتا رہا ، ایک کالج سے ایک یونیورسٹی کا سفر کیسے طے ہوا ؟ کس کس کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیسے یہ خیال ایا اور کس طریقے سے مشکلات پر قابو پایا گیا ، اگر اس موقع پر چند شخصیات بہادری کا مظاہرہ کر کے آواز نہ اٹھاتی تو یونیورسٹی کا نام بدل چکا ہوتا ۔ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر جمیل احمد خان کی زبانی بہت سے حقائق کا پتہ چلتا ہے اس حوالے سے ان کی ویڈیو ضرور دیکھیں اور ان کی زبانی سنیں کہ کیا کچھ ہوا تھا کس طریقے سے کیا مسائل تھے جن سے نمبر 10 ماہ ہونے کے لیے میدان میں اترنا پڑا اور کس طرح سے سندھ اسمبلی کا بل پیش ہوا اس سے پہلے انہوں نے بتایا کہ جب کالج تھا تو اس کا انتظامی کنٹرول ایک موقع پر ورکس ڈیپارٹمنٹ کے پاس تھا بعد میں ویسٹ پاکستان کی وزارت تعلیم کے پاس چلا گیا اور اس کے بعد جب دوبارہ صوبے بحال ہوئے تو صبح سندھ کے محکمہ تعلیم کے پاس آگیا وہ تاریخ بتاتے ہیں کہ کس طرح لاہور اور ڈھاکہ میں دو یونیورسٹیز بنانے کا فیصلہ ہوا

تو اس کے بعد پھر کراچی میں این ای ڈی کالج کو یونیورسٹی بنانے کی راہ ہموار ہوئی ۔ ابتدا میں تو زمین کا حصول بھی بڑا مسئلہ تھا جس کے لیے کمشنر فضلی نے بڑا ساتھ دیا اور کراچی یونیورسٹی کے 400 ایکڑ میں سے 100 ایکڑ لے کر دیے گئے این ای ڈی یونیورسٹی کی ایک لمبی اور تاریخی کہانی ہے جو ضرور پڑھنی چاہیے اور اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنی چاہیے این ای ڈی یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلبا نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں یونیورسٹی اور پاکستان کا نام روشن کیا ہے اور یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر سروش حشمت لودھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس یونیورسٹی کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے قابل ترین اسٹوڈنٹس ہیں جن کی قابلیت اور محنت کی وجہ سے یہ یونیورسٹی اپنا مقام برقرار رکھے ہوئے ہے اور یہ ہمیشہ رہے گا ۔