ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے سے پاک امریکہ تعلقات ؟

ون پوائنٹ
نوید نقوی
صرف چند گھنٹوں بعد امریکہ میں نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیں گے، اپنی حلف برداری کی تقریب میں پاکستان سے چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کو مدعو کر کے انہوں نے انڈین تجزیہ نگاروں کے منہ پر تماچہ مارا ہے کہ ان کی خارجہ پالیسی میں پاکستان مرکزی حیثیت حاصل نہیں کر سکے گا، خیر یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کہ امریکہ کے لیے مودی کا منافق انڈیا سود مند ہے یا پاکستان جو ہمیشہ انسانی حقوق کا علمبردار رہا ہے۔ اب آتے ہیں ذرا جناب ڈونلڈ ٹرمپ کے تعارف کی طرف، پہاڑی دماغ کے ساتھ قد چھ فٹ تین انچ ، عمر 78 برس، نسلی شجرہ چونکہ جرمن ہے اس لیے منہ پھٹ اور بہادر مزاج ہیں، فرقہ پروٹسٹنٹ، رہائشی پتہ نیویارک ہے ، یونیورسٹی آف پنسلوینیا سے گریجویٹ ہیں، جناب کی ایک اور خوبی یا خامی سمجھ لیں معاشقے بیسیوں کیے ہیں، شادیاں تین کی ہیں جس میں دو کو طلاق دے چکے، بچے پانچ، پوتے پوتیاں نواسے نواسیاں سات ، ذاتی دولت کا اندازہ چھ ارب ڈالرز ،عمدہ کھانے کے بے حد شوقین ہیں، این بی سی کے مقبول رئیلٹی شو اپرینٹس کے بارہ برس تک اینکر رہے ہیں۔ مگر بنیادی وجہ شہرت والد سے ورثے میں ملا رئیل اسٹیٹ کاروبار ہے۔ اس کاروبار کو بنیاد بنا کر دیگر کاروباری شعبوں میں بھی ہاتھ ڈالا اور کامیابی حاصل کی، ٹرمپ ماڈل مینجمنٹ کے تحت 1995 سے مس یونیورس اور مس یو ایس اے مقابلے بھی منعقد کروا رہے ہیں۔
ٹرمپ کو سیاست میں آنے کا شوق شروع سے ہی تھا لیکن شہرت سنہ 2011 میں ملی جب اس نے سابق صدر باراک اوباما کی امریکی شہریت چیلنج کی۔ اوباما نے جب ریاست ہوائی کا برتھ سرٹیفکیٹ لہرا دیا تو ٹرمپ نے پینترا بدل کر کہا خدا معلوم نقلی ہے کہ اصلی ہے میں نے تو امریکیوں کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ ٹرمپ الفاظ کے جادوگر ہیں اس لیے ان کے چھیاسٹھ فیصد حامیوں کو آج بھی یہ یقین ہے کہ اوبامہ نہ صرف غیر ملکی بلکہ مسلمان بھی تھے اور ہم پر صدارت کی، یہ ہوتی ہے الفاظ کی جادوگری، موصوف کی ایک خوبی جو میں پہلے ہی بیان کر چکا ہوں جو منہ میں آئے کہہ ڈالتے ہیں۔ جن میں سے چند درج ذیل ہیں تاکہ آپ کے بھی چودہ طبق روشن ہو سکیں کہ ہمیں کس طرح پھونک پھونک کر قدم اٹھانے ہیں تاکہ وطن عزیز کی ترقی کی راہ میں اگر کوئی رکاوٹ پیدا ہو تو کس طرح نمٹنا ہے۔
سابق امریکی صدر جمی کارٹر ایرفورس ون سے اترتے ہوئے اپنا بیگ خود اٹھاتے تھے، اسی وجہ سے ٹرمپ صاحب ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ کارٹر شریف آدمی تھے لیکن ہمیں ایسا صدر چاہیئے جو باہر نکل کے تشریف پے ٹھڈا رسید کرے اور جیت جائے نہ کہ انڈر وئیرز سے بھرا بیگ اٹھاتا پھرے۔
