
پولیو ڈیوٹی کرنے والے اہلکار اور پالیسی ساز معاشرے کا 100 فیصد اعتماد حاصل نہیں کر سکے اور شہروں میں بھی پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کی بلند شرح یہ ظاہر کرتی ہے کہ پولیو حکام اور عوام میں ان کا پیغام کس قدر مقبول نہیں،،،،انہیں اپنے پیغام رسانی کے انداز کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے
سوچنا چاہیے کہ پاکستان اور انڈیا کے پولیو ڈیوٹی میں بنیادی فرق کیا ہے اور پالیسی ساز سوچ رہے ہیں… کہ انڈیا نے 10 سال پہلے پولیو پر قابو پالیا تھا لیکن پاکستان اب بھی پولیو کی لپیٹ میں ہے دنیا نے بہت بڑی فنڈنگ فراہم کی ہے۔
پاکستان میں پولیو ڈیوٹی حکام اور پالیسی ایگزیکیوٹرز کے اندر کچھ فالٹ لائن موجود ہے….. پولیو پر قابو کیوں نہیں پایا جا رہا ہے کہ یہ تیزی سے کیوں پھیل رہا ہے… بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں
اگر پولیو ڈیوٹی کرنے والے تمام اہلکار ارستو اور عقل کل ہیں تو نتائج اچھے کیوں نہیں آرہے؟
پاکستان کو پولیو سے نمٹنے کے لیے اہم فنڈز مل چکے ہیں۔ اسلامی ترقیاتی بینک (IsDB) نے 2023 میں پاکستان کی پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں مدد کے لیے 100 ملین ڈالر کے قرض کی منظوری دی۔ اس قرض میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن سے 35 ملین ڈالر کی بنیادی خریداری شامل ہے۔ آئی ایس ڈی بی نے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے کل 587 ملین ڈالر کی فنانسنگ فراہم کی ہے۔
مزید برآں، حکومت جاپان نے ضروری زبانی پولیو ویکسین کی خریداری کے لیے 3.62 ملین ڈالر کی گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔ جاپان پاکستان کے پولیو پروگرام کا دیرینہ حامی رہا ہے، جس نے 1996 سے تقریباً 242.16 ملین ڈالر کا تعاون کیا ہے۔
پاکستان کی پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں معاونت کرنے والے دیگر اہم عطیہ دہندگان اور شراکت داروں میں شامل ہیں:
– بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن: پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں مدد کے لیے تکنیکی اور مالی وسائل فراہم کرنا۔
– یونیسیف: پولیو ویکسین کی خریداری اور تقسیم، مواصلات کی حکمت عملیوں کی حمایت، اور تکنیکی مدد فراہم کرنا۔
– ڈبلیو ایچ او: پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے لیے تزویراتی منصوبہ بندی، انتظام، اور انتظامیہ کے عمل کو مربوط کرنا۔
– روٹری انٹرنیشنل: فنڈنگ اور رضاکارانہ کام کے ذریعے پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں مدد کرنا۔
ان فنڈز کو مختلف سرگرمیوں میں مدد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، بشمول:
– ویکسین کی خریداری: حفاظتی ٹیکوں کی مہموں میں مدد کے لیے زبانی پولیو ویکسین خریدنا۔
– حفاظتی ٹیکوں کی مہمیں: پانچ سال سے کم عمر کے بچوں تک پہنچنے کے لیے قومی اور ذیلی قومی حفاظتی ٹیکوں کی مہم چلانا۔
– نگرانی اور نگرانی: پولیو کیسز کا پتہ لگانے اور ان کا جواب دینے کے لیے نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا۔
– مواصلات اور سماجی متحرک کاری: ویکسین کی قبولیت اور مدد کو فروغ دینے کے لیے مواصلاتی حکمت عملی تیار کرنا۔
================
ملک میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آ گیا، مجموعی تعداد 65 ہوگئی
ملک میں میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آ گیا۔
حکام کے مطابق بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں ڈیڑھ سال کا بچہ پولیو سے متاثر ہوا جس کے بعد ملک بھر میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 65 ہوگئی ہے۔
لاہور، 2 ٹرینوں کے اوقات کار تبدیل کرنیکا فیصلہ
حکام کا بتانا ہے کہ نیا کیس سامنے آنے کے بعد بلوچستان میں پولیو سے متاثر ہونے والے بچوں کی تعداد 27 ہو گئی ہے۔
دوسری جانب ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ بلوچستان میں انسداد پولیو مہم 30 دسمبر سے شروع ہوگی۔
یاد رہے کہ ملک بھر میں رواں سال وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ(ون) کے کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔























