
معزوروں کے عالمی دن کے موقع پر شعبہ خصوصی تعلیم جامعہ کراچی کے Chinese Teachers Memorial Auditorium میں دو دن کے سیمینار کا انعقاد مورخہ ۱۵ اور ۱۶ جنوری کوو کیا گیا- سیمینار کا موضوع یہ تھا:
Amplifying the Skill Development of Persons with Disabilities for an Inclusive and Sustainable Future.
سیمینار کا مقصد ایسے تمام نجی اداروں کا آپس میں انضمام کروانا تھا جو معذور افراد کے لئے مختلف قسم کی ملازمتیں فراہم کرتے ہیں۔ سیمینار کے دوسرے دن کے شرکاء میں فیصل بنک، پاکستان کرنسی، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بنک، بزنس رینکرز، ہیومن رائٹس کاؤنسل پاکستان اور میٹروپولیٹن یونیورسٹی کراچی کی پرو چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ سجاد شامل تھے۔
وہ تمام تعلیمی و تربیتی ادارے جو معذور افراد کو یہ تربیت فراہم کر رہے ہیں وہ بھی پروگرام میں شامل تھے۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایڈوکیٹ نگھت نصیر جو کہ خود جسمانی معذوری کا شکار ہیں نے بتایا آج وہ ایک کامیاب وکیل کے طور پر کام کر رہی ہیں لیکن اس مقام تک پہنچنے کے لئے انہیں بڑی جدو جہد کرنی پڑی اوربہت ساری مشکلات نے ان کی راہ میں روڑے اٹکائے لیکن وہ عزم صمیم کے ساتھ ڈٹی رہیں اور آج اس قابل ہیں کہ دوسرے لوگ ان کو دیکھ کر motivate ہوتے ہیں۔
اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بنک کی طرف سے رینا ابراھیم اور جناب عامر ملک نے شرکاء کو بتایا کہ ان کا بنک تقریباً ۲۰ سے زائد بصارت سے محروم افراد کو مختلف عہدوں پر ملازمت فراہم کر رہا ہےاور ساتھ ساتھ ان کی ٹریننگ کے لئے بھی وقتاً فوقتاً مختلف کورسز کا انعقاد کرواتا رہتا ہے۔
فیصل بنک سے جناب عدنان قیسر اور شیر علی صاحب نے شرکاء کو بتایا کہ ان کا بنک “ قابل” کے نام سے ایک پروگرام متعارف کروارہا ہے جس کا مقصد معذور افراد کی بحالی کا کام سرانجام دینا ہے۔
پاکستان کرنسی سے جناب حمزہ اعجاز صاحب نے اپنے خطاب میں زہنی تبدیلی لانے پر زور دیا اور کہا کہ صرف باتیں کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا ادارہ معذور افراد کو اپنے ادارے میں بہترین سہولیات فراہم کر رہا ہے۔
بزنس رینکرز کے جناب فرخ اقبال صاحب نے اپنے ہمرہ اپنے ساتھی علی حسن کو لے کر آئے تھے جو کہ ذہنی معذوری کا شکار ہیں۔ انہوں نے اپنے ادارے میں ایک ذہنی معذوری کے شکار بچے کو ملازمت فراہم کر کے ایک ایسی مثال قائم کی ہے جو عام طور پر نظر نہیں آتی کیونکہ زیادہ تر سماعت اور بصارت سے محروم افراد کو ہی نجی ادارے اپنے ہاں ملازمت فراہم کرتے ہیں۔ ان کا ادارہ اپنے اس ذہنی معذور بچے کی صلاحیتوں سے بہت مطمئن ہے کہ یہ بچہ اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
HRCP کے صدر جناب جمشید حسین صاحب نے اپنے خطاب میں شعبہ خصوصی تعلیم کے ساتھ تعاون کرنے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ آئندہ بھی اس شعبہ کے ساتھ مزید پروگرامز میں شریک ہونگے تاکہ کسی نہ کسی طرح معذور افراد کی خدمت کی جا سکے۔
آخر میں میٹروپولیٹن یونیورسٹی کراچی کی پرو چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ سجاد نے سیمینار کو conclude کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ معذور افراد اور ان کے اساتذہ کی تربیت میں گزارہ ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ معذور افراد بہترین صلاحیتوں کی مالک ہوتے ہیں اور اگر ان سے ان کی خاص صلاحیت کے حساب سے کام لیا جائے تو یہ کسی سے بھی مقابلہ کر سکتے ہیں۔
پروگرام کی اختتامی تقریب کی مہمان خصوصی ایڈوکیٹ صائمہ آغا پارلیمانی سیکرٹری اسپورٹس اینڈ یوتھ افئیرز تھیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں شرکاء کو بتایا کہ آج وہ پہلی بار شعبہ خصوصی تعلیم جامعہ کراچی اور ان کے اساتذہ سے متعارف ہوئی ہیں۔ انہوں نے پروگرام کے انعقاد پر شعبہ خصوصی تعلیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ شعبہ اپنی موجودگی کا اظہار اس طرح کے پروگرامز سے کر رہا ہے جو کہ معذور افراد کی بہالی کے لئے ہے۔
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے جناب مقدس مگسی اور جناب سردار یاسین آذاد نے شرکاء اور شعبہ خصوصی تعلیم کا شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ وہ آئندہ بھی شعبہ خصوصی تعلیم جامعہ کراچی کے ساتھ کھڑے ہیں اور معذور افراد کے لیے ان کی خدمات حاضر ہیں۔
پروگرام کے اختتام پر ایڈوکیٹ صائمہ آغا نے شرکاء میں شیلڈز اور سرٹیفکیٹس تقسیم کئے۔























