
کراچی (اسٹاف رپور ٹر )
معروف اور بین الاقوامی شہرت یافتہ فیشن ڈیزائینر محمود بھٹی
نے انڈس یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کو اپنے پاکستان سے فرانس کے سفر اور پھر ایک ڈیزائنر بننے کے مشکل اور طویل سفر کے نشیب و فراز سے آگاہ کیا۔ بھٹی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آپ نوجوان ہی ہمارا مستقبل ہیں آپ نے اپنی ذہنی صلاحیتوں سے نئے ڈیزائن سامنے لانے ہیں۔ پاکستان میں ابھی وہ قوانین نافذ نہیں مگر آپ نے ایک ایماندار شہری کے طور پر کاپی رائٹ کو ملحوظ خاطر رکھنا ہے۔ آپ نے ریاست کو ٹیکس ادا کرنا ہے۔ اور اپنے ڈیزائنز کو بین الاقوامی سطح پر لے جانا ہے۔
انڈس یونیورسٹی اور پاکستان فلم ٹی وی جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے اشتراک سے ” پاکستان میں فیشن ڈیزائننگ کا مستقبل ” کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد
کیا گیا اس موقع پر

چانسلر انڈس یونیورسٹی ،خالد امین ، وائس چانسلر انڈس یونیورسٹی ڈاکٹر عاصم الرحمن، چئیرپرسن فکلیٹی آف کمیونیکیشن اینڈ ڈیزائن انڈس یونیورسٹی مس ثناء گل، ڈپٹی رجسٹرار انڈس یونیورسٹی جاوید اقبال، سنئیر جرنلسٹ اطہر جاوید صوفی اور فیشن ڈئیزانر ندیم احمد ماذ جی بھی موجود تھے۔



چانسلر انڈس یونیورسٹی خالد امین نے کہاکہ محمود بھٹی جیسے نابغہ روزگار بہت کم کم پیدا ہوتے ہیں یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم کو بھٹی سے ملاقات کا موقع ملا۔ انہوں نے اسٹوڈینٹس سے کہا کہ آپ سب نے محمود بھٹی کے راستے پر چلنا ہے یہ ہمارے لیئے مشعل راہ ہیں۔ مجھے ہر بچہ بچی میں بھٹی ہی دکھائی دے رہا ہے۔


طلباء و طالبات نے محمود بھٹی سے معاشرے کی فیشن ڈئزائنرز پر تنقید اور نئے رجحانات کے حوالے سے سوالات کیے۔
جسکے محمود بھٹی نے جوابات دیے
خالد امین نے محمود بھٹی کو انڈس یونیورسٹی کی جانب سے یادگار شیلڈ پیش کی























