گائے گی دنیا گیت میرے،ملکہ ترنم نورجہاں ایک عہد

ن و القلم۔۔۔مدثر قدیر
گائے گی دنیا گیت میرے،ملکہ ترنم نورجہاں ایک عہد

برسوں قبل جب میں نے اپنے بزرگ اور ملک کے معروف نغمہ نگار خواجہ پرویز سے سوال کیا کہ ملکہ ترنم نورجہاں کے فن کی کیا خوبی تھی کہ آپ نے ان کے لیے سب سے زیادہ گیت لکھے انھوں نے توقف بھرے لہجے میں بتایا کہ برصغیر پاک وہند میں ایسی کوئی دوسری فنکارہ پیدا ہی نہیں ہوئی جس نے میرے الفاظ کے ساتھ بھر پور انصاف کیا ہو،ملکہ ترنم نے میرے لکھے ایک ایک لفظ کو حرمت دی اور میرے گیت زبان زدعام ہوئے وہ مجھے ہمیشہ پرویز بھائی کے نام سے مخاطب کرتی تھیں ۔نورجہاں فن کی دنیا کی ایسی شخصیت تھی جو اپنے بچپن سے لے کر اپنی زندگی کے آخری دن تک بام عروج پر رہیں جب بھی سر سنگیت اور لافانی شہرت کا ذکر ہوتا ہے تو ملکہ ترنم نور جہاں کی تصویر خوبخود ذہن میں بن کر تخیل کے ذریعے سامنے آجاتی ہے ۔آپ یقین نہیں کریں گے کہ ملکہ ترنم نورجہاں کی وفات کے بعد اس کالم کو تحریر کرتے ہوئے میں نے جب بھی کسی لیجنڈ فن کار،تخلیق کار سے گفتگو کی انھوںنے ہمیشہ ہی ملکہ ترنم نورجہاں کے فن کو سراہا اور ان کے فن کو دنیا بھر کے لیے قرار دیا جو کسی ایک خطے یاں ملک کے لیے نہیں تھا۔
کچھ واقعات انسانی زندگی پر گہرا اثر ڈالتے ہیں اور ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ میرے ساتھ 22 اور 23 دسمبر 2000 کی درمیانی رات پیش آیا، جو آج بھی تازہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ رمضان کی 27ویں شب تھی، تراویح کی نماز کے بعد میں گھر آیا اور تیسرے فلور پر اپنے کمرے میں سونے چلا گیا۔ تھکاوٹ کی وجہ سے جلدی سو گیا لیکن اچانک کسی نے مجھے ہلایا اور میں اضطراب کی حالت میں بیٹھ گیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ کوئی میرے کان میں کہہ رہا ہے، “نور جہاں انتقال کر گئی ہیں۔” میں نے اسے وہم سمجھا اور دوبارہ سو گیا۔صبح فجر کی نماز سے کچھ دیر پہلے جاگا، سحری کی اور واپس کمرے میں سو گیا۔ پھر صبح اخبار کے ذریعے انکی موت کی خبر پڑھنے کو ملی۔میں ملکہ ترنم نور جہاں کومیں 8 سال کی عمر سے جانتا تھا، جب میں اپنی والدہ کے ساتھ ریڈیو پاکستان لاہور کے بچوں کے پروگرام میں حصہ لیا کرتا تھا، جہاں ہر بچہ اپنی صلاحیت کے مطابق گاتا تھااور زیادہ تر گانے ملکہ ترنم نور جہاں کے ہی ہوتے تھے۔ میری ان سے صرف دو ملاقاتیں ہوئیں، جن میں ایک بار بچپن میں کسی پروگرام کے دوران الحمرا ہال نمبر1کے نزدیک جب وہ اپنی گاڑی سے اتریں تو بلکل ان کے سامنے میں ہی کھڑا تھا اور ان کو دیکھ رہا تھا یہ نہیں پتہ کہ یہ کون ہے مگر ایسا ہنستا مسکراتا چہرہ میں بھول نہ سکا اور بعد میں میری والدہ نے بتایا کہ وہ نورجہاں تھیں ۔دوسرا گوالمنڈی میں اپنے بزرگ خواجہ پرویز کے گھر میں جب وہ غزل جو نہ مل سکے وہی بے وفا کی ٹیون سننے آئیں اور خواجہ صاحب نے ان کی دعوت کی موسیقار نذیر علی بھی وہیں موجود تھے۔ اسی دوران شور ہوا کہ نورجہاں آ گئی ہیں۔” میں قریب سے دیکھنے کے لیے خواجہ صاحب کے پلنگ پر بیٹھ گیا۔خواجہ صاحب اور نور جہاں کے درمیان گفتگو ہوئی۔ میں ایک بچے کے طور پر مہمان نوازی کے لیے حاضر تھا۔ آج بھی خواجہ صاحب کا وہ جملہ یاد ہے جو انہوں نے نور جہاں سے کہا، “یہ وہ آخری غزل نما گانا ہے جو میں لکھ رہا ہوں،میرے الفاظ اب ختم ہوچکے ہیں۔ آپ یقین نہیں کریں گے “نوے کی دہائی میں لاہور بہت پرجوش تھا۔ ہر گلی محلے میں ٹیپ ریکارڈرز پر گانے بجتے تھے، اور زیادہ تر لوگ نور جہاں کے فن کے دیوانے تھے۔ بسنت کے دن لوگ پتنگیں اڑاتے، مہمانوں کی تواضع کرتے، اور دن بھر ملکہ ترنم کے گائے ہوئے پنجابی گانے سنتے۔ یہ زندہ دلانِ لاہور کی ثقافت کا حصہ تھا جو وقت کے ساتھ ختم ہو گیا لیکن نور جہاں کے گانوں کی گونج آج بھی زندہ ہے۔گزشتہ سال جب میں ان کی برسی کے لیے ریڈیو پاکستان لاہو ر سے اپنے پروگرام فن اور فن کار میں مرحوم ڈاکٹر امجد پرویز کے ہمراہ ان کو خراج عقیدت پیش کررہا تھا تو میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کون سا گانا چلاؤں اور کون سا چھوڑ دوں۔ لیکن جب میں نے اپنے پروگرام میں ان کا گانا “کہاں تک سنو گے، کہاں تک سناؤں” نشر کیا، تو لگا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ 21ستمبر 1926ء کو قصور کے ایک غریب گھر میں پیدا ہونے والی اللہ وسائی نے صرف پانچ سال کی عمر میں اپنے فنی سفر کاآغاز کیا اورنو سال کی عمر میں اپنی گائیکی سے لاہور سٹیج پر داد سمیٹنا شروع کردی۔کولکتہ میں بننے والی اپنی پہلی پنجابی فلم شیلا عرف پنڈدی کڑی (1935) میں اداکاری کرتی اور گیت گاتی ہوئی نظر آئی۔ اس کا فلمی میں ان کو بے بی نورجہاں سے متعارف کرایا گیاجو فلمی پوسٹروں اور اشتہارات پر بڑے نمایاں انداز میں شائع ہوتا تھا۔ سولہ سال کی عمر میں انھوں نے لاہور میں اردو ہندی فلم خاندان کو 1942 میں ریلیز ہوئی اس میں ہیروئن بنی جس میں اس کے گیتوں نے پورے برصغیر میں دھوم مچا دی اور پھر وہ چالیس کے عشرہ میں ممبئی کی فلموں میں صف اول کی اداکارہ اور گلوکارہ تھی۔پچاس کی دھائی میں پاکستان کی عظیم گلوکارہ اور اداکارہ کے طور اپنے فن کی بلندیوں پرنظر آئیںجس کے بعد ساٹھ کے عشرہ سے پس پردہ گلوکاری شروع کی اور نوے کی دھائی میں اپنی بیماری تک فن گائیکی کی بے تاج ملکہ ترنم رہیں۔ سات عشروں تک بام عروج پر رہنے والی اس حسین و جمیل ہستی پر قدرت کے انعام و اکرام کی برسات دیکھیے کہ دولت و شہرت کی فراوانی رہی اور وہ زندگی بھر کبھی کسی کی محتاج نہیں ہوئی۔ملکہ ترنم نورجہاں کے گیتوں سے مجھے بڑی گہری دلچسپی رہی ہےاور میں ان کے فن کوچار ادوار میں تقسیم کرتا ہوں جس میں پہلا دور تقسیم سے قبل کے گیت ہیں۔ دوسرا دور بطور اداکارہ اور گلوکارہ فلموں کا دور تھا۔ تیسرا دور ساٹھ اور ستر کے عشروں کے شاہکار گیتوں کا دور تھا جبکہ چوتھا اور آخری دور ایکشن فلموں کا تھا جن میں اگر میڈم نورجہاں کے گیت نہیں ہوتے تھے تو ڈسٹری بیوٹرز فلم ہی نہیں اٹھاتے تھے ۔یہ قدرتی اتفاق ہے کہ ملکہ ترنم نورجہاں کی زندگی کاآخری گیت موسیقار طافو خان نے فلم سخی بادشاہ کے لیے ریکارڈ کیا تھا جس کے بول کی دم دا بھروسہ یار دم آوئے نہ آوئے تھا جبکہ برسوں قبل طافو خان کو موسیقار بنانے کےلیےاسی ملکہ ترنم نوجہاں نے فلم انورا کے لیے نغمہ نگار خواجہ پرویز کا گیت سن وے بلوری اکھ والیاں گا کر ان کی طرزوں کو شہرت دلائی اور طافو خان کا نام موسیقار کے طور پر سامنے آیا۔