کامریڈ خدا گنج بلوچ کو سرخ سلام

تحریر: نور آسکانی

خدا گنج بلوچ 25 اکتوبر 1963 کو کلری لیاری کراچی کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوۓ۔ان کے والد کا نام عبدالغفور تھا جسے لوگ ملا ملنگ کے نام سے جانتے اور پکارتے تھے۔ملا ملنگ مذہبی مراسم ادا کرتے تھے اور نکاح خوان تھے۔جبکہ کراچی پورٹ ٹرسٹ میں ملازمت کرتے تھے۔ان کا خاندانی علائقہ مبارک ولیج تھا جبکہ کامریڈ خدا گنج کے والدہ کا تعلق بلیجی بنگلو سے تھا آج بھی ان کے رشتہ دار مبارک ولیج اور بلیجی بنگلو میں رہائش پزیر ہیں۔کامریڈ خدا گنج بلوچ کے خاندان کا شمار کراچی کے انڈیجنیس لوگوں میں ہوتا ہے جو کراچی شہر کے اصل اور بنیادی باشندے ہیں خدا گنج بلوچ کا خاندان ممسنی ”محمد حسنی“ بلوچ ہے۔
خدا گنج نے اپنی ابتدائ تعلیم کلری وشو اسکول کامیلا سے شروع کی بعد میں عبدالللہ ہارون کالج اور کراچی یونیوسٹی میں اعلی تعلیم حاصل کی۔یونیورسٹی میں ڈبل ایم اے کی ڈگری پولیٹیکل اور سوشل سائنس میں حاصل کی۔زمانہ طالبعلمی میں ہی فشرمین کوآپریٹیو سوسائٹی FCS میں جونیر کلرک کی ملاز مت حاصل کی۔آہستہ آہستہ ترقی کرتے آفیسر کے عہد تک پہنچے اپنے ادارہ میں مارکیٹنگ مینجر کے عہدہ پر فائز ہوۓ۔
کامریڈ خدا گنج بلوچ نے اپنی تعلیم کے دوران شام کے وقت محلہ کے بچوں کو پڑھانے کے لیے ٹیوشن کا سلسہ شروع کیا۔ایک کمرہ پر محیط اس ٹیوشن میں روزانہ چار گھنٹے مختلف کلاس کے بچوں کو درس دیتے تھے۔آپ لیاری میں ماسٹر خدا گنج کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔

