C-ARTS سکھر کو بچوں کی ٹرانسپورٹ کے لیئے ایک بس کا تحفہ

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سکھرمیں سینٹر فار آٹزم ری ہیبیلیٹیشن اینڈ ٹریننگ، سندھ (C-ARTS)کے یونٹ کا ربن کاٹ کر کا افتتاح کیا۔ سید مراد علی شاہ نے نئے C-ARTS سکھر کا دورہ کیا اور وہاں موجود سہولیات کا مشاہدہ کیا اور کلاس رومز کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کی آمد پر آٹزم کے شکار بچوں نے ان کا استقبال کیا۔ سیکریٹری ڈی ای پی ڈی طحہ فاروقی نے بتایا کہ سینٹر میں 600 بچے داخل ہیں۔ تقریب کا آغاز قومی ترانہ سے کیا گیا اور بچوں نے ملی نغمہ پیش کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ بچوں کے ساتھ گھل مل گئے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے میں آٹزم کیئر کے منظر نامے کو تبدیل کرنے میں C-ARTS کی کامیابیوں پر روشنی بھی ڈالی ۔ سکھر میں سینٹر فار آٹزم ری ہیبیلیٹیشن اینڈ ٹریننگ سندھ (C-ARTS)کے یونٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمارا مقصد تمام افراد کے لیے زیادہ سے زیادہ شمولیت، آگاہی اور رسائی کو فروغ دینا ہے۔ سندھ بھر میں مستقل اور اعلیٰ معیار کی آٹزم خدمات فراہم کرنے کے مشن کو آگے بڑھانا ہے۔ سندھ حکومت کا عزم ہے کہ صوبے بھر میں آٹزم کے شکار افراد اور انکے خاندانوں کو جامع مدد فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سنہ2018ء میں قیام کے بعد C-ARTS لاتعداد خاندانوں کے لیے امید کی کرن بن گیا ہے،کراچی میں پہلے مرکز نے کثیر الضابطہ خدمات پیش کرتے ہوئے ایک مضبوط مثال قائم کی ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ C-ARTS میں ابتدائی صلاحیت میں اضافے، تعلیم اور ہنر کی تربیت شامل ہیں۔ کراچی، حیدرآباد اور گمبٹ میں کامیاب تنصیبات کے بعد سکھر یونٹ خدمات کے اس بڑھتے ہوئے نیٹ ورک میں اضافہ ہے، یہاں سکھر میں بڑے پیمانے پر سفر کیے بغیر معیاری اور معاون خدمات تک رسائی حاصل ہوسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ سالوں سے ان مراکز نے اجتماعی طور پر سینکڑوں خاندانوں کی خدمت کی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سکھر میں C-ARTS یونٹ جدید ترین وسائل سے آراستہ ہے ۔ سکھر میں ماہر شخصیات کی ایک سرشار ٹیم ہے جو آٹزم کے شکار افراد کی ترقی اور بہبود کے لیے پرعزم ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے اس اقدام کو مزید وسعت دینے کے لیے حکومت کے وژن کا اعادہ کیا۔ اس منصوبے کے ساتھ زیرِ خدمت علاقوں میں اضافی مراکز قائم کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمارا مقصد ایک جامع معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں ہر فرد کو صلاحیتوں سے قطع نظر پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ آج ہم نے سکھر میں C-ARTS کے ساتویں سینٹر کا افتتاح کیا ہے۔ میں نے کامپلیکس کا تفصیلی دورہ کیا اور سہولیات کاجائزہ لیا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ صوبے بھر میں C-ARTS کے مزید سینٹر بنائے جائینگے،ہمیں پتا نہیں تھا کہ آرٹزم کے اتنے زیادہ بچے شکار ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ یہ کمپاؤنڈ ڈی ای پی ڈی کا ہے، یہاں سے اینٹی انکروچمینٹ کورٹ اور نیب کے دفاتر کو ختم کروائیں۔ سید مراد علی شاہ نے کہ کراچی میں اسپیشل سٹی بنا رہے ہیں اس کی سیٹیلائٹ صوبے بھر میں بنائینگے،سندھ حکومت تمام تر سہولیات فراہم کرے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سکھر میں C-ARTS سینٹر قائم کرنے پر میں ڈی پی ای ڈی کو مبارک باد دیتا ہوں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے C-ARTS سکھر کو بچوں کی ٹرانسپورٹ کے لیئے ایک بس کا تحفہ بھی دیا۔ تقریب میں اہم اسٹیک ہولڈرز، اعلیٰ سرکاری افسران، سماجی شخصیات اور نئے مرکز سے مستفید ہونے والے خاندان موجود تھے۔
سکھر میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ پی ٹی آئی نے سول نافرمانی کی کال دی تھی یا واپس لے لی، میں اپنے کام میں مصروف ہوں اس پر توجہ ہے۔ چاروں صوبے ملکر ملک کی بہتری کیلئے کام کریں۔ ملک کے بارے میں پہلے سوچیں کسی کو جیل میں ڈالنے کیلئے نا سوچیں۔ انہوں نے کہا کہ آرٹزم سینٹر میں قائم اینٹی اانکروچمنٹ کورٹ کو یہاں سے منتقل کیا جائے گا،اگر ضروری ہے تو کمشنر اور ڈپٹی کمشنر اپنے دفاتر خالی کردیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ معذور کوٹہ پر اگر کوئی دوسرا بھرتی ہوا ہے تو واپس چلا جائیگا، کسی کے خلاف شکایت آئی تو کارروائی ہوگی۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے پانی پر کینال کے مسئلہ پر سی سی آئی میں کیس ہے، کینالوں پر ابھی کوئی کام نہیں ہورہا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ خاص طور پر ایجوکیشن میں میرٹ پر بھرتیاں ہورہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر وڈیوں چل رہے ہیں کہ میں نوکری کے لیئے لائن میں کھڑا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ شہید صحافی جان محمد کو ہم نہیں بھولے نا بھولیں گے۔ کچے کے کافی ڈاکوؤں کو جہنم رسید کردیا گیا ہے۔ احکامات دیئے ہیں کچے میں کلیئر ہونے والے علاقوں میں سڑکیں، اسپتال اور اسکولوں کو تعمیر کیا جائے۔
عبدالرشید چنا
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ
#SindhCMHouse
