ملکہ ترنم نور جہاں کو بہترین خاتون پلے بیک سنگر کے لیے 15 سے زیادہ نگار ایوارڈز ملے جن میں 8بار اردو فلموں جبکہ 7 پنجابی فلموں کے گیتوں کے لیے تھے جبکہ وہ پاکستان میں ملینیم سنگر ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں۔1945 میں فلم زینت کے لیے انہیںگولڈ میڈل سے نوازاگیا۔پاکستان کے بااثر ترین افراد کی فہرست میں ملکہ ترنم نور جہاں کو آٹھویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔گلوکارمحمد رفیع ہمیشہ ان کے ساتھ جوڑی بنانے کی خواہش رکھتے تھےاور پلے بیک گلوکارہ آشا بھوسلے نے ایک انٹرویو میں کہاتھاکہ ملکہ ترنم نورجہان میری پسندیدہ گلوکاروں میں سے ایک تھیں اور جب میں نے ان کی غزلیں سنیں تو مجھے احساس ہوا کہ وہ کتنی غیر معمولی کمپوزیشنزہیں، انھوں نے مزید کہا کہ ان جیسا گلوکار دنیا کبھی نہیں دیکھے گی۔ جس طرح لوگوں نے ایک اور محمد رفیع اور کشور کمار کو نہیں دیکھا وہیں کوئی اور نور جہاں کبھی نہیں ہو گی۔برطانوی ہفتہ وار اخبار ایسٹرن آئی نے بالی ووڈ کی اب تک کی 20 گلوکاروں کی فہرست میں نور جہاں کو 16 ویں نمبر پر رکھا ہے۔ ایسٹرن آئی کے انٹرٹینمنٹ ایڈیٹر نے لکھاملکہ ترنم نورجہاں ہندوستانی سنیما کی پہلی خاتون گلوکارہ تھیں اور انہوں نے پلے بیک سنگنگ کی بنیاد رکھنے میں مدد کی۔ اس نے گلوکاروں کی ایک نسل کو متاثر کیا جس میں لتا منگیشکر بھی شامل ہیں ۔ وہ برصغیر کی پہلی خاتون گلوکارہ تھیں جنہوں نے فلم زینت میں قوالی گائی ۔1957 میں، انہیں فلم انتظار میں اداکاری اور گانے پر صدر ایوارڈ ملا۔1965 میں، انہیں جنگ کے وقت کے گانے کے لیے خصوصی نگار ایوارڈ ملا۔1965 میںہی انہیں گلوکاری اور اداکاری کی صلاحیتوں پر صدر پاکستان نے پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا۔وہ روشن آرا بیگم کے بعد پرائیڈ آف پرفارمنس حاصل کرنے والی دوسری پاکستانی خاتون گلوکارہ بن گئیں تھیں۔1965 میں انہوں نے پاک بھارت جنگ میں اخلاقی حمایت پر فوج سے تمغہ امتیاز حاصل کیا۔1972 میں انہیں بہترین غزل گلوکارہ کے لیے سلور ڈسک ایوارڈ ملا۔ ملکہ ترنم نورجہاں واحد پاکستانی گلوکارہ تھیں جنہوں نے مصری گلوکارہ ام کلثوم کے ساتھ گانے گائےجبکہ1991 میں، وہ رائل البرٹ ہال لندن میں گانے والی پہلی پاکستانی گلوکارہ بن گئیں۔1996 میں، انہیں ستارہ امتیاز  اور1998 میں انہیں پی ٹی وی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ملا۔1999 میںملکہ ترنم نورجہاں کو ا پاکستانی سنیما کے لیے خدمات کے لیے ملینیم ایوارڈ جبکہ جنوری 2000 میں پاکستان ٹیلی ویژن پی ٹی وی نے انہیں وائس آف سنچری کا خطاب دیا۔اگست 2014 میں انہیں پاکستان کی ہر دور کی عظیم ترین خاتون گلوکارہ قرار دیا گیاجبکہ21 ستمبر 2017 کو، گوگل ڈوڈل نے اس کی 91 ویں سالگرہ کی یاد منائی اور ان کا تصویری خاکہ جاری کیا۔ملکہ ترنم نورجہاں کا فن ان کی زندگی کا اثاثہ ہے جس کی میراث کو ان گلوکاراوں میں تلاش کیا جاسکتا ہے جو ان کے رنگ میں آج تک گارہی ہیں اور ان کا گایا ہوا گیت گائے گی دنیا گیت میرے آج بھی سن کر ان کی بلند فن کارانہ عظمت کا معترف ہوئے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