
تحریر علی گوہر قمبرانی
پولیس کا کام معاشرے میں امن و امان قائم رکھنا اور عوام کی حفاظت کرنا ہے، لیکن بدقسمتی سے، کئی واقعات اور رویے عوام کے اعتماد کو کھو رہی ہے۔ پولیس کے نظام میں موجود خامیاں اور بے ضابطگیاں اکثر اس ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ پولیس اہلکاروں پر رشوت لینے اور اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے الزامات عام ہیں۔ متعدد واقعات میں دیکھا گیا ہے کہ مجرموں کو سزا دینے کے بجائے پولیس نے ان سے مالی فوائد حاصل کیے، جبکہ عام شہریوں کو جھوٹے مقدمات میں الجھا دیا گیا۔ پولیس کی جانب سے عام شہریوں پر تشدد کے واقعات روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ دورانِ حراست تشدد اور ماورائے عدالت قتل جیسے معاملات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پولیس اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں عوام خوف زدہ اور انصاف کے حصول میں بے بس نظر آتے ہیں۔ پولیس اکثر سیاسی جماعتوں یا بااثر افراد کے زیر اثر کام کرتی ہے، جس کی وجہ سے انصاف کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ عام شہریوں کی شکایات کو نظرانداز کرنا اور طاقتور افراد کے حق میں فیصلے لینا پولیس کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ پولیس کا ایک بڑا مسئلہ ان کی نااہلی اور وسائل کی کمی ہے۔ تفتیشی عمل میں غفلت، مجرموں کو گرفتار کرنے میں ناکامی، اور شہریوں کی حفاظت میں ناکامی پولیس کے نظام کی کمزوریوں کو ظاہر کرتی ہے۔ پولیس کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ شفافیت اور احتساب کے نظام کو مضبوط کیا جائے۔ پولیس اہلکاروں کی تربیت بہتر کی جائے اور اختیارات کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں۔ عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کو بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ پولیس کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کیے بغیر معاشرے میں حقیقی انصاف اور امن کا قیام ممکن نہیں۔ اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ پولیس کا ادارہ اپنی اصل ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے نبھا سکے۔























