
لاڑکانہ رپورٹ محمد عاشق پٹھان
چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے دورے کے دوران، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن لاڑکانہ کے صدر ایڈووکیٹ غلام دستگیر شاہانی کی جانب سے چیف جسٹس کو سندھی ٹوپی اور اجرک کے تحائف پیش کیے اور گفتگو کرتے ہوئے
ہائی کورٹ میں کم از کم تین ججز کی تعیناتی، انسداد دہشتگردی عدالت سمیت جوڈیشل آفیسرز کی قلت کو پورا کیے جانے اور اینٹی انکروچمنٹ ٹریبیونل کو لیبر کورٹ میں منتقل کرنے کی درخواست کی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ میں خود چاہتا ہوں کہ لاڑکانہ میں ڈویژنل بینچ کام کرے، لاڑکانہ میں ججز کی تعداد کو بڑھایا جائے گا، خالی اسامیوں کو پر کیا جائے گا، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کا مزید کہنا تھا کہ لاڑکانہ ہائی کورٹ

میں میڈیئشن ہال بنایا جائے گا میڈیئشن ہال میں فریقین کے درمیان تصفیے کا کردار ادا کیا جائے گا جوڈیشری کی سائیڈ سے کیسز کے جلد فیصلوں کا ایک حل نکالا گیا ہے “میڈئیشن”، دنیا بھر میں کیسز کا فیصلا میڈئیشن کے ذریعے ہو رہا ہے


کورٹ سے فیصلوں میں ایک خوش ہوتا ہے ایک ناخوش ہوش ہوتا ہے میڈئیشن سے نہ صرف کیس کا تصفیہ ہوتا ہے بلکہ دونوں حریفوں کو خوش کر کے بھیجتے ہیں میڈئیشن سے کیسز کو حل کرنے



پر۔وکلاء کی پریکٹسز پر کوئی حرج نہیں آئے گا، خاندان کے کیسز، بھائیوں کے اختلافات، بچوں کی کسٹڈی کے کیسز وغیرہ میڈئیشن سے حل کیے جاسکتے ہیں۔
