امریکی صدارتی امیدواروں کو اپنی انتخابی مہم چلانے کے لیے چندوں اور سپانسر شپ کی ضرورت ہوتی ہے، مگر ارب پتی پراپرٹی ٹائیکون ڈونلڈ ٹرمپ کو کبھی چندے کی حاجت نہیں رہی اور سونے پہ سہاگا کے مصداق دنیا کا امیر ترین شخص ایلون مسک بھی ان کا ہم مزاج اور پیٹی بھائی ثابت ہوا ہے۔ اب یہ دونوں امریکہ کو ایک کاروبار کی طرح چلائیں گے، ان کا یہ بیان کافی شہرت حاصل کر چکا ہے کہ صدر بننے کے بعد وہ میکسیکو سے ملنے والی سرحد پر اونچی دیوار بنائیں گے اور خرچہ میکسیکو سے وصول کریں گے اس کے علاوہ وہ کینیڈا کو کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ضم ہو کر گریٹ امریکا بن جاؤ ورنہ تم کو بھری دنیا میں ہم سے کون بچا پائے گا؟ وہ پانامہ کینال پر مکمل قبضے کی بات کرتے وقت یہ نہیں سوچتے کہ باقی دنیا کیا سوچے گی۔ ان کے ذہن میں چین سوار ہے کیونکہ پاناما اتھارٹی نے چین کے ساتھ کئی معاہدے کیے ہیں۔ یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ گریٹر اسرائیل کے پرزور حامی ہیں اور جب وہ گریٹر اسرائیل کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب فلسطینیوں کا مکمل صفایا ہے۔
امریکی معیشت کے تحفظ کے لیے ٹرمپ کی تجویز یہ ہے کہ چینی مصنوعات پر ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے، جس کے جواب میں چین بھی سخت اقدامات کر رہا ہے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کا مقابلہ کیا جا سکے کیونکہ یوکرین، روس اور اسرائیل غزہ میں جاری جنگیں ختم کر وا کر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ساری توجہ چین پر کرنا چاہتا ہے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ ان کے آنے سے دنیا میں ہنگامہ آرائی میں اضافہ ہوگا کیونکہ وہ امریکی قوم کی محبت میں دوسری قوموں کے حقوق غصب کرنے کا کھلم کھلا اعلان کر رہے ہیں، چند دن قبل ڈنمارک کے زیر کنٹرول جزیرے گرین لینڈ اور پاناما کینال کی ملکیت حاصل کرنے کے لیے فوجی مداخلت کے امکان کے بارے میں بات کر کے بہت سے لوگوں کو نہ صرف بے چین کر دیا ہے بلکہ یہ بیان ظاہر کرتے ہیں کہ ٹرمپ کے آنے سے دنیا میں خاص طور پر امریکی سیاست میں غیر معمولی ہلچل مچی رہے گی۔ یہ بات حقیقت ہے گرین لینڈ اور پاناما کینال اسٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں
اور اس میں کوئی شک نہیں یہ امریکہ کی اقتصادی و دفاعی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ گرین لینڈ، ڈنمارک کا ایک خود مختار خطہ اور دنیا کے سب سے کم آبادی والے علاقوں میں سے ایک ہے لیکن اس سب سے بڑھ کر یہ خطہ معدنیات کی دولت سے مالامال ہے۔ اب آتے ہیں پاکستان کی طرف نو منتخب امریکی صدر چین کو امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں اور چین ہمارا پڑوسی اور سب سے بڑا دوست ہے، اس لیے ہو سکتا ہے ٹرمپ پاکستان پر چینی حوالے سے دباؤ ڈال کر کچھ بڑا کرنے کی سوچے، عالمی بساط پر چاہے جو بھی ہو ہمیں اپنے ملک کے مفاد کو مقدم رکھنا ہے کیونکہ پہلے بھی ہم نے افغانوں سے صلہ پا لیا ہے قربانی دے کر، اب مزید نہیں، صرف پاکستان