سچ تو یہ ہے،
بشیر سدوزئی۔
===========

آج 14 جنوری ہے لاس اینجلس میں لگی آگ کو 7 یوم گزر چکے، آگ مسلسل تباہی پھیلا رہی ہے لیکن دنیا کی سپر پاور ابھی تک آگ پر قابو پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ پڑوسی ملک کینیڈا اور میکسیکو سے بھی ماہرین آتش فرو پہنچ چکے جب کہ یوکرین سمیت دیگر کئی یورپی ممالک نے مدد کی پیشکش کی ہے۔ نیشنل ویدر سروس کی پیشن گوئی کے مطابق تیز ہوائیں چلنے کا سلسلہ مزید دو یوم تک جاری رہے گا۔ جن کی رفتار 50 سے 110 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہو سکتی ہے گویا آگ کے بھاگنے کی رفتار ہائی وے یا موٹروے پر بھاگنے والی گاڑی کی رفتار کے برابر ہو گی جس کو روکنا انسانی طاقت کے بس میں نہیں۔ جس سے مزید علاقے آگ کی لپیٹ میں آئیں گے ۔ ابھی تک لگ بھگ 16 ہزار ہیکٹر یا 145 مربع کلومیٹر کے علاقے آگ کی لپیٹ میں آ چکے اندیشہ ہے کہ 200 سے 300 کلومیٹر تک متاثر ہو سکتے ہیں ۔ حکام نے 24 اموات کی تصدیق کی ہے۔ جب کہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا۔ جن کے لیے نو مقامات پر عارضی پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں۔ سینکڑوں گاڑیاں بھی جل کر تباہ ہو گئیں جو بروقت نہیں نکالی جا سکیں۔ حکام کے مطابق آگ پھیلنے کی صورت میں مشہور اور تاریخی فن پاروں پر مشتمل میوزیم اور لاس اینجلس کی معروف سرکاری جامعہ ’یونی ورسٹی آف کیلی فورنیا‘ بھی آگ کی لپیٹ میں آ سکتی ہیں۔ گورنر گیون نیوسم نے ” این بی سی” کو بتایا کہ لگنے والی آگ سے نقصانات کے تخمینے اور متاثر ہونے والے رقبے کے سبب یہ امریکہ کی بدترین قدرتی آفت میں سے ایک ہے۔ ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق حکام نے آگ سے انتہائی پر تعیش اور مہنگے گھروں سمیت لگ بھگ 12 ہزار سے زائد املاک کے نذرِ آتش ہونے کی تصدیق کی ہے۔ لگائے جانے والے اندازوں کے مطابق 150 ارب ڈالر کے نقصان ہوا ہے۔ تاہم حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی کہ آگ کی زد میں آنے والے گھروں اور دیگر املاک کی مالیت امریکہ بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ علاقہ ملک بھر میں منفرد اور خوبصورت ہے۔ جہاں امریکا کی سرمایہ دار اور مشہور شخصیات کے محلات نما شاندار مکانات تھے۔ اس ہنگامی صورت حال میں بھی امریکا جیسے ترقی یافتہ معاشرے کے سیاست دانوں کے درمیان ہم آہنگی سے آتش زدگی پر قابو پانے کے بجائے سیاست اور پوائنٹ اسکورنگ اوروج پر ہے۔ نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ آگ سے نمٹنے میں نااہلی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ’’ایل اے (لاس اینجلس) میں اب بھی آگ بھڑک رہی ہے۔ نااہل سیاست دانوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ اسے کیسے بجھایا جائے۔ وہ آگ بجھا نہیں سکتے۔ ان کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟‘‘ آگئیں سے ترکی بہ ترکی جواب آیا کہ ٹرمپ کیلیفورنیا آکر دیکھے کہ مسئلہ کیا ہے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر جو بائیڈن
