
نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی بائیڈن انتظامیہ کے کئی احکامات الٹ دئیے ہیں۔امریکا موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق پیرس معاہدے سے پھر باہر ہوگیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کردیے۔ بائیڈن کا 2030 تک الیکٹرک گاڑیوں کا ہدف پچاس فیصد کرنے کا آرڈر بھی منسوخ کردیا گیا۔ مصنوعی ذہانت پالیسی سے متعلق بائیڈن کا ایگزیکٹو آرڈر منسوخ ہوگیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی بھرتیاں روکنے کے حکم نامے سمیت بائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات کو منسوخ کرنے کے دستاویز پر دستخط کیے۔ جس میں اظہار رائے کی آزادی اور سنسر شپ ختم کرنے کا ایگزیکٹو آرڈر پر بھی شامل ہے۔
علاوہ ازیں، کیپٹل ہل حملے میں ملوث 15 سو افراد کو معافی دینے کے آرڈرز پر بھی دستخط کردیے گئے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا سرحدوں پر ایمرجنسی نافذ کرنے اور غیر قانونی تارکین کو واپس بھیجنے کا اعلان
امریکا کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد اپنے خطاب میں ”سب سے پہلے امریکا“ کا نعرہ لگادیا اور انہوں نے اپنے ملک اور قوم کو دنیا بھر میں عظیم بنانے کا اعلان کرتے ہوئے حکومتی پالیسز جاری کردیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی سرحدوں پر ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے غیر قانونی تارکین کو واپس بھیجنے کا بھی اعلان کیا۔
وائٹ ہاؤس میں دوسری دفعہ امریکی صدارت کا حلف اٹھانے کے بعد اپنے خطاب کے آغاز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آج سے امریکا کا نیا اور سنہرا دور شروع ہورہا ہے، ہم دنیا بھر میں امریکا کو نیا مقام اور عزت دلوائیں گے، ہم کسی بھی ملک کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہمارا فائدہ اٹھائیں، ٹرمپ انتظامیہ میں ہر ایک دن میں ’امریکا سب سے پہلے‘ کے نظریے پر کار بند رہیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ قانون کی بالادستی اور ملک کا تحفظ یقینی بنائیں گے، مزید کہا کہ ہماری ’اولین ترجیح‘ ایک آزاد، قابل فخر اور خوشحال قوم بنانا ہے، امریکا جلد ہی پہلے سے زیادہ طاقتور، مضبوط اور غیر معمولی ہو جائے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ پر امید ایوان صدر میں واپس آئے ہیں کہ ہم قومی کامیابی کے ایک سنسنی خیز نئے دور کے آغاز پر ہیں، مزید کہنا تھا کہ ملک میں تبدیلی کی لہر پھیل رہی ہے، امریکا کے پاس پوری دنیا میں فائدہ اٹھانے کا موقع ہے، جو پہلے کبھی نہیں تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے 47 ویں صدر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا
اپنے اوپر قاتلانہ حملے کی بابت بات کرتے ہوئے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کو اعتماد کے بحران کا سامنا ہے، کئی برسوں سے ایک بنیاد پرست اور بدعنوان اسٹیبلشمنٹ نے ہمارے شہریوں سے طاقت اور دولت چھین لی ہے جبکہ ہمارے معاشرے کے ستون ٹوٹ چکے ہیں اور بظاہر مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکومتیں امریکی شہریوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہیں، اور خطرناک مجرموں کو پناہ اور تحفظ فراہم کیا ہے، جو دنیا بھر سے ہمارے ملک میں غیرقانونی طریقے سے داخل ہوئے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے تباہی کے وقت ڈیلیور نہ کرنے اور تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ وسائل استعمال کرنے پر امریکی صحت عامہ کے نظام پر بھی تنقید کی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آج سب چیزوں کی تبدیلی شروع کرنے کا دن ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے عہد کیا کہ اس لمحے سے امریکا کا زوال ختم ہو گیا ہے،
امریکی صدر نے کہا کہ گزشتہ 8 برسوں سے 250 سالہ تاریخ میں کسی بھی صدر سے زیادہ مجھے آزمایا اور چیلنج کیا گیا، اور میں نے اس سب سے بہت کچھ سیکھا ہے۔
پینسلوینیا میں قاتلانہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے خدا نے بچایا تاکہ میں امریکا کو دوبارہ عظیم بناسکوں، جس پر حاضرین نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔
نومنتخب امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ محب وطن امریکیوں کی ہر ’نسل، مذہب، رنگ‘ کے شہریوں کے لیے امید، خوشحالی اور تحفظ لائے گی، انہوں نے اعلان کیا کہ 20 جنوری 2025 آزادی کا دن ہے، قومی اتحاد اب امریکا واپس لوٹ رہا ہے۔
’جنوبی سرحد پر قومی ایمرجنسی لگانے کا اعلان‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی سرحدوں پر ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے غیر قانونی تارکین کو واپس بھیجنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ اس معاملے میں ہماری میکسیکو والی پالیسی ہے۔ ہم اپنے لوگوں کو انصاف، صحت کی سہولیات اور گھر کی دہلیز پر انصاف فراہم کریں گے۔
صدر اور وزیراعظم کی ڈونلڈ ٹرمپ کو حلف اٹھانے پر مبارکباد
