
ن والقلم ۔۔۔مدثر قدیر
ریڈیو لاہور کے فتح دین،اوما دیوی اور اوم کار نئیر
ریڈیو لاہور ایک طلسم ہے اور اس طلسمات کو تخیلاتی تصور بنانے والوں میں جن فن کاروں نے کردار ادا کیا ان کی فہرست بہت طویل ہے مگر ان فن کاروں صداکاروں میں کچھ ایسے بھی تھے جو سال کے پہلے مہینے لاہور ہی میں پیدا ہوئے اور ان کا استاد ریڈیو لاہور کہلایا ان میں پہلا نام اوما دیوی کا ہے ۔اوما دیوی کون ہے اس بارے میں بتاتا چلو ں کہ جب 2013ئ میں ریڈیو لاہور کے 75سال مکمل ہونے پر میں نے اپنا ریڈیا ئی پروگرام لکھا اور کچھ تحقیق کی تو ایک انٹرویو میری سماعتوں سے گذرا جس میں ایک خاتون کہہ رہی تھیں کہ اصلی نام میرا اوما اور میرا استاد ریڈیو لاہوراوریہ اوما دیوی ہیں اداکاراہ کامنی کوشل جو اب بھی بقید حیات ہیں ۔ کامنی کوشل 16 جنوری 1927 کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد، پروفیسر شیورام کاشپ، ایک مشہور نباتاتی ماہر تھے اور ہندوستانی نباتیات کے بانی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ لاہور کے مشہور بوٹینیکل گارڈن کے بانی اور سائنس کانگریس کے صدر بھی تھے۔ کامنی کوشل نے لیڈی میکلاگن گرلز ہائی اسکول سے تعلیم حاصل کی اور پھر گریجویشن کے لیے لاہور کے کنیرڈ کالج برائے خواتین میں داخل ہوئیں۔کامنی کوشل نے ابتدائی عمر میں ہی تیراکی، سائیکلنگ، گھڑ سواری، اور اسکیٹنگ جیسے کھیلوں اور غیر نصابی سرگرمیوں میں دلچسپی لی۔ ان کا فنون کی طرف رجحان ریڈیو لاہور کے بچوں کے پروگرام سے ظاہر ہوا، جو ان کے فنکارانہ سفر کی شروعات تھی۔ان کا دلکش انداز، بچوں جیسی معصومیت، اور ایک ہنسی جو دلوں کو گرما دیتی ہے۔ کامنی کوشل ایک سپر اسٹار، اداکارہ، بچوں کی کہانیوں کی مصنفہ، پتلی تماشا آرٹسٹ، وائس اوور آرٹسٹ، اور ایک بےحد خوبصورت اور منکسر المزاج انسان ہیں،ان کا فلمی دنیا میں داخلہ ایک دلچسپ واقعہ تھا۔ معروف ہدایتکار چیتن آنند، جو ان کے بڑے بھائی کے قریبی دوست تھے، اپنی پہلی فلم “نیچا نگر” کے لیے مرکزی کردار کی تلاش میں تھے۔ انہوں نے کامنی کو یہ کردار پیش کیا، لیکن انہوں نے اسے مسترد کر دیا۔ بعد میں، چیتن آنند اور ان کی بیوی اوما آنند نے انہیں بمبئی میں دوبارہ آمادہ کیااور اپنے بھائی کی حوصلہ افزائی پر انھوں نے یہ کردار قبول کرلیا۔فلمنیچا نگر (1946) نے کانز فلم فیسٹیول میں پالمے ڈی اور (گولڈن پام) جیت کر کامنی کو عالمی سطح پر شہرت دی۔
کامنی کوشل پر 1948 میں لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر کے فنی سفر کا پہلا گانا فلمایا گیا۔ ان کی دیگر نمایاں فلموں میں آگ (1948)، شہید (1947)،آرزو (1950)، اور بیرج بہو (1954) شامل ہیں۔ بیرج بہو کے کردار کے لیے انہیں 1956 میں فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔کامنی کوشل نے بچوں کے لیے کئی مشہور پروگرامز بنائے جیسے “کھیل کھلونے”، “چاند ستارے”، اور “چنداماما”۔ وہ ایک کامیاب پتلی تماشا آرٹسٹ بھی رہیں۔کامنی کوشل کو 2015 میں فلم فیئر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور بی بی سی کی 100 خواتین ایوارڈ سے نوازا گیا۔ریڈیو لاہور کی دوسری بڑی فن کار شخصیت اوم پرساد نئیر جو او پی نئیر کے نام سے مشہور ہوئے ان کا نک نیم بابوجی تھا ،اپنی اکھڑ اور بکھڑ طبیعت کے مالک موسیقار اوم کار پرساد، اوپی نئیر نے 10سال کی عمر میں پہلی پرفارمنس ریڈیو لاہور سے دی ویسے ہی جیسے میں نے 8سال کی عمر میں ریڈیو لاہور سے بچوں کے پروگرام میں شامل ہو نظم سنائی۔اوپی نئیر نے نوجوانی کا دور ریڈیو لاہور میں گزارا اور لاہور کالج فار وومن جو اب یونیورسٹی بن چکی ہے اس کی پرنسپل کو موسیقی سکھانے کے ساتھ معاشقہ بھی کیا،ان کی زندگی کا اہم موڑ 1955میں آیا جب وہ ہدایتکار گرودت کے سرکل میں آئے اور فلم باز کے بعد فلم آرپار کا میوزک سپرہٹ ہوا۔او پی نیر اپنی منفرد دُھنوں، شرارتی موسیقی، اور مشہور “ٹانگے بیٹ” کے استعمال کی وجہ سے مشہور تھے۔ وہ اپنی کامیاب موسیقی کے لیے جانے جاتے تھے اور اُن کی کئی فلمیں، جیسے “سی آئی ڈی”، “مسٹر اینڈ مسز 55،”،نیا “دور”، “تم سا نہیں دیکھا”، “ہاوڑہ برج”، “ایک مسافر ایک حسینہ”،”کشمیر کی کلی”، “میرے صنم”، “پھر وہی دل لایا ہوں”، اور “بہاریں پھر بھی آئیں گی”، ان کی ترتیب دی ہوئی موسیقی کے عظیم شاہکار ہیں۔وہ 16 جنوری 1926 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک متوسط طبقے کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جن کا موسیقی کی صنعت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کے والد ایک مقامی میڈیکل اسٹور میں کیمسٹ کے طور پر کام کرتے تھے۔ نیر نے بچپن میں ہی مقامی گائیکی کے مقابلوں اور تقریبات میں حصہ لے کر موسیقی میں اپنی دلچسپی ظاہر کی۔ رسمی موسیقی کی تربیت نہ ہونے کے باوجود، ان کی قدرتی موسیقی کی صلاحیتوں اور نرم آواز نے سب کو متاثر کیا۔
او. پی. نیر کا موسیقی کے میدان میں سفر بہت کم عمری میں شروع ہوا، جب وہ 11 سال کی عمر میں آل انڈیا ریڈیو، لاہور میں آرٹسٹ بنے۔ 17 سال کی عمر میں انہوں نے دو گانے کمپوز کیے، جن میں سے ایک”پریآں ملو”، جو سی. ایچ. آتما نے گایا، بہت مقبول ہوا۔ 1947 میں ہندوستان کی تقسیم کے بعد، نیر امرتسر اور پھر بمبئی منتقل ہوگئے، جہاں انہوں نے 1940 کی دہائی کے اواخر میں کام شروع کیا۔ ان کو پہلا موقع فلم “کنیز” (1949) کے لیے پس منظر موسیقی ڈائریکٹر کے طور پر ملا۔1950کی دہائی میں نیر نے “آر پار” (1954) جیسی فلم کے ساتھ شہرت حاصل کی۔ اس فلم کے گانے، جیسے “بابوجی دھیرے چلنا”، “کبھی آر، کبھی پار”، اور “جا جا جا جا بےوفا” نے ان کو کامیابی کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ 1957 میں “نیا دور” فلم نے انہیں فلم فیئر ایوارڈ جتوایا۔او. پی. نیر کے موسیقی کے منفرد انداز، متحرک دھنوں، اور جدید آلات کے استعمال نے ان کو اپنے دور کے دیگر موسیقاروں سے ممتاز بنایا۔ ان کے تخلیق کردہ کئی گانے آج بھی کلاسک مانے جاتے ہیں۔ ان کی موسیقی کا جادو آج بھی سامعین کے دلوں میں زندہ ہے، اور وہ ہمیشہ فلمی موسیقی کے سنہری دور کے اہم ستون کے طور پر یاد کیے جائیں گے۔ریڈیو لاہور کا فتح دین میرا فیورٹ کیریکٹر ایکڑ اوم پرکاش 19دسمبر 1919میں جموںمیں پیدا ہوا مگر اس کا خاندان ہجرت کرکے اندرون لاہور متی چوک شفٹ ہوگیا ۔