
اپنا پیغام پورے پاکستان میں پھیلا رہا ہوں۔ الحمد للہ بہت اچھا رسپانس ہے۔ مانسہرہ میں خواتین کا کنونشن ہوا۔ اسلام آباد میں پنجاب کے دیگر شہروں میں کراچی، حیدر آباد سب جگہ پروگرام ہوئے ہیں۔ جو جاری ہیں۔سب جگہ ہمیں بہترین رسپانس ملا ہے۔ فروری میں انشاء اللہ پاکستان میں اپنے عوام کے درمیان ہوگا۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان
سیاسی پروسیس کے آغاز اور لانچنگ سے پہلے میں نے منظم طریقے سے ایک چیک لسٹ بنا کر اسکے مطابق کام کو تیزی سے مکمل کر رہا ہوں۔ پاکستان آکر ہم عوام کو امید دینے کے ساتھ ساتھ بہتر ی کی طرٖف لانے کا کام ملک کے نوجوانوں اور عوام سے مایوسی ختم کرنے کا اہم فریضہ ادا کریں گے۔ ہم روایت ڈالیں گے کہ سیاست شرافت اور ایمانداری سے بھی کی جا سکتی ہے۔۔ڈاکٹر عشرت العباد خان سابق گورنر سندھ
کراچی (خصوصی رپورٹ) سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ فروری 2025میں پاکستان واپس آکر ہم سیاست کوشرافت اور ایمان داری اور محبت سے چلانے کی سوچ کے حامل ہیں۔ ہم نے ریاست کو سیاست پر مقدم رکھا ہے۔ میری پہچان پاکستان کا سلوگن دے کر ہم نے پورے ملک میں کام شروع کیا اور اللہ کی رحمت سے ہمیں بہت زبردست رسپانس ملا ہے۔ انہوں نے یہ بات قومی چینل پر سینئر اینکررانا مبشر کے پروگرام میں خصوصی گفتگو میں کہی۔ رانا مبشر نے کہا کہ جو کام پارٹی لانچ کرنے سے پہلے شاہد خاقان عباسی کو کرنا چاہئے تھا۔پارٹی لانچ کرنے سے پہلے عشرت العباد نے کرلیا۔۔ عشرت العباد نے مختصر عرصے میں پارٹی لانچ کئے بغیر پورے پاکستان میں سیاسی ہلچل مچادی ہے۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ وہ ہر کام کو منظم طریقے سے کرتے ہیں۔ انہوں نے قومی سیاست کے فروغ اور ملک میں نا امیدی کی لہر ختم کرنے کے لئے میری پہچان پاکستان کا سلوگن دیا۔ملکی حالات کی بہتری مزاکرات سے ہی آئے گی۔ حکومت اور اپوزیشن کو مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے۔ اپنی ابتدائی گفتگو میں ڈاکٹر عشرت العباد نے کہاکہ پاکستان کے حالات پر گہری نظر تھی۔ میں تیزی سے بدلتے حالات اور نفرتوں کی سیاست نے غیر یقینی کی کیفیت کو جنم دے دیا تھا۔ جو ابتک قائم ہے۔ جسکی وجہ سے پاکستان کی ترقی کے عمل کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ دنیا کے جو حالات چل رہے ہیں اور اس میں مذید تبدیلیاں ہونے جا رہی ہیں۔ان حالات میں ہماری بحیثیت پاکستانی قوم جو یکجہتی ہونی چاہئے۔ملک کی معاشی صورتحال، ریاست کی جگہ سیاست کا غلبہ نظر آرہا تھا۔ ایک نا امیدی کا پہلو یقین کے پہلو میں کمزوری، سیاسی مخالفتیں دنیا بھر میں ہوتی ہیں۔ پاکستان میں بھی ہیں۔ لیکن اس نے نفرت اور انتہا پسندی کی شکل اختیار کرلی۔ عوام اور افواج کا جو ایک رشتہ ہوتا ہے اسے متاثر کیا گیا۔ میں نے محسوس کیا کہ بحیثیت پاکستانی اپنا عملی کردار ادا کرنا چاہئے۔ ہمارے سپاہی سرحدوں پر جس طرح جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں ہزاروں کی تعداد میں شہادتیں ہوئی ہیں، حالت جنگ کا سماں ہے۔ نفرتوں اور پولی رائزیشن کا عمل ملک کے لئے نقصان دہ ہے۔ میں نے میری پہچان پاکستان کا سلوگن دے کر کام شروع کیا۔ میں پوری دیانت داری سے ملک میں احساس محرومی، نا امیدی اور وطن پرستی کا جزبہ بیدار کرنے کے مشن پر لگ گیا۔ سیاسی پروسیس کے آغاز اور لانچنگ سے پہلے میں نے منظم طریقے سے ایک چیک لسٹ بنا کر اسکے مطابق کام کو تیزی سے مکمل کر رہا ہوں۔ پاکستان آکر ہم عوام کو امید دینے کے ساتھ ساتھ بہتر ی کی طرٖف لانے کا کام ملک کے نوجوانوں اور عوام سے مایوسی ختم کرنے کا اہم فریضہ ادا کریں گے۔ ہم روایت ڈالیں گے کہ سیاست شرافت اور ایمانداری سے بھی کی جا سکتی ہے۔ اینکر رانا مبشر نے کہا کہ آپ فروری میں واپس آئیں گے لیکن آپ نے مانسہرہ میں اتنا اچھا کنونشن کیسے کرلیا؟آپ کو اسلام آباد، راولپنڈی، پنجاب ہو کراچی ہو یہاں بھی آپکو اچھا رسپانس ملا ہے۔کیا آپ پورے پاکستان میں اس سلوگن کے ساتھ کام کرتے ہوئے ملک گیر سیاست کریں گے؟ ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا کہ میں اپنا پیغام پورے پاکستان میں پھیلا رہا ہوں۔ الحمد للہ بہت اچھا رسپانس ہے۔ مانسہرہ میں خواتین کا کنونشن ہوا۔ اسلام آباد میں پنجاب کے دیگر شہروں میں کراچی، حیدر آباد سب جگہ پروگرام ہوئے ہیں۔ جو جاری ہیں۔سب جگہ ہمیں بہترین رسپانس ملا ہے۔ جہاں تک سندھ کی سیاست کا تعلق ہے۔ سندھ Inclusive ہے ہم وہاں بھی بھرپور کام کر رہے ہیں لیکن میں وہاں کے اپنے پرانے دوستوں کو نا تو اوور رائٹ کرنا چاہتا ہوں اور نہ انڈر مائنڈ کرنا چاہتا ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ وہ کام کریں۔ عوام کو ڈیلیو ر کریں۔ اسوقت Ploitical Mobilization کی بہت ضرورت ہے۔ Political Narrative کو بلڈ کیا جائے۔ملک میں سندھ میں ایک مایوسی کی فضا ء ہے اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ الیکشن نتائج کو Discussکئے بغیر دیکھیں تو Severe Disappointmentہے۔اسکے بہت سے محرکات ہیں۔ جن میں سیاست دانوں نے سب سے زیادہ مایوسی دی ہے۔ لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ ملک کی بڑی تعداد میں موجود خاموش اکثریت بھی اپنے رویئے کا اظہار کرے۔اسکا اپنے وطن سے جو لگاؤ ہے اور یقین ہے پاکستان پر وہ مضبوط ہو۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے اصولوں میں جو تین باتیں اتحاد، یقین، تنظیم کی بات کی۔ آج اس اتحاد کو متاثر کیا جا رہا ہے قائد اعظم نے پاکستان بننے کے بعد ان تین اصولوں کا ویژن دے دیا تھا کہ قوم اسکے مطابق چلے۔ اتحاد کا دامن نہیں چھوڑنا اور یقین اللہ کے بعد پاکستان پر رکھنا ہے ایک قوم بن کر رہنا ہے ہمیں اسی پر چل کر پوری قوم کو متحد اور مستحکم پاکستان بنانا ہے۔ ہمارا اسی لئے یہ سلوگن میری پہچان پاکستان۔ پاکستان ہے تو سب کچھ ہے۔ایم کیو ایم ہمیشہ حکومت میں رہی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کسی پریشر میں رہی تو پھر ڈیلیور کرنے کی باتیں کیوں؟ ڈاکٹر عشرت العباد نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ یہ درست ہے کہ آئیڈیل سچویشن کبھی نہیں رہی لیکں اگر اسوقت ہم تعمیر کراچی پیکیج، حیدرآباد کی ترقی کے لئے پیکیج لے کر کام کر سکتے ہیں۔سکھر، کی سندھ کی پورے سندھ کے لئے بات کرسکتے تھے اور ہم نے پیکیج لئے بھی، پیپلز پارٹی کے ٹرن اوور میں بھی ڈیولپمنٹ کا پروسسیس جاری رہا۔ سیاسی اختلافات کے باوجود حکومت کے ساتھ مل کر کام کیا جاسکتا تھا یا جب میاں صاحب کی حکومت آئی تو ماس ٹرانزٹ کا پروجیکٹ شروع ہوگیا۔ ہائی ویز پر کام ہونے لگا۔کچھ نہ کچھ ترقیاتی کام چل رہے تھے۔دہشت گردی کے حالات بھی تھے اسکے باوجود عوام میں مایوسی نہیں تھی۔ لیکن آج کچھ نہیں ہورہا۔ پہلے بھی مشکلات آتی تھیں لیکن کام کرائے جاتے تھے۔ پہلے بھی یہی سب لوگ تھے جو کام کرہے تھے۔ اینکر کے اس سوال کے جواب میں کہ آپ گورنر تھے تو کام ہو رہے تھے۔ جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا کہ کسی کے ہونے یا نہ ہونے سے کام نہیں رکنے چاہئیں۔ایم کیو ایم اپنے عوام کو ڈیلیور نہیں کر پارہی اسی لئے نا امیدی ہے۔ ہمارے بہت سارے پرانے دوست ایک طرف ہوگئے تو اسکی وجہ مایوسی ہے۔ ٹرمپ کے آنے سے پہلے پاکستانی حکومت کے کردار اور انتظامات کے حوالے سے جواب میں انہوں نے کہا کہ سفارت کاری بہت تبدیل ہوچکی ہے۔مضبوط سفارت کاری جرات مندانہ موقف بحیثیت قوم ہم Positioningکرسکتے ہیں۔ملٹی پل پاورز کے ساتھ کی جاسکتی ہیں۔ لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ گورننس کی کمزوری تو ہمیں ڈومیسٹک محسوس ہورہی ہیں۔اگر سیاسی عدم استخکام ہے اسوقت یہ بات چل رہی ہے کہ امریکی ایڈمنسٹریشن بدلتے ہی یہ ہوجائے گا یا کچھ اور یہ کمزوری کی علامت ہیں۔ ہم ایک خود مختار قوم ہیں۔ ہماری ایک خطے میں تاریخی حیثیت ہے۔ بین الاقوامی تعلقات بہتر ہوں، مجبوریوں کی وجہ سے بیڈ گورننس نہیں ہونی چاہئے۔ آزاد قوم ہونے اور پاکستان کے معاملات پاکستان ہی میں حل کرنے لئے ہمیں کامیاب مزاکرات کرنے چاہئیں کوئی بیرونی طاقت آکر کیوں ہمارے فیصلے کرے۔ ہمارا اپنا قانون اور آئین ہے۔ پاکستان کو اپنی اہمیت منوانی ہوگی سفارت کاری بارگینگ ٹپس پر فارن آفس کو کردار ادا کرنا چاہئے۔ جو نظر نہیں آرہا ہے۔























