سید مراد علی شاہ بمقابلہ یونس ڈاگا ، یہ لڑائی سندھ دوستی کہلائے گی یا سندھ دشمنی ؟


بحث ہو رہی ہے کہ سندھ حکومت ریونیو کے معاملات میں بہت احساس ہے وزیراعلی سندھ کی جانب سے بورڈ اف ریونیو کو ریکارڈ اف رائٹس کو دوبارہ تحریر کرنے کی نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ نگران وزیر کی حیثیت سے یونس ڈاگا نے جو اہم اقدامات اٹھائے تھے کیا پیپلز پارٹی نے دوبارہ حکومت میں انے کے بعد ان سب کو ریورس کرنے کی حکمت عملی اختیار کی اور ایسے فیصلے کرنے شروع کر دیے جن سے یونس ڈاگا کے اقدامات کی نفی ہو سکے ، یہ تاثر عملی طور پر کتنا حقیقت پر مبنی ہے یہ تو معاملات سے واقف حال لوگ بہتر جانتے ہیں لیکن یونس ڈاگابمقابلہ سید مراد علی شاہ اس لڑائی کو سندھ دشمنی کہا جائے یا سندھ دوستی ؟ بظاہر دونوں شخصیات بہت ذہین قابل باصلاحیت اور صاف ستھرے کردار کی حامل ہیں اور دونوں ہی سندھ کی ترقی چاہتی ہیں اور سندھ کے لوگوں کا درد ان کے دل میں ہے ، لیکن سرکاری حلقوں میں سب جانتے ہیں کہ یہ لڑائی نئی نہیں بلکہ کافی سالوں سے لڑی جا رہی ہے اور اس کے تانے بانے کہیں اور جا ملتے ہیں ۔ کبھی کبھی کچھ شخصیات لب کشائی کرتی ہیں لیکن پھر خاموشی چھا جاتی ہے ۔
گزشتہ دنوں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعلی ہاؤس میں بورڈ اف ریونیو کے اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بہت سی نئی ہدایات جاری کی ہیں جس کے بعد نئی بحث شروع ہوئی ہے اس سلسلے میں سندھ کے چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ کی کچھ نئی ذمہ داریاں بھی لگائی گئی ہیںوزیر اعلی ہاؤس سے اس اجلاس کے بارے میں جو تفصیلات میڈیا کو جاری کی گئی ان کے مطابق

