پاکستان کی پہلے ایک روزہ میچ میں شاندار فتح

(تحریر: نوید انجم فاروقی)
جنوبی افریقہ اور پاکستان کے درمیان کھیلی جانے والی حالیہ ایک روزہ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ پاکستان نے تین وکٹوں سے جیت کر سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔ جنوبی افریقہ نے پہلے میچ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا پچاس اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 239 رنز بنائے۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے ہینڈرکس کالسن نے 86 رنز بنائے جن میں سات چوکے اور دو بلند و بالا چھکے بھی شامل تھے۔اُن کے علاوہ ریان نے 36، مارکرم نے 35 اور زورزی نے 33 رنز سکور کئے۔ پاکستان کی جانب سے سلمان آغا نے چار، ابرار احمد نے دو، شاہین آفریدی اور صائم ایوب نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ یوں پاکستان کو میچ جیتنے کیلئے پچاس اوورز میں 240 رنز کا ہدف ملا۔
پاکستان کی جانب سے بیٹنگ کاآغاز صائم ایوب اور عبداللہ شفیق نے اننگ کا آغاز کیا لیکن عبداللہ بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہو گئے۔ بابر اعظم بھی لمبی بیٹنگ نہ کر سکے اور محض 23 رن بنا کر چلتے بنے۔ کپتان محمد رضوان بھی ایک رن بنا کر پویلین لوٹ گئے، آگے آنے والے کامران غلام بد قسمتی سے رن آؤٹ ہو گئے اُنھوں نے بھی صرف چار رن بنائے۔ اِس موقع پر میچ پاکستان کے ہاتھ سے نکلتا ہوا نظر آ رہا تھا لیکن نوجوان صائم ایوب جنہوں نے ایک اینڈ سنبھال رکھا تھا سلمان آغا کے ساتھ ملکر 141 رنز کی شاندار پارٹنرشپ کرتے ہوئے میچ پاکستان کے حق میں بدل دیا۔ صائم نے شاندار بلے بازی کرتے ہوئے ایک اور سنچری بنا ڈالی اور 109 رنز بنائے، اُنھوں نے دس چوکے اور تین شاندار چھکے بھی لگائے۔ صائم ایوب کے آؤٹ ہونے کے بعد جنوبی افریقہ ایک مرتبہ پھر کھیل میں واپس آئی جب اگلے بلے باز عرفان خان اور شاہین آفریدی بھی جلد آؤٹ ہو گئے۔ اِس موقع پر سلمان آغا نے شانداربیٹنگ کا مظاہرہ جاری رکھا اور 82 رنز ناٹ آؤٹ بنا کر پاکستان کو عظیم کامیابی دلائی۔ اُنھوں نے چار چوکے اور دو چھکے لگائے۔ سلمان آغا کے ساتھ نسیم شاہ 9 رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ یوں پاکستان نے 49.3 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر مطلوبہ سکور عبور کر کے فتح حاصل کی۔ جنوبی افریقہ کی طرف سے رباڈا اور براٹمین نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ پلیئر آف دی میچ سلمان علی آغا کو دیا گیا۔
پہلے میچ میں فتح سے پاکستانی ٹیم کے اعتماد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ٹیم کے کپتان محمد رضوان نے کہا کہ ٹیم یک جان ہو کرکھیل رہی ہے کوئی کھلاڑی میں نے بلکہ ہم کہہ کر بات کرتا ہے کیونکہ ٹیم میں کوئی گروپ بندی نہیں ہے۔ ہم سب پاکستان کیلئے کھیل رہے ہیں اور قوم کی دُعاؤں سے اِن شاء اللہ اچھے نتائج پیش کریں گے۔