کہا کہ وفاقی حکومت اضافی فنڈنگ فراہم کرے گی جو آئندہ 180 دنوں کے دوران عارضی پناہ گاہوں، مضر مواد کی منتقلی، امدادی کام کرنے والوں کی تنخواہوں اور جانی تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے لیے کافی ہوں گی۔ تاہم یہ کہنا غلط ہے کہ اس قدرتی آفت سے سرمایہ دار ہی متاثر ہوئے ایک ایسی بستی بھی جل کر خاکستر ہو گئی جہاں درمیانی اور کم آمدنی والے سیاہ فام رہتے تھے۔ افریکن اور میکسیکن نسل افراد کی یہ آبادی “الٹاڈینا ” سیاہ فام کمیونٹی کے چھوٹے گھروں پر مشتمل تھی جو جل کر خاکستر ہو گئی۔ یہ گھر انہوں نے بہت عرصہ قبل اپنی عمر بھر کی کمائی سے خریدے تھے۔ ذرائع کے مطابق متوسط آمدنی کی حامل اس کمیونٹی کے لیے بڑی مالی امداد کے بغیر مکانات کی دوبارہ تعمیر بہت مشکل ہو گی۔ انشورنس ہونے کے باوجود یہ لوگ پریشان ہیں۔ جب کہ حکومت نے ابھی تک ایسی کسی پالیسی کا اعلان نہیں کیا کہ ان کی مالی مدد کی جائے گی۔ لوگ اس واسطے بھی فکر مند ہیں کہ نئی انتظامیہ کے آنے میں صرف پانچ دن باقی ہیں جب کہ آنے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی آتشزدگی کا ذمہ دار جوبائنڈن اور ریاستی انتظامیہ کو ٹھہرا چکے۔ امریکن رئیل اسٹیٹ کے ماہرین کا خیال ہے کہ الٹاڈینا ٹاون کے مکانات کا جلا ہوا ملبہ صاف کر کے مکانات تعمیر کرنا سابقہ مکینوں کی استعداد میں نہیں ہو گا ان کے خاکستر مکانات کو وہ لوگ خرید کر نئے مکانات تعمیر کریں گے جن کے پاس وسائل ہیں اور ان کو اس علاقے کی قدرو قیمت معلوم ہے ۔ الٹاڈینا ٹاؤن کونسل کی چئیر پرسن وکٹوریہ نیپ کے مطابق اس علاقے میں نئی سرمایہ کاری اور تعمیرات سے الٹاڈینا کا نقشہ ہی بدل جائے گا اور کم وسائل کے لوگوں کو غیر متناسب طور پر زیادہ نقصان پہنچے گا۔ جو ذاتی رہائش گاہ سے محروم ہو جائیں گے اور ممکن ہے کہ اپنی زندگی میں اس علاقے میں کبھی ایسے گھر کے دوبارہ مالک نہ بن سکیں۔ اسی لیے ایک بڑا حلقہ خدشہ ظاہر کر رہا ہے اس آتشزدگی کے پیچھے کوئی سازش کارفرما ہے۔ انہی خدشات اور افواہوں کے باعث کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے آتش زدگی اور اس کے پھیلنے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ آگ پر قابو پانے کے لیے فائر فائٹرز کو پانی کی کمی کا سامنا رہا، جس سے آگ قابو سے باہر ہو گئی۔ تاہم عوام کے اطمینان کے لیے بیک وقت چار مقامات پر لگنے والی آگ کے حوالے سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے کہ یہ آگ کیسے لگی اور کس طرح تیزی سے پھیلی۔ انصاف پر مبنی امریکن معاشرے میں شفاف تحقیقات بھی ہوتی رہے گی اور متاثرین کی داد رسی بھی، سرے دست آگ پر قابو پانا ایک مسئلہ بنا ہوا ہے اور کیلیفورنیا کا محکمہ آتش فرو نے ہاتھ اٹھا لیے ہیں تب ہی امریکا بھر سے 10 دیگر ریاستوں کی آتش فرو، افرادی قوت کے ساتھ وسائل لاس اینجلس پہنچے گئے ہیں بلکہ پڑوسی ممالک کینیڈا اور میکسیکو نے بھی رضا کاروں کو ریسکیو سرگرمیوں کے لیے بھیجا ہے۔ میکسیکو سے دو ہوائی جہازوں میں ماہرین آتش فرو کی ایک بڑی ٹیم کیلیفورنیا ائرپورٹ پر پہنچی جہاں گورنر کیلیفورنیا نے خود ائرپورٹ پہنچ کر ان کو خوش آمدید کہا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ پر قابو پانے کے لیے لگ بھگ 1300 فائر انجن کے ساتھ 15 ہزار رضا کار مصروف ہیں جب 84 ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹرز ہوا سے پانی گرا رہے ہیں۔ امریکی تاریخ میں یہ اس قوم پر بہت بڑا عذاب ہے اور مسلمانوں خاص طور پر مسلمان حکمرانوں کے لیے نشان عبرت۔
(اس کالم کو لکھنے میں، ایسوسی ایٹڈ پریس، بی بی سی، وائس آف امریکہ، سی این این، این بی سی ’لاس اینجلس ٹائمز‘ سوشل میڈیا سمیت مختلف اطلاعاتی چینل سے مدد لی گئی)























