میں چاہتا ہوں کہ اس ملک کے طلبہ اور اس ملک کے نوجوان ملکر اپنا ڈیجیٹل بل آف رائیٹ لکھوائیں۔


پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر پاکستان کی آئندہ نسلوں کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے “جنگی بنیادوں پر اقدامات” کرنے اور پائیدار ترقی کے لیے انرنیٹ تک نوجوانوں کی بلاامتیاز و بلا روک ٹوک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے نئی قانونسازی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اس میں نوجوانوں کی آراء کو مقدم رکھنے پر زور دیا ہے۔ میڈیا سیل بلاول ہاوَس سے جاری کردہ پریس رلیز کے مطابق، پی پی پی چیئرمین نے سندھ یونیورسٹی جامشورو میں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی 65 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کانووکیشن میں موجود طلبہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، آپ اس ملک کے مستقبل ہو، اس ملک کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے ملک کے نوجوانوں کو درپیش مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی بجٹ بنانے والے اور اہم فیصلے کرنے والے لوگ ساٹھ سال کی عمر کے ہوتے ہیں جو نوجوانوں اور ان کے مستقبل کے متعلق سوچتے ہی نہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے موجودہ جدید دور میں انٹرنیٹ کی افادیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے آج اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے فائبرآپٹیکل کیبل اور وائبل انٹرنیٹ اسٹرکچر مستقبل ہے۔ انہوں نےآج کی دنیا میں انٹرنیٹ تک سستی اور ناقابل رکاوٹ رسائی سب کا بنیادی حق قرار دیا۔ انہوں نے مزیدکہا کہ ماضی کی طرح آج بھی سنسر شپ موجود ہے، کیونکہ آج بھی کہیں نہ کہیں یہ ڈر موجود ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے عوام اپنے حق کی آواز بلند نہ کرلیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھے بزرگوں اور افسران کو انٹرنیٹ کی سمجھ ہی نہیں، کیونکہ وہ انٹرنیٹ استعمال نہیں کرتے۔ لیکن انٹرنیٹ بند یا اس کی اسپیڈ کم کرنے سے نوجوان متاثر ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنے ڈیجیٹل حقوق کے لیے جدوجہد کرنی ہے۔ یہ ہمارا جمہوری حق ہے، ہم اپنے جمہوری حق کے لیے لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی زیرِ قیادت عوامی حقوق کے لیے کی گئی تاریخی جدوجہد میں بھی طلبہ نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ اسی وجہ سے طلبہ یونینز پر آج تک پابندی عائد ہے، کیونکہ وہ لوگ طلبہ سے ڈرتے ہیں۔ پی پی پی چیئرمین نے نوجوانوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ ڈیجٹیل بل آف رائٹس لانے کے لیے ان کا ساتھ دیں۔ ہمیں ڈیجیٹل حقوق کے لیے قانون سازی کی جدوجہد کرنا ہوگی۔ میں ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں جاکر طلبا سے ان کی حمایت مانگوں گا تاکہ (حکومت سے) ایسا ڈیجیٹل بل مانگوں (منظور کرواوَں) جسے ہم لکھیں گے۔ آپ سب لوگ انسٹا گرام، فیس بک، ایکس پر مجھے تجاویز دیں۔ پھرمیں آپ سب کا نمائندہ بن کر قومی اسمبلی جائوں گا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ یونیورسٹی کے طلباء کے سامنے ماحولیاتی تبدیلی کے اشو پر بھی تفصیلی بات کی اور اس معاملے کو دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان کی آنے والی نسلوں کے لیے بھی سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پہاڑوں پر موجود برف پگھل جائے گی تو ہماری نئی نسلوں کے لیے خطرہ یہ ہوگا کہ انہیں غیرمعمولی سیلابوں کا سامنا کرتے رہنا ہوگا۔ کوہ ہمالیہ جو ہمیں صدیوں سے دریائے سندھ کے ذریعے پانی پہنچا رہا ہے، وہ پگھل جائے گا تو ہمارے بہت بڑا خطرہ سامنے کھڑا ہوگا، پاکستان اس خطرے سے نمٹنے اور ادراک کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہاں موجود طلبہ اور ان کے ساتھی اس حوالے سے جنگی بنیاد پر تیاری کریں، گلگت بلتستان سے لیکر دریائے سندھ کے آخری سرے تک ہمیں کام کرنا ہوگا۔ چیئرمین نے زور دیا کہ موسمی تبدیلی کے لحاظ سے پاکستان کو پورا انفرا اسٹرکچر تیار کرنا ہوگا۔ “اس سے قبل کہ 6 سے 7 نئی کینالز بنانے کا فیصلہ کیا جائے، اس جانب توجہ دی جائے۔ ریلوے، ایئرپورٹس، موٹر وے، ہائی وے سب کچھ بن چکا ہے۔ آج کے دور میں گرین انفرا اسٹرکچر ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ متبادل اور ماحول دوست توانائی ونڈ، سولر، ہائیڈروپاور جنریشن کے بجائے ہم کیوں مہنگی بجلی اپنے لوگوں کو دینے پر تلے ہوئے ہیں؟ انہوں نے سوال کیا کہ کب تک حکومت مہنگی بجلی بناتی اور سپلائی کرتی رے گی؟ کہا تو جاتا ہے کہ لوڈ شیڈنگ ختم ہوگئی ہے، لیکن اگر وہ یہاں سندھ آئیں تو ہم دکھا سکتے ہیں کہ لوڈ شیڈنگ ختم نہیں ہوئی؟ یہ کتنا بڑا مذاق ہے کہ اضافی بجلی کے دعوؤں کے باوجود بجلی عوام کو نہیں مل رہی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہمارے آئین میں تو لکھوادیا گیا ہے کہ بہتر ماحول ہر شہری کا بنیادی انسانی حق ہے، تاہم اس پر کوئی کام نہیں کیا گیا۔ لیکن ہم کوشش کریں گے، صاف ستھرا ماحول، گرین پاکستان بناسکیں۔جب آپ لوگ (طلبہ) فیصلہ سازی میں آئیں گے تو ہی یہ صورت حال تبدیل ہوسکے گی، ہم یہ سب کام کرسکتے ہیں، اور موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ بھی کرسکتے ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کانووکیشن میں ڈگریاں حاصل کرنے والے طلبا کو مبارکباد دی اور ان کے لیے اپنی نیک تمناوَں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کامیاب طلبا زندگی کے نئے دور میں داخل ہورہے ہیں۔ طلبا سے خطاب میں انہوں نے تعلیم کو والدین کی جانب سے بڑا تحفہ قرار دیا اور کہا کہ علم ایسا ہتھیار ہے جو چھینا نہیں جاسکتا۔ جائیداد، پیسا اور دیگر وسائل تعلیم کے آگے کچھ نہیں۔ تقریب کے دوران چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے طلبہ میں میڈلز اوراسناد تقسیم کیں۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