لیاری میں کلری کا علائقہ سیاسی اور نظریاتی طور پر باشعور لوگوں کا علائقہ جانا جاتا ہےلیفٹ اور بلوچ سیاست میں اس علائقہ کا اہم کردار رہا ہے اس لیے اس علائقہ میں ترقی پسند رہنماؤ کا آنا جانا رہا ہے۔میر غوث بخش بزنجو۔ولی خان۔شیر باز مزاری عطا الللہ مینگل۔معراج محمد خان۔لعل بخش رند۔یوسف مستی خان۔انیس ہاشمی۔فصیح الدین سالار۔اختر حسین ایڈوکیٹ اور دوسرے رہنما یہاں آتے رہے ہیں۔
لعل بخش رند اکثر کلری آتے رہے ہیں۔انھوں نے لیاری کے اس علائقہ میں بھی علم و شعور کی شمع روشن کی اور یہاں سے باشعور سیاسی کارکن ور رہنما اور باصلاحیت شخصیات پیدا ہوۓ۔ان میں پروفیسر نور محمد شیخ۔ اختر بہادر۔گاجیان بلوچ۔مجید ساجدی بلوچ۔ڈاگٹر سعید بلوچ۔ڈاکٹر یونس بلوچ۔رشید انجنئیر۔عیسی بلوچ۔خدا گنج بلوچ اور بہت سے دوسرے ساتھی۔خدا گنج بلوچ سے میری ملاقات پہلی بار کلری میں ہوئ۔اس وقت خدا گنج۔عیسی بلوچ۔حنیف دیدگ اور دوسرے دوست لعل بخش رند سے مارکسی فلسفہ کے کلاس لے رہے تھے۔مارکسی علم کے ساتھ کامریڈ خدا گنج نے عملی طور پر طلبا اور نوجوانوں کی تنظیم میں بھی جدوجہد کا پرچم بلند کیا اور نڈر اور بے باک طلبا اور سیاسی کارکن بن گۓ۔انھوں نے طلبا تنظیم نیشل ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس آرگنائزیش NDSO سے اپنی شعوری طلبا سیاست کا آغاز کیا۔اور طلبا کی رہنمائ کی۔حکومت کی غیر جمہوری اقدامات کے خلاف ہر مظاہرے اور احتجاج میں پیش پیش رہے۔نوجوانوں کی تنظیم نیشنل یوتھ لیگ سے بھی وابستہ رہے۔
کامریڈ خدا گنج بلوچ اپنے ادارے FCS کی سی بی اے یونین جو مزدور رہنما نبی احمد کی تنظیم متحدہ لیبر فیڈریشن سے وابستہ تھی خدا گنج بلوچ۔سعید بلوچ۔ناصر خان اور کامریڈ شوکت اس کے رہنما رہے ہیں۔اسکے علاوہ کامریڈ خدا بخش بخشی کی رہنمائ میں فشرمین یونین میں بھی آپ ماھیگیروں کے حقوق کی جدوجہد کے رہنما تھے۔اسی طرح فشر فوک فورم کی بنیاد رکھنے اور اسے منظم کرنے میں کامریڈ محمد علی شاہ۔سعید بلوچ اور دوسرے دوستوں کے ہمراہ تھے۔
کامریڈ خداگنج بلوچ۔ نور آسکانی اور رحیم بخش آزاد نے ماہنامہ جفاکش کے ادارہ امن و انصاف peace and justice رمپا پلازہ میں بھی کام کیا۔رحیم بخش آزاد مزدور ماہنامہ جفاکش کے ایڈیٹر تھے۔
خدا گنج بلوچ ذاتی طور پر اپنی صحت پر بہت کم توجہ دیتے تھے۔انھیں بلڈ فریشر اور گردہ کے انفیکشن کا مسئلہ تھا میں عیسی اور سعید بلوچ اکثر اس کو تاکید کرتے رہتے کہ اپنی صحت کا خیال رکھو۔اس دوران دو بار ہارٹ اٹیک بھی ہوچکے تھے۔اس کے بعد گردوں نے کام کرنا کم کردیا ڈالسس بھی وقت پر نہیں کرواتا تھا۔
میں اس وقت تہران میں تھا جب میرے موبائل پر کراچی سے محترم استاد رحیم بخش آزاد نے فون کیا اور مجھے میرے بہت ہی پیارے دوست اور کامریڈ خدا گنج کے انتقال کی خبر دی۔مجھے اپنے دوست کے اس طرح جلد بچھڑنے کا بہت رنج اور ملال ہوا اور دل خون کے آنسو رویا۔یہ 10 فروری 2010 کا دن تھا۔
اس پوسٹ میں ایک ہونہار نوجوان کی تصویر ہے یہ میرے کامریڈ دوست کی نشانی ہے

ان کا فرزند ہے۔اور ان کا نام عبدالغفور رکھا گیا۔عبدالغفور سے اس کے بچپن میں اکثر کامریڈ خداگنج بلوچ کے گھر ملاقات ہوتی تھی لیکن اس جوان سے ابھی تک ملاقات نہیں ہوسکی۔میرا کراچی جانا ہوا فون کیا تو کہا انکل میں تعلیم حاصل کرنے چین گیا ہوا ہوں۔اب کے ایک سال پہلے میں کراچی اپنے والدہ کی بیماری کی وجہ سے گیا ایک بار میں اور عیسی بلوج ان کے گھر گۓ پتا چلا کہ کام پر گۓ ہوۓ ہیں۔
خوش اور سلامت رہے فون پر رابط ہے کراچی آنے پر ملاقات کی امید کے ساتھ میں کامریڈ خدا گنج بلوچ کو سرخ سلام پیش کرتا ہوں۔