ریڈیو لاہور کا جب1937میں آغاز ہوا تو انھوں نے ریڈیو لاہور کا رخ کیا اور18سال کی عمرمیں 25 روپےماہوار تنخواہ پر ملازم ہوگئے اوردیہاتی بھائیوں کے پروگرام سے منسلک ہونے کے ساتھ فتح دین کا نام مستعار کیا اور اسی فتح دین کی شہرت انھیں فلموں کی طرف لے گئی اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے ایک بار بتایا کہ وہ فلموں کے لیے کام مانگنے پنچولی اسٹوڈیو گئے جہاں دل سکھ پنچولی سے ان کی ملاقات ہوئی اور میںنے اپنا نام اوم پرکاش ان کو بتایا تو سیٹھ نے کوئی لفٹ نہیں کرائی مگر بعد میں جب کہا کہ میں فتح دین ہوں ریڈیو والا تو فورا مجھے فلم میں کام مل گیا۔سیٹھ دل سکھ پنچولی کے ادارے پنچولی آرٹ پروڈکشنزنےاس زمانے میں دھوم مچا رکھی تھی۔ اوم پرکاش کو سب سےپہلے انہوں نے اپنی فلم ’’داسی‘‘ میں موقع دیا۔ یہی فلم ان کی شناخت بن گئی۔ تقسیم ہندکے بعد وہ لاہور سے دہلی چلے گئے اور پھر ممبئی کیلئے رخت سفر باندھا۔ اوم پرکاش میں ایک کامیاب فلمی اداکار بننےکی بھرپور صلاحیتیں موجود تھیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک ورسٹائل اداکار تھے۔ انہوں نےفلم’دس لاکھ‘ میں ولن کا کردار بھی ادا کیا۔ اس کے بعد انہیں ’لاہور، چار دن اور رات کی رانی‘ میں کردار ملے جو انہوں نے بڑی کامیابی سے ادا کیے۔ اس کے بعد انہوں نے دلیپ کمار کی مشہور فلم’’آزاد‘‘ میں کام کیا۔ پھر انہوں نے راج کپور اور کشور کمار کے ساتھ بھی کام کیا۔ اشوک کمار اور مدھو بالا کی فلم ’ہائوڑابرج‘ میں بھی ان کی اداکاری کو بہت پسند کیا گیا۔ فلم ’تیرے گھر کے سامنے‘ میں وہ دیوآنند کے ساتھ جلوہ گر ہوئے۔
ان کی مشہور فلموں میں ’دس لاکھ، ان داتا، چرن داس، سادھو اور شیطان، دل، دولت، دنیا، چپکے چپکے، جولی، گوپی، پیار کیے جا، جورو کا غلام، آگلے لگ جا، بڈھا مل گیا، نمک حلال، شرابی، بھروسہ، تیرے گھر کےسامنے، امر پریم، میرے ہمدم میرے دوست، لوفر اور دل تیرا دیوانہ‘ شامل ہیں۔ اوم پرکاش نے 307فلموں میں کام کیا اور ہرطرح کے کردار ادا کیے۔ مکالمے بولنے کا ان کا اپنا ہی انداز تھا۔ اوم پرکاش ایک منجھے ہوئے کامیڈین بھی تھے۔ اس حوالے سے ان کی فلموں ’نمک حلال، نوکر بیوی کا اور چمیلی کی شادی‘کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ’چپکے چپکے اور پیار کیے جا‘بھی اس لحاظ سے قابل ذکر فلمیں ہیں۔ ’پیار کیے جا‘ میں محمود کے ساتھ ان کی مزاحیہ اداکاری کو لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔ وہ فلم ’سنجوگ، جھرنا اور گیٹ وے آف انڈیا‘ کے فلمساز بھی تھے اور رائٹر بھی۔ فلم ’’گوپی‘‘ کا ذکر بہت ضروری ہے۔ اس فلم میں وہ دلیپ کمار کے بڑے بھائی بنے تھے اور اس فلم میں ان کا فن اوج کمال کو پہنچ گیا تھا۔ 21؍فروری1998ءکو فلمی صنعت کا یہ بے بدل اداکار اس جہان فانی سے رخصت ہوگیا۔ ریڈیو لاہور کے فن کار آج بھی اپنے نام اور کام کی بدولت تصویروں میں زندہ ہیںاور ایسے لوگ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔























