
ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد کی موجودگی میں ہمدرد شوریٰ کراچی کا ماہانہ اجلاس مورخہ ۱۲دسمبر ۲۰۲۴ء کو اسپیکر جنرل (ر)معین الدین حیدرصاحب کی زیر صدارت ہمدرد کارپوریٹ ہیڈ آفس میں منعقد ہوا، جس کا موضوع ’’بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمودات کی روشنی میں پاکستان کی تعمیر‘‘ تھا۔
اجلاس کے مہمان مقرر معروف محقق اور تاریخ دان پروفیسر ڈاکٹر محمدرضا کاظمی صاحب نے کہاکہ پاکستان کی تعمیر نو کے لیے پہلے ہمیں قائد اعظم کا تصور برائے ریاست پاکستان سمجھنا ہوگا۔قائد اعظم پاکستان کو ایک روشن خیال ترقی یافتہ اسلامی فلاحی ملک دیکھنا چاہتے تھے۔ان کی تقاریر سےپاکستان کے لیے اُن کی سیاسی بصیرت، دینی عزیمت اور سماجی حقیقت جلوہ گر ہیں۔ انھوں نے بر صغیر کے مسلمانوں کو حیات باوقار کے تین اصول دیئے:اتحاد تنظیم اور یقین محکم، جن کی بنیاد پر پاکستان کو اُن کے افکار کے مطابق ڈھالا جاسکتا ہے۔جو لوگ قائد اعظم کی ڈھاکا میں اُردو کو قومی زبان قرار دینے پر تنقید کرتے ہیں اُنھیں سمجھنا چاہیے کہ تقسیم ہند سے قبل بنگال کے کئی شعرا اور سیاست دانوںنے اُردو کو ملّت کی زبان قرار دیا ہے۔بھارت پہلے دن سے بنگال کو پاکستان سے الگ دیکھنے کا خواہش مند تھا اسی لیے وہ روز اول سے مسلسل سازشیں کرتا رہا۔اُردو مخاصمت کو ہوا دی اور بنگالیوںکو بھٹکایا۔ تاہم وقت نے ثابت کیا کہ قائد اعظم برحق اور دور اندیش سیاست دان تھے کیوں کہ بھارتی اثر و رسوخ کی بدولت آج ہر دوسرا بنگالی اچھی ہندی بول اور سمجھ سکتا ہے۔اس امر سے تو واضح ہوجاتا ہے کہ بنگالیوں کی اُردو مخاصمت بے جا تھی۔ پاکستان میں آمروں نے خرابیاں پیدا کیں ہیں۔ اگر قائد کے فرمودات کے مطابق ملک میں جمہوریت رہتی تو پاکستان آج مضبوط و مستحکم ہوتا۔
ڈاکٹر رضوانہ انصاری صاحبہ نے کہاکہ معاشرے میں ہر سطح پر پھیلی افراتفری، بے ہنگم ترتیب وطرز عمل اخلاقی تربیت کے فقدان کا نتیجہ ہے ۔ صحت مند معاشروں میں لوگوں کی اخلاقی تربیت کا روز اوّل سے اہتمام کیا جاتا ہے۔ا سکول سے ہی بچوں کو معاشرتی اخلاق کا درس دیا جاتا ہے ۔ بچپن سے جب بچوں کے ذہن میں مثبت باتیں ڈالی جاتی ہیں جو بعد میں فطرت ثانیہ بن جاتی ہیں۔ نصاب میں بچوں کو شروع سے قومی وحدانیت کے تصور سے روشناس کروانا چاہیے۔ تعلیم بالغان کے تحت شہروں گوٹھوں میں لیکچرز کا اہتمام کرنا چاہیےجس میں بتایا جائے کہ تمام انسان برابر حقوق رکھتے ہیں۔سیاسی جماعتوں کو قانونی طور پر پابند کیا جائے کہ وہ ایسی فکری نشستوں کا اہتمام کریں۔ کسی بھی معاشرے کی اصل خوبی اپنے مسائل کا درست ادراک کرنے کی صلاحیت ہے، جو ہم میں ناپید ہے۔شہری اسٹریٹ کرائمز کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار ہیں، منافع خوری ، مہنگائی، بے روزگاری سمیت کئی سماجی مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں، اقلیتیں خود کو غیر محفوظ تصور کررہی ہیں۔ لیکن ارباب اختیار کے لیے جیوڈیشری کے حوالے سے آئینی ترمیم کرنا قومی ترجیح ہے۔بہ ظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہم بہ طور قوم ایک قسم کی ذہنی بیماری کا شکار ہیں کہ ہمارے انفرادی عقائد و نظریات اعلا و ارفع ہیںاور جو اُن سے مختلف رائے رکھتا ہے وہ ہمارا دشمن ہے۔
معین الدین حیدر صاحب نے کہاکہ پاکستان میں عمومی طور پر اقلیتوں کے ساتھ نامناسب سلوک روا نہیں رکھا جاتا۔ ایسے واقعات کے پیچھے کوئی دوسری وجہ کارفرما ہوتی ہےجیسےکاروباری معاملہ ، زمین کا جھگڑا اور لین دین کا۔ تاہم رنگ ایسا دیا جاتا ہے تاکہ اکثریت کو مشتعل کیا جاسکے۔ ملک میں امن و امان کی مخدوش صورت حال کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور پولیسنگ کو جدید خطوط پر استوار کرنا چاہیے۔ آج ہمارے ملک میں جو بھی مسائل ہیں یہ قائد کے فرمودات سے انحراف کا نتیجہ ہیں۔
کموڈور (ر) سدید انور ملک صاحب نے کہاکہ پاکستان کے قیام کے بعد قائد اعظم بہت کم عرصہ حیات رہے، تاہم اس دوران اُنھوں نے ریاستی امور کے تمام پہلووں پر قوم کی راہنمائی کی۔ تعلیم و تربیت پر قائد نے بہت زور دیا تھا کیوں تعلیم کے ذریعے ہی قومیں تشکیل پاتی ہیں۔چٹاگانگ میں قومی خظاب کے دوران اُنھوں نے چور بازاری اور منافع خوری کو ملک دشمنی سے تعبیر کیا۔ ایک اور خطاب میں اُنھوں نے فرمایا تھاکہ بدعنوانی اور کرپشن ملکی ترقی میں حائل رُکاوٹیں ہیںاور سرکاری افسران کو تلقین کی کہ وہ ایماندار ی سے کام کریں۔قائد اعظم نے صوبہ پرستی اور فرقہ پرستی کو بھی عفریت قرار دیا اور جمہوریت کو مساوات سے تشبیہ دی ۔ قوم میں اعتماد تحمل اور حسن اخلاق کی ترغیب دی اور ملک میں صنعت سازی کو کلیدی قرار دیا۔
اجلاس سے ڈپٹی اسپیکر کرنل (ر) مختار احمد بٹ صاحب، پروفیسر محمد رفیع صاحب، جسٹس ضیا پرویز صاحب، پروفیسر ڈاکٹر خالدہ غوث صاحبہ، پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد صاحبہ، ظفر اقبال صاحب، پروفیسر ڈاکٹر حکیم عبدالحنان صاحب، رضوان احمدصاحب، پروفیسر ڈاکٹر شاہین حبیب صاحبہ ، ڈاکٹر امجد جعفری صاحب اور قدسیہ اکبر صاحبہ نے خطاب کے دوران کہاکہ قائد اعظم کے فرمودات منطقی اور قابل نفاذ ہیں۔ ان فرمودات پر پاکستانی قوم کی تشکیل کرنی تھی جو نہ کی جاسکی لیکن اب ضرورت ہے کہ پاکستانی قوم بنائی جائے،جس کے لیے مذہبی و لسانی شناخت پر پاکستان کی شناخت کو ترجیح دینا ہوگی۔ ملک کے مستقبل پر یقین محکم اور اعتماد متزلزل ہوگیا ہے۔ مایوسی کفر ہے گناہ ہے۔ کاروباری طبقے کی ذمے داری ہے کہ وہ نت نئے شعبوں میں سرمایہ کاری کریں۔قائد اعظم کی سوچ کے مطابق تعمیر نو کرنی ہے اور آزاد فکر و سوچ کا حامل معاشرہ بنانا ہے۔اس وقت سندھ میں تقریباً چھ ہزار گھوسٹ اسکولز ہیں وہ بھی دھیرے دھیرے ختم ہورہے ہیں۔ حکومت سندھ بہرکیف اچھی کوششیں کررہی ہے۔مسلم نیشن اسٹیٹ کے تصور سے نکل کر پاکستان کو ویلفیئر اسٹیٹ بنانا ہوگا۔ ہمیں نئے سماجی معاہدے کی ضرورت ہے۔قائد اعظم کا واضح ارشاد ہے کہ سب پاکستانی ہیں اور ہم سب کو علاقائی، لسانی، طبقاتی، گروہی اور مسلکی اختلافات سے دور رہنا ہو گا۔ انھوں نے کئی بار اپنی تقریروں میں پر زور الفاظ میں ملی و مذہبی تعصبات کی نفی کی اور کہ ہم پنجابی، پٹھان، سندھی، بلوچی اور بنگالی بن کر نہیں بلکہ پاکستانی بن کر ہی زندہ و مضبوط قوم بن سکتے ہیں۔
