وزیراعلیٰ سندھ کی بورڈ آف روینیو کو ریکارڈ آف رائٹس کو دوبارہ تحریر کرنے کی ہدایت
سرخ نشان زدہ 446000 مشکوک اندراجات کو کلیئر کریں، وزیراعلیٰ سندھ
ابتدائی طور پر 2 دیھوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے تحریر نو کرنے کا حکم
سندھ حکومت کی نئی آئی ٹی کمپنی کو ڈیجیٹلائزیشن کا کام سونپ دیا گیا
کراچی (13 دسمبر): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی ہے کہ وہ ریکارڈ آف رائٹس کو دوبارہ مرتب کرے اور شفاف عمل کے ذریعے سرخ نشان زدہ کسی بھی مشکوک اندراج کو کلیئر کرے جوکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ حقدار مالکان کو انکے قانونی حقوق مل جائیں۔ یہ بات انہوں نے یہاں وزیراعلیٰ ہاؤس میں بورڈ آف ریونیو کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے دوران ریکارڈ آف رائٹس کو دوبارہ لکھنے اور مشکوک اندراجات کے مسئلے کو حل کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سینئر ممبر بورڈ آف روینیو بقا اللہ انڑ، ممبر بی او آر آر ایس اینڈ ای پی غلام عباس نائچ، اسپیشل سیکریٹری جی اے زمان ناریجو، پی ڈی لارمس سیف اللہ ابڑو نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ بورڈ آف ریونیو نے 2019 میں ریکارڈ آف رائٹس میں 946000 اندراجات کو بلاک کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ ریکارڈ آف رائٹس ایک قانونی دستاویز ہے اور متاثرہ فریقوں کی پہلی سماعت کے بغیر کسی بھی اندراج کو مشکوک قرار دینے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ نے نشاندہی کی کہ سرخ نشان کے ساتھ تقریباً 500000 اندراجات کی شناخت حقیقی مالکان کیلئے پریشانی کا باعث بنی ہے اور قانونی چارہ جوئی میں اضافہ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ جائیداد کے جائز مالکان تپیداروں، مختیارکاروں اور سب رجسٹراروں کے رحم و کرم پر ہوں۔ انہوں نے بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کہ کہ طریقہ کار کو ہموار کرکے ایک ماڈل ڈیجیٹل فارم بنائیں اور اس کی منظوری حاصل کرکے صوبے کے دو نامزد دیھوں کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کا آغاز کریں۔ وزیراعلیٰ نے بورڈ آف ریونیو سے درخواست کی کہ انہیں ریکارڈ آف رائٹس کو دوبارہ لکھنے کیلئے بطور ماڈل دیہوں دو دیہوں ایک کراچی سے اور ایک دیہی علاقے سے نام فراہم کیے جائیں۔ ریکارڈ کی دوبارہ تحریر کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ سندھ کے رائٹس کے ریکارڈ کو ہر 30 سال بعد نظرثانی یا دوبارہ لکھا جاتا ہے۔ چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ نے بتایا کہ آخری ترمیم 1985 میں ہوئی تھی جبکہ پنجاب ہر چار سال بعد اپنے

ریکارڈ پر نظر ثانی کرتا ہے اور بھارت میں کرناٹک اور مہاراشٹر ہر دس سال بعد اپنے ریکارڈ پر نظر ثانی کرتے ہیں۔ مراد شاہ نے زور دیا کہ ریکارڈ کو اپ ڈیٹ کرنے کا مقصد اونرشپ ٹائٹلز کو محفوظ بنانا، شفافیت کو یقینی بنانا، ای رجسٹریشن کے ساتھ مربوط کرنا اور آن لائن خدمات فراہم کرنا ہے۔ رائٹس کے ریکارڈ سے متعلق اہم قانونی دفعات کا خاکہ سندھ لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 میں دیا گیا ہے جس میں سیکشن 39 بھی شامل ہے جوکہ رائٹس کے ریکارڈ میں شامل کیے جانے والے دستاویزات کی وضاحت کرتا ہے۔ سیکشن 42 میوٹیشن رجسٹر میں اندراجات کرنے کے طریقہ کار کی تفصیلات دیتا ہے۔ سیکشن 40 بورڈ آف ریونیو کو ایک ایسا ریکارڈ بنانے کیلئے نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے جہاں کوئی بھی موجود نہ ہو یا ضرورت

کے مطابق ریکارڈ آف رائٹس پر نظر ثانی کرے۔
جہاں تک ریکارڈ آف رائٹس کو ڈیجیٹائز کرنے کا تعلق ہے، وزیر اعلیٰ نے اشارہ دیا کہ V.F پر توجہ دی جانی چاہئے۔ وی ایف-I زرعی زمین کے لیے اور وی ایف- II غیر زرعی اراضی کیلیے، 6090 دیہوں میں ملکیت کے تازہ اندراجات کی عکاسی کرتا ہے۔ ممبر بورڈ آف ریونیو غلام عباس نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ بورڈ نے ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کے حوالے سے دو کمپنیوں کے ساتھ الگ الگ میٹنگز کی ہیں۔ ہر کمپنی نے ایک ٹائم لائن تجویز کی جس کے لیے سافٹ ویئر تیار کرنے کے لیے چار ماہ اور پائلٹ پر عمل درآمد کے لیے مزید چار سے پانچ ماہ درکار ہیں۔ وزیراعلیٰ نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ ذاتی طور پر ریکارڈ آف رائٹس کی ڈیجیٹلائزیشن کی نگرانی کریں۔ انھوں نے ہدایت کی کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ اس کام کو شروع کرنے کیلئے ایک دیہہ کراچی سے اور دوسرا دیہہ کسی ضلع سے منتخب کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک بار ابتدائی اقدامات تسلی بخش ہوئیں تو مزید دیھوں پر توجہ دی جا سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے چیف سیکرٹری کو سندھ حکومت کی جانب سے قائم کردہ آئی ٹی کمپنی کو ریکارڈ آف رائٹس کو دوبارہ لکھنے کی ذمہ داری سونپی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی پہلی اسائنمنٹ ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے چیف سیکرٹری کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ لینڈ ریونیو ایکٹ میں ترمیم کی تجویز کو سادہ طریقہ کار کے مطابق بنائیں۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ، وزیراعلیٰ سندھ
=============================

سرکاری اور سیاسی حلقوں میں یونس ڈاگا اور مراد علی شاہ کی لڑائی کو سندھ کے مفادات سے زیادہ پارٹی کی اہم شخصیات کے مفادات اور انفرادی فیصلوں سے جوڑا جاتا ہے جبکہ کچھ لوگ اسے اصولوں کی اور ضابطوں کی لڑائی بھی مانتے ہیں جب یونس ڈاگا وفاقی سیکرٹری پانی اور بجلی تھے تو ان کے بعض فیصلوں سے سندھ کے لیے مسائل پیدا ہوئے تھے تب سے یونس ڈاگا سندھ میں برسر اقتدار پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو کھٹکتے رہے ہیں کچھ لوگ اس سے بھی پہلے کی بات کرتے ہیں کہ جب کراچی میں سپر ہائی وے پر بحریہ ٹاؤن بننے جا رہا تھا تب یونس ڈاگا کی کچھ ذاتی یا قریبی لوگوں کی زمین اور فارم ہاؤس اس کی زد میں ائے تھے جو غالبا ان کے ڈپٹی کمشنر ملیر کے دور میں حاصل یا قائم کیے گئے تھے اس طرح یہ اگ دونوں طرف بھڑک رہی تھی اور جب جب جس کو موقع ملا اس نے اپنا اثر دکھایا اور جب نگران حکومت میں یونس ڈاکہ نگران وزیر بن کر ائے تو انہوں نے بورڈ اف ریونیو پر خاص طور پر کام کیا اور بہت سے ایسے فیصلے کر گئے

جن کو پیپلز پارٹی بالکل پسند نہیں کرتی تھی اس لیے یہ مراد علی شاہ نے واپس وزیراعلی بننے کے بعد ان تمام فیصلوں کو ریورس کرنے کی ٹھان لی اور اس کے بعد پیپلز پارٹی نے جو اقدامات کیے وہ یونس ڈاگا کے قریبی حلقوں کے مطابق سندھ دوستی سے زیادہ سندھ دشمنی پر مبنی ہے اور ذاتی مفادات یا چند افراد یا ایک گروہ کے مخصوص مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے حلقے ان باتوں کو سراسر الزام اور جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی کے تمام فیصلے قانون کے مطابق اور سندھ کے مفاد میں ہے وزیراعلی کے فیصلوں کو نہ صرف صوبائی کابینہ کی منظوری حاصل ہے بلکہ تمام فیصلے قاعدے قانون اور ضابطوں کے مطابق کیے گئے ہیں ۔ اس حوالے سے بحث جاری ہے دونوں فریقین اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں ان فیصلوں سے فائدہ اٹھانے والے تو خاموش رہیں گے البتہ متاثرین ضرور اواز اٹھاتے رہیں گے آنے والا وقت ہی فیصلہ کرے گا کہ کون صحیح تھا کون غلط ?