فخرِ ایشیاء، قائدِعوام شہید زوالفقار علی بھٹوؒ (مقتولِ جہالت !! شہیدِ عدل)

تحرير : اظفر صدیقی
سابق کوارڈینیٹر سینٹرل سیکرٹریٹ کراچی پی پی پی

فخرِ ایشیاء، قائدِعوام شہید زوالفقار علی بھٹوؒ
(مقتولِ جہالت !! شہیدِ عدل)

05 جنوری 1928 کو سر شاہنواز بھٹو کے ہاں رتّو ڈیرو سندھ میں ایک بچہ پیدا ھوا۔ زہانت، اعتماد، علم و ادب، محبت و شائستگی اور احساس سب اپنا دامن سمیٹے دہلیزِ شاہنواز بھٹو پر بھرپور نیازمندی سے کھڑے نظر آئے۔ جہاں ان تمام زکر کردہ خُوبیوں اور بلندیوں کی موجودگی میں یہ بچہ پروان چڑھا۔
نوخیزیِ عمر میں جب اِس بچے نے سامراج کیطرف سے پاکستانی عوام کو دی گئ غربت کو دیکھا تو اِسکے بدن میں آگ لگ گئی۔
ابتدائی تعليم حاصل کرنے کے بعد زوالفقار علی بھٹو نے سرمایہ داری نظام کے محافظ مُلک امریکہ کا رخ کیا اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
اُدھر دُنیا کے نقشہ پر نیا نیا پاکستان ایک مُلک کی حثیت سے تشکیل پا چُکا تھا۔ زوالفقار علی بھٹو نے دُنیاۓ سامراج اور نظامِ زر کو تسخیر کرنے کے خواب دیکھے اور نظامِ زر کو گرانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ اپنی شاندار طرزِ زندگی کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا اور دُنیاۓ سیاست کے خوفناک صحرا میں سفر پر چل نکلا۔
زوالفقار علی بھٹو نے سیاست میں بہت اُتار چڑھاؤ دیکھے جن سے الجھا، ٹکرایا اور پُرخطر راھوں سے گزرا مگر بلند حوصلے کے مالک زوالفقار علی بھٹو نے طے کر رکھا تھا کہ میں پاکستانی عوام کو غربت اور جہالت کی اِن تاریک راھوں سے نکال کر روشن اور مہکتی زندگی دُونگا۔
زور، زر اور تزویر کے ساتھ ٹکرانے والا یہ نوجوان دُنیاۓ سیاست میں زوالفقار علی بھٹو کے نام میں جانا گیا۔ دُنیا کے نظامِ زر کو اِس سے خطرہ محسوس ھوا کیونکہ اُس نے خطے میں سوشلزم کا نعرہ متعارف کروایا اور تنِ تنہا پوری قوت اور طاقت سے غریب فاقہ کش عوام کو بہت جلد اپنا ہمسفر بنا لیا اور نظامِ سوشلزم کا چیف قرار پایا۔ جبکہ نظامِ زر سامراجی دنیا پورے اسلحہ سے لیس ھو کر اسکے مقابل کھڑی ھو گئی۔ میدانِ جنگ راولپنڈی چُنا گیا۔ اُدھر سامراجی نظام نے اپنا نمائندہ بھی پاکستانی میدانِ جنگ راولپنڈی سے ھی چنا۔
سوشلزم کے چیف زوالفقار علی بھٹو سے ٹکرانے کیلئے جنرل ضیاءالحق سے خود ساختہ اسلام کا نعرہ لگوایا گیا۔ جبکہ خُدا ساختہ اسلام میں عوام کے تمام طبقات میں مُساوات و برابری ھے۔
دُنیاۓ سرمایہ داری کے محافظ جنرل ضیاءالحق اور عوامی مساوات کے راہنماء زوالفقار علی بھٹو کے درمیان جنگ شروع ھو گئی۔ سرمایہ دار اور نظامِ زر نے ضیاءالحق کو وہ تمام وسائل مہیا کیۓ جس سے ھر صورت یہ جنگ جیتی جا سکے۔ مختلف اداروں میں بیٹھے ھوۓ بیشمار افراد خریدے گۓ اور وہ سب سرمایہ داری نظام کے ہاتھوں بہت شوق سے بِکے۔ سب نے اپنی اپنی قیمتیں وصول کیں۔ سب بِکے ھوۓ جہل پسند۔۔۔۔ بھٹو کے مخالف کا ساتھ دینے کیلئے میدانِ جنگ میں اتارے گۓ۔ بعد میں سب نے اقرار کیا اور آج تک کہہ رھے ہیں کہ ھم نے غلط کیا اور ھم بِک گۓ تھے۔ اُدھر غریب عوام کا راہنماء تنِ تنہا یہ جنگ لڑنے کیلئے رزم گاہ میں اُترا۔
” کی میرے قتل کے بعد اُس نے جفا سے توبہ۔۔۔
ہاۓ اُس زودِ پشیماں کا پشیماں ھونا”
میدانِ جنگ میں بظاہر بھٹو یہ جنگ ہار گیا جبکہ نظامِ سرمایہ داری اور ضیاءالحق اپنے تمام ساتھیوں سمیت یہ جنگ جیت گیا مگر اُنکی یہ جیتی ھوئی جنگ لمحاتی تھی۔
زوالفقار علی بھٹو کی میدان میں ہاری ھوئی جنگ تاریخ کے اوراق میں مستقل فتح قرار دی گئی۔
ایک شاندار شخصیت کا قول ھے کہ حیاتِ انسانی کی اِس سے بڑی زلت و تزلیل اور کیا ھو سکتی ھے کہ جب کوئی اہل کسی نا اہل کو “جی” کہنے پر مجبور ھو جاۓ۔ سامراجی نظام کا محافظ ضیاءالحق بار بار یہ چاہت لیۓ دُنیا سے چلا گیا کہ بھٹو مجھے “جی” کہہ دے لیکن بھٹو تھا کہ “انکار” پہ ڈٹا رھا۔ آخرکار جہالت ہار گئی اور “انکار”جیت گیا۔
تاریخ میں جب جب دیکھا گیا جہالت و طاقت ہارتی رھی اور “انکار” ہمیشہ فتح یاب رھا۔
دُنیا دیکھ رھی ھے کہ جہالت و طاقت۔۔۔ دہلیزِ مسجد میں دفن ھو کر اداس و پریشاں ھے جبکہ “انکار” گڑھی خُدا بخش کے صحرا میں دفن ھو کر بھی مُسکرا رہا ھے اور اُسکی جیت کے قہقے دُنیا مسلسل سُن رھی ھے۔ دہلیزِ مسجد ویران ھے اور صحرا میں محبتوں کا ھجوم ھے۔