
تحریر: سہیل دانش
سیدھا اور آسان راستہ تو یہی ہے کہ ہم پوری سچائی اور نیک نیتی کے ساتھ خود کو بدلنے کی کوشش کریں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم نظام کو بدلنے کی خواہش کریں اور خود کو جوں کا توں رکھنے پر اصرار کریں۔ ہم زبانی طور پر بلند بانگ تبدیلی کے آرزومند ہونے کا تمغہ اپنے گلے میں ڈالنے کے خواہش مند ہوں۔ لیکن عملی طور پر قومی شکستہ حال اقتصادیات کی از سر نو تشکیل کے لئے ہمارے ذاتی اغراض و مقاصد اور مفادات ہماری پہلی ترجیح ہوں۔ نئے راستوں اور نئی منزلوں کے متلاشی کے طور پر اُن کے تھیسس کا بنیادی نکتہ یہی تھا۔ یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیا لاہور میں قومی ترقی کے نئے اُفق اور نئے امکانات پر اپنی سیر حاصل گفتگو میں جناب محمود صادق کا کہنا تھا کہ ملک کی ترقی و خوشحالی اور اقتصادی استحکام کے لئے ہمیں سب سے پہلے اپنے مسائل اور مشکلات کا ادراک ہونا چاہئے۔ یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیا کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار میں اُنہوں نے نہ صرف معاشی اقتصادی معاملات کو اپنی تقریر کا موضوع بنایا بلکہ بیروزگاری اور غربت کو کم کرنے کے لئے قلیل اور طویل المعیاد منصوبوں کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اِس حوالے سے اپنے ذہن میں متعدد سلگتے سوال بھی کرڈالے۔ پھر غیر یقینی اور مایوسی کے گھٹاٹوپ اندھیرے میں اُمیدوں کے چراغ بھی جلانے کی کوشش کی۔ نوجوانوں کے لئے نئے مواقع اور امکانات کے ایسے قابل عمل پیکیج کی نشاندہی بھی کی۔ جس میں روزگار کی فراہمی اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے کامیابی سے آگے بڑھنے عملی زندگی میں موجودہ دور سے مطابقت رکھنے والے تعلیمی انتخاب، نصاب اور اُس کے معیار میں نئے جوہر اور ہنر تلاش کرنے کے عزم اور اُمنگ کا بھرپور تذکرہ بھی تھا۔ تقریب کی صدارت گورنر پنجاب نے کی محمود صاحب اِس معاشرے میں ہونے والی معاشرتی، تعلیمی، سماجی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ سیاسی اور اقتصادی اُمور پر اُن کا ویژن بڑا دوٹوک ہے۔ دِن ٹیلی ویژن نیٹ ورک پر اُنہوں نے ہمیشہ اپنے مافی الضمیر کو دوٹوک انداز میں بیان کیا۔ اُنہوں نے سیمینار میں بالکل اسی اندازِ فکر سے معاملات کو جانچنے کی کوشش کی جیسے کئی سال قبل کراچی چیمبر آف کامرس میں اُس وقت پاکستان میں متعین امریکی سفیر جناب رابرٹ اوکلے نے پاکستانی معیشت میں کراچی کے کردار پر روشنی ڈالی تھی مجھے یاد ہے وہ کہہ رہے تھے۔ یہ بات نوٹ کرلیں بڑی سرمایہ کاری کے لئے پاکستان میں کراچی سب سے موزوں جگہ ہے لیکن اِس کی دو بنیادی شرائط ہیں پہلی یہ کہ اِس شہر میں امن قائم کرنا پڑے گا۔ دوسرا یہ کہ اِس کے بنیادی شہری ڈھانچے کو از سرِ نو جدید خطوط اور ترجیحی بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔ اِس شہر میں محنتی ار پروفیشنل لوگ موجود ہیں۔ لیکن یہاں کا بلدیاتی اور شہری اسٹرکچر ناکارہ ہے۔ چائے کے وقفے میں ہم نے اُن سے کئی سوالات پوچھے اُن کا کہنا تھا کہ اِس شہر کو ایک خصوصی اسٹیٹس دینا ہوگا۔ اس میں کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرنے ہوں گے۔ سرمایہ کاروں کے لئے کرپشن فری ون ونڈو آپریشن کو متعارف کرانا پڑے گا یقین جانیں امریکی سفیر کی ہمارے سماج اور معاشرے کے متعلق معلومات حیرت انگیز تھیں وہ کہہ رہے تھے آپکے پاس زمین، پہاڑ، دریا، محنتی اور قابل لوگ موجود ہیں پھر نہ جانے کیوں آپ لوگ آگے بڑھنے کے لئے دائیں بائیں دیکھ رہے ہیں۔ محمود صادق بھی ایک ماہر معیشت کی طرح یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے ذرائع آمدنی کیا ہیں اور ہم سب سے زیادہ کہاں خرچ کرتے ہیں؟ اِس سوال کا یہ جواب ملتا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کے علاوہ ہم زیادہ تر اپنے اوپر خرچ کرتے ہیں یعنی حکومت چلانے کا خرچ دفاع کا خرچ اور تمام سرکاری کارپوزینوں کے نقصانات کا ازالہ کرنے میں خرچ ہوتے ہیں، ہماری آمدنی کا زیادہ تر انحصار محصولات سے ہے۔ بنیادی سوال پھر یہی ہے کہ ہمیں اپنے اخراجات کم کرنے چاہئیں۔ اخراجات کم کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی آمدنی بڑھانے کی فکر کرنی چاہئیے۔ ہر نیا آنے والا نئے نسخے اور ٹوٹکے پیش کرتا ہے۔ یہ کہنا آسان ہوتا ہے لیکن کرنا مشکل ہوتا ہے۔ پاکستان میں عام طور پر لوگ ٹیکس دینے کے عادی نہیں ہیں۔ محمود صاحب کاخیال یہ ہے کہ ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھائے بغیر نہ تو ہم اپنا مالی خسارہ کم کرسکتے ہیں اور نہ ہی ہم اپنی ترقیاتی ضروریات پوری کرسکتے ہیں۔ ہمیں معیشت کی افزائش کے لئے بہت سی تبدیلیاں اور فیصلے کرنے ہوں گے ہمارے اقتصادی شعبے کو درآمدات پر زور دینے کی ضرورت ہے ہم اپنے محصولات کے ڈھانچے کی مکمل تنظیم نو کرنی چاہئے تجارت اور کاروبار میں سہولیات فراہم کرنے کے علاوہ صنعت و حرفت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ وہی نکات ہیں جن پر گذشتہ ڈیڑھ سال سے پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے بھی بھرپور انداز میں فوکس کیا ہوا ہے۔ کاروباری طبقے میں اعتماد پیدا کرنے اور غیر یقینی کو ختم کرنے کے حوالے سے وہ کراچی اور لاہور میں کاروباری شخصیات سے گفت و شنید کے ذریعے متعدد بار نہ صرف درپیش اقتصادی ، معاشی مسائل اور مشکلات پر کھل کر اُن کی بات سُن رہے ہیں۔ بلکہ اپنا نقطہ نظر اور ویژن پیش کرنے کے ساتھ عملی اقدامات کے حوالے سے اپنا تمام تر اثرورسوخ استعمال کرتے نظر آرہے ہیں اِس کے حوالے سے مانیٹرنگ کا بھی ایک مربوط نظام ترتیب دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ملک میں سرمایہ کاری صنعت و حرفت، زراعت، درآمدات اور برآمدات کے انڈیکیٹرز اور تمام تر کاروباری اور پیداواری امور کے اہداف حاصل کرنے کی طرف توجہ دی جارہی ہے۔ یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیاء میں منعقدہ کانفرنس میں محمود صاحب نے نوجوانوں کو بھی براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے اُن کے لئے جدید دور کی ضروریات اور مانگ کو نظر میں رکھ کر تعلیمی شعبے میں فیکلٹیز سلیکٹ کرنی چاہئیں تاکہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ ملک و قوم کے ساتھ اپنے لئے بھی عملی میدان میں قیمتی انسان بن سکیں۔ ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری ہوسکے۔ اُنہوں نےکہا۔ سرمایہ کارکبوتروں کی طرح ہوتے ہیں جب حکومتیں اُنہیں اپنے خراب فیصلوں سے خوفزدہ کردیتی ہیں۔ تو وہ سب کے سب ایک ساتھ اُڑجاتے ہیں اور جب حکومتیں اپنی پالیسیاں بہتر کرکےاُنہیں واپس لانا چاہتی ہیں تو وہ ایک ایک کرکے واپس آتے ہیں مجھے ایسا لگتا ہے کہ پاکستان قرض اور سرمایہ کاری کی کشمکش میں پھنسا ہوا ہے۔ ہمارامخصمہ یہ ہے کہ ایک طرف ہمیں قرض نہیں لینا چاہئے کیونکہ اِس سے ادائیگی کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے اور اگر تیزی سے ترقی کرنی ہے تو قرض لینا ضروری ہے۔ ہماری مشکل یہ بھی ہے کہ ہم بیرونِ ملک سرمایہ کاری کو اپنی طرف کھینچنا چاہتے ہیں تاکہ کم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ جائیں۔ لیکن سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری سے پہلے آپ کے زرمبادلہ کے ذخائر کی طرف دیکھتا ہے میرے خیال ہمیں نجکاری، متعدل اقتصادی نظام اور روایتی پابندیوں سے آزاد طریقہ کار کے منصوبے بنانے چاہئیں۔ سرمایہ کاروں کو اقتصادیات کے ہر شعبے میں یکساں مواقع اور سہولیات فراہم کرنے کے لئے قواعد و ضوابط بنانے چاہئیں۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ افسر شاہی کی طرف سے پیدا کردہ رکاوٹوں کو کس طرح دور کیا جائے ہمارے ہوٹل بھرے ہونے چاہئیں۔ ہمیں بیرونِ ملک سے پاکستان کے لئے ترسیل کو بھی اپنی بھرپور ترجیح بنانا چاہئے۔ ہم نے غیر رسمی اور زیر زمین زرمبادلہ کی ترسیل کے ہنڈی نظام پر قابو پالیا ہے۔ یہ ایک اچھی کوشش ہے۔ دیہی علاقوں کو بینکوں اور ڈاکخانوں سے جوڑ کر ترسیل کے نظام کو آسان بنادیا گیا ہے۔ گذشتہ مہینوں میں کچھ ایسے اقدامات ضرور کئے گئے ہیں جن سے پاکستانی روپیہ میں استحکام آیا ہے۔ تاریخ لیڈروں کو نتائج سے جانتی ہے۔ بہتری یہ ہے کہ ہم ڈیفالٹ سے کچھ دور ہوگئے ہیں۔ معیشت آگے بڑھنے لگی ہے۔ کرنے کا کام یہ ہے کہ جو بہتر تبدیلی آئے اُس کا ثمر عام لوگوں کو محسوس ہوتا نظر آئے۔ سرمایہ کاری کی رفتار اطمینان بخش نہیں۔ کیونکہ سرمایہ کاری ہی درحقیقت نجی فیکٹریوں اور تعمیراتی سرگرمیاں ملازمت کے مواقع پیدا کرتی ہیں۔ ہمیں نئی صنعتوں کو چلانے کےلئے اچھے منتظم اور تربیت یافتہ کاریگروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے سامنے انرجی کا مسئلہ سب سے زیادہ شدت سے سر اُٹھاتے ہوئے ہے۔ ہمارا غیر ملکی قرض واجبات اور ذمہ داریوں کا بوجھ معیشت پرتباہ کُن اثرات ڈال رہا ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہم نیو کلیائی اور میزائل رکھنے والا ملک بھی ہیں۔ یہ ایک خوش کن پہلو ہے کہ ہماری اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس حوصلہ افزا ہے مہنگائی اور افراطِ زر ہمارے بہت سے مسائل کی جڑ ہے۔ معیشتکو بحال کرنے کی کوئی بھی کوشش اُس وقت تک بارآور ثابت نہیں ہوسکتی جب تک بڑے اقتصادی فائدے عوام کو بہتر معیارِ زندگی کی شکل میں منتقل نہ ہوں۔ لوگوں کے معیارِ زندگی میں بہتری کا سب سے مناسب طریقہ اُنہیں اچھی ملازمتیں اور ذاتی کاروبار کے مواقع پیدا کرکےاُن کی آمدنی کو بڑھانا اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کااضافہ اور تعلیم و صحت میں موجودہ اخراجات کو بڑھاکرلوگوں کو سہولتیں مہیا کرنا ہئے۔ اِن سب کے حصول کے لئے مضبوط معاشی ترقی ہی مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ غربت کا خاتمہ ایک ضرورت ہے نہ کہ خواہش غربت میں کمی کے حصول کے لئے معلوم ہونا چاہئے کہ غربت درحقیقت کہاں ہے اور اس میں کمی کے لئے کونسا راستہ اختیار کرنا ہے۔ پاکستان ایک زرعی معاشرہ ہے۔ جس کی 65 فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے۔ یہ اکثریت جو غربت کا شکار ہے، اِس کی زندگی کا دارومدار بنیادی زراعت ارمویشیوں کی افزائش نسل پر ہوتا ہے، بقیہ 35 فیصد شہری آبادی میں غربت کوپڑھے لکھے بے روزگاروں اور جاہل بے روزگاروں کے درمیان تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ زراعت جہاں ہمیں محنت کرنی چاہیے، سب سے بڑی رُکاوٹ آبپاشی کی کمیابی ہے ہمیں آبپاشی اور نکاسی آب کے نظام میں بہتری پیدا کرنی ہوگی۔ زراعت کی بنیادوں پر منصوبے بنائے جائیں تاکہ وہاں کے لوگوں کوملازمتیں ملیں اور اُن کے حالات میں بہتری آئے۔ شہروں میں خصوصاً بیروزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کے منصوبے بنتے رہنے چاہئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اورٹیلی کمیونیکیشن کی صنعتیں ہمارے ملک میں اقتصادی ترقی کے لئے دو بڑے شعبے ہیں اور شہری علاقوں میں نوکریاں مہیا کرنے کے دو بڑے وسیلے۔ یہ آج بڑی سُرعت سے ترقی کرنے والا شعبہ ہے۔ تعمیراتی کمپنیاں غیر تعلیم یافتہ محنت کشوں کے لئے کثیر تعداد میں ملازمتوں کے مواقع فراہم کرتی ہیں اِس کے علاوہ عام صنعتیں ہیں اِس سے آمدنیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ مواصلاتی ڈھانچہ بہتر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ہمیں ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ ہم پیچھے کیوں رہ گئے ہمیں اپنی حماقتوں کا تجزیہ کرنا چاہئے۔ ہمیں اپنی غرض اور مفادات سے اوپر اُٹھ کر سوچنا چاہئے، نوجوانوں کے لئے میرا پہلا اور بنیادی پیغام یہ ہے کہ وہ اپنے آپ سے محبت کرنا سیکھیں۔ نوجوان یاد رکھیں کہ کسی شعبے میں حقیقی مہارت صرف محنت سے نہیں بلکہ خود شناسی اور اپنے شوق کی پیروی اور اپنے کام کو ایک اعلیٰ سطح تک لے جانے کے لئے خود انحصاری کے ساتھ آتی ہے۔ محمود صادق کہتے ہیں کہ انسان نے ہزاروں سال کے تجربے سے سیکھا، دنیا میں جب تک بادشاہ رہیں گے اس وقت تک امن خوشحالی اور انسانی حقوق ممکن نہیں ہوں گے، لہٰذا سماج جمہوریت کی طرف آنے پر مجبور ہوگیا، بادشاہت میں سلطنت کے تمام وسائل شاہی خاندان کے لئے ہوتے ہیں جبکہ جمہوریت میں عوام سسٹم چلاتے ہیں وہ اپنی زندگی بہتر بنانے کے لئے اپنی مرضی کے حکمران لے آتے ہیں لیکن جمہوریت میں مکالمہ بنیادی شرط ہے مکالمہ ہی وقت کی طاقت ہوتی ہے جس سے مختلف فریق ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں اس لئے وہ ہر دور میں عوامی نمائندوں کےمابین ایک انڈر اسٹینڈنگ، مفاہمت مکالمے اور خوشگوار تعلقات کی داعی رہے۔ عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے دور میں وہ خان صاحب کو بھی سمجھاتے رہے اُن سے اصرار کرتے رہے کہ وہ فون اُٹھائیں بختاور زرداری کی شادی کے موقع پر وہ اُن کے والد آصف علی زرداری کو مبارکباد دے ڈالیں۔ وہ نواز شریف ار شہباز شریف کے ساتھ اُن کی والدہ کی وفات پر اظہارِ تعزیت کے لئے ایک فون کردیں۔ کووڈ میں مبتلا ہونے پر وہ بلاول کی خیریت دریافت کرنے کے لئے اُن کا فون نمبر ملالیں، وہ پی ڈی ایم کی حکومت میں نواز شریف کو بھی مشورہ دیتے رہے کہ وہ خود آگے بڑھ کر عمران خان کو براہِ راست نیک خواہشات اور تمناؤں کا پیغام دیں۔ اُنہوں نے آصف علی زرداری سے بھی اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ سندھی روایات کو دُہرائیں۔ مذاکرات کی میز سجائیں۔ سب کو بٹھائیں۔ کسی نہ کسی ایجنڈے پر اتفاق رائے قائم کریں تاکہ گاڑی آگے چلے۔ نفرت اور تقسیم ختم ہونی چاہئے ہم اِس کی قیمت سود کے ساتھ ادا کرچکے ہیں۔ مسائل اور مشکلات تو ہر انسان کی زندگی میں آتے ہیں خواہ اس کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو، جس طرح روپیہ پیسہ تاجر کا پرافٹ ہوتا ہے بالکل اسی طرح مشکلات پریشانیاں نفرتیں اور رُکاوٹیں نیک اور باصلاحیت لوگوں بڑے لیڈروں، سائنسدانوں اور تخلیق کاروں کا پرافٹ ہوتی ہےں۔ یہی وہ چیز ہے جو اُنہیں کامیابی اور اللہ تعالیٰ کے قریب لے جاتی ہے۔ اگر مشکلات پرافٹ نہ ہوتیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر کھڑے مسکراتے اور نہ ہی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے لئے شہادت کا انتخاب کرتے۔ ناجانے یہ آسان سی بات ہماری سمجھ میں کیوں نہیں آتی۔ آئیں اِس وقت ملک جس بحران کا شکار ہے اُس سے نکلنےکاحل صرف مکالمہ ہے۔ ایک دوسرے کی طرف ہاتھ بڑھائیں۔ اِس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ہمیں خود سے سوال کرنا چاہئے کہ کیا ہم انصاف اور جیو اور جینے دو کی بنیاد پر معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں بظاہر تو یہ نظر آتا ہے کہ حکومت میں شامل سیاستدان اپنےماضی سے زیادہ مستقبل کے بارے میں فکر مند ہوتے ہیں اور حال صرف تالیاں بجانے اور نعرے لگانے والے عوام کا ہے بے چارے عوام کی کسی کو فکر نہیں اپوزیشن خود کش جیکٹ پہنے حکومت پر حملہ آور ہونے کے لئے کمربستہ ہے اِس بحران سے کیسے نکلا جائے یہی ہمارا امتحان ہے۔
===============================
