راز افشاں کرنے کی دھمکی اور ٹرانس جینڈرز کے خلاف کارروائی، عہدہ سنبھالنے سے قبل ٹرمپ کے اعلانات نے امریکہ کو ہلا دیا
ٹرمپ نے کہا کہ میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑا ہوں اور اُن کے لیے لڑوں گا، اس لڑائی میں انہیں فتح دلواؤں گا۔
نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا، جس کے بعد وہ امریکا کے 47 ویں صدر بن گئے اور دوسری بارعہدہ صدارت کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔
حلف برداری تقریب امریکی آئین کے تحت کیپٹل ہل واشنگٹن ڈی سی میں منعقد کی گئی، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری مدت کے لیے امریکا کے 47ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا، امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے ڈونلڈ ٹرمپ سے حلف لیا جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔
واشنگٹن ڈی سی میں شدید سردی کے باعث 40 سال بعد حلف برداری کی تقریب ان ڈور ہوئی، ڈونلڈ ٹرمپ کے حلف اٹھاتے ہی توپوں کی سلامی دی گئی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا خطاب
حلف برداری کے بعد اپنے صدارتی خطاب کے آغاز میں ڈونلڈ ٹرمپ نے جوبائیڈن، بل کلنٹن، جارج ڈبلیو بش اور تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امریکا کا سنہری دور شروع ہوگیا ہے، ہمارا منشور سب سے پہلے امریکا ہوگا، امریکا کو قابل فخر، خوشحال اور اقوام میں سرفہرست ملک بنائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو بہت جلد ایک مضبوط، عظیم اور پہلے سے کہیں زیادہ قابل فخر ملک بنائیں گے اور اس کی خودمختاری دورہ حاصل کریں گے، ہمارا ملک ترقی کرے گا اور پوری دنیا میں دوبارہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ میری اولین ترجیح ایک ایسا ملک قائم کرنا ہے جو آزاد اور مضبوط ہو۔ اپنے خطاب کے دوران امریکی صدر ٹرمپ نے نائب صدر وینس، اسپیکر جانسن، سابق صدور کو مخاطب کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آج امریکا کے سنہری دور کا آغاز ہوگیا ہے، سب سے پہلے امریکا کی پالیسی کو یقینی بنائیں گے، ملک بھر میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں گے۔امریکا کو دوبارہ خود مختار بنائیں گے، امریکا کو دوبارہ عظیم بنائیں گے، ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے کو سیکیورٹی فراہم کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کچھ عرصے پہلے مجھ پر قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا، لاس اینجیلیس کی آگ سےمتاثرہونے والوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔امریکا کے برے دن ختم ہوگئے ہیں،غیر قانونی مقیم افراد کو واپس بھیجا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی سرحدوں پرنیشنل سیکیورٹی کا اعلان کیا۔ اور کہا کہ امریکا میں مہنگائی کو ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں گے، شہریوں پر ٹیکس کے بجائےدوسرےممالک میں ٹیرف لگائیں گے، سنسرشپ کو ختم کرکے اظہار رائے کی آزادی کو واپس لائیں گے، امریکا کی فوج کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامت کریں گے، امریکا ایک بار پھر دنیا کا سپر پاور ملک بنے گا۔
قبل ازیں ڈونلڈ ٹرمپ تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ساتھ کیپٹل ہل پہنچے جبکہ تقریب حلف برداری میں سبکدوش ہونے والے صدر جو بائیڈن، سابق صدور بل کلنٹن، جارج ڈبلیو بش، اور براک اوباما تقریب میں شریک ہوئے، ان کے ہمراہ ان کی بیویاں بھی تھیں تاہم سابق خاتون اول مشیل اوباما تقریب میں شریک نہیں ہوئیں۔
ٹیکسلا، ایکس اور اسٹار لنک کے بانی ایلون مسک، گوگل کے سی ای او سُندرپچائی، میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ اور ٹک ٹاک کے سی ای او شو چیو بھی تقریب میں شامل تھے، حلف برداری سےقبل کیپٹل ون ایرینا میں ٹرمپ کی جیت کی خوشی میں ریلی نکالی گئی۔
حلف اٹھانے سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ساتھ چرچ کی دعائیہ تقریب میں شرکت کی، ٹرمپ کے ساتھ چرچ میں نائب صدر جے ڈی وینس اور ان کی اہلیہ اوشا وینس بھی شریک تھیں۔
حلف اٹھانے سے پہلے سینیٹ جانز چرچ میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ وائٹ ہاؤس پہنچے جہاں سبکدوش ہونے والے امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کی اہلیہ جل بائیڈن نے ان کا استقبال کیا۔
جوبائیڈن اور ان کی اہلیہ جل بائیڈن وائٹ ہاؤس کے گیٹ کے باہر ڈونلڈ ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ کو خوش آمدید کہا، دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا جس کے فوٹو شوٹ کروایا گیا۔
امریکا کی روایات کے مطابق حلف اٹھانے سے پہلے سبکدوش ہونے والے امریکی صدر نے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ کے لیے چائے اور کافی کا اہتمام کیا، وائٹ ہاؤس میں چائے اور کافی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کیپیٹل ہل کی بلڈنگ کی جانب روانہ ہوئے۔
Donald Trump
Trump’s inauguration
capital Hill
Donald Trump
US President
Washington























