ڈاکٹر صاحب کا فلسفہ ریاست ضروری ہے سیاست پر ہم ریاست کو فوقیت دیں گے۔ ہم مکمل اسکے ساتھ ہیں۔

سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان و سرپرست اعلی MPPاورمیری پہچان پاکستان فورم کے رکن وسیم اللہ اور اور انکے وفد کی سابق صدر انصاف لائرز فورم سندھ و سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل پاکستان ایڈووکیٹ عبدالوہاب بلوچ کے درمیان تفصیلی گفتگو۔ والدہ کے انتقال پر تعزیت۔وسیم اللہ اور سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل عبدالوہاب کی میری پہچان پاکستان کی مکمل حماییت۔ ریاست دشمن قوتوں، انکے ایجنٹوں، شر پسند عناصر اور ملک دشمن قوتوں کے خلاف ہم اپنی قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ملکر مشترکہ ان عناصر کے خلاف کاروائی میں حصہ دار بننا پسند کریں گے۔ڈاکٹر عشرت العباد کے شانہ بشانہ ہیں۔ میڈیا سے گفتگو

کراچی (ڈسٹرکٹ رپورٹر) سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان و سرپرست اعلی MPPاورمیری پہچان پاکستان فورم کے رکن وسیم اللہ اور اور انکے وفد کی سابق صدر انصاف لائرز فورم سندھ و سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل پاکستان ایڈووکیٹ عبدالوہاب بلوچ کے درمیان تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے فون پر سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کی اور مرحومہ کے درجات کی بلندی کے لئے خصوصی دعا کی، اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہاکہ اللہ تعالی پسماندگان کو یہ صدمہ جھیلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ملاقات میں بعد ازاں ڈاکٹر عشرت العباد خان سے یکجہتی کا اظہا رکیا۔ بعد ازاں میڈیا اور نمائندگان سے گفتگو میں وسیم اللہ اور عبدالوہاب بلوچ کاکہنا تھا کہ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کئی دہائیوں تک پاکستان اور عوام کی خدمت کی۔ انکا کردار سندھ کے عوام کی ترقی اور خوش حالی اور بلا امتیاز رنگ و نسل و زباں خدمات پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری پہچان پاکستان کے سلوگن پر ڈاکٹر عشرت العباد خان کے ساتھ روابط میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میری پہچان پاکستان کی سوچ سے متاثر ہوئے ہیں اور ہم بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ ہمارا تعاون اب ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ہے اور اس قافلے میں مذید ہم خیال بھی شامل ہوں گے۔ دونوں رہنماؤں نے سوشل میڈیا پر پاکستانی اداروں کے خلاف جھوٹے اور من گھڑت پروپیگنڈے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ریاست دشمن قوتوں، انکے ایجنٹوں، شر پسند عناصر اور ملک دشمن قوتوں کے خلاف ہم اپنی قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ملکر مشترکہ ان عناصر کے خلاف کاروائی میں حصہ دار بننا پسند کریں گے۔ ہم ملک دشمن سوچ اور سوشل میڈیا پر ملک کے امیج کو خراب کرنے والوں کے خلاف اعلان جہاد کرتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ملک کے بہتر مستقبل اور شناخت کے لئے مثبت سیاسی ماحول کا فروغ ضروری ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا فلسفہ ریاست ضروری ہے سیاست پر ہم ریاست کو فوقیت دیں گے۔ ہم مکمل اسکے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں سیاست دانوں نے انتقام اور منفی سیاست سے ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکر کھڑا کردیا۔ سیاست دان ملک کا سوچیں۔ میری پہچان پاکستان شعور جگانے پاکستان سے محبت اور سیاست دانوں اور عوام میں ملک کے لئے کچھ کرنے کے عزم کے جزبے کا نام ہے۔ ہمارے نوجوان، وکلاء، دانشور، ہر مکتبہ فکر کے افراد میری پہچان پاکستان کی فلاسفی کو اپنائیں۔ ملک اور فوج اور اسکی ترقی ہماری ریڈ لائن ہے۔ ڈاکٹر عشرت العباد کے شکر گزار ہیں اور انکے شانہ بشانہ ہیں۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں معززین شہر بھی موجود تھے۔
ایم پی پی کے مرکزی رہنماؤں نے سینئر رکن آصف قدوس کی والدہ کے سوئم میں شرکت کی۔۔ آصف قدوس کی والدہ کے ایصال ثواب کے لئے لئے قران خوانی کے بعد فاتحہ خوانی کی گئی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) MPPکے مرکزی رہنماؤں نے سینئر رکن آصف قدوس کی والدہ کے سوئم میں شرکت کی۔ سوئم میں پارٹی ورکرزکی بڑی تعداد، آصف قدوس کے احباب بھی موجود تھے۔ آصف قدوس کی والدہ کے ایصال ثواب کے لئے لئے قران خوانی کے بعد فاتحہ خوانی کی گئی۔ جبکہ خصوصی دعائے مغفرت بھی کی گئی۔
نئی لیڈر شپ وقت کی ضرورت ہے۔ قوم کو نا امیدی سے نکالنے کے لئے سرگرداں ہیں۔ کسی سے کوئی اختلاف نہیں۔ کراچی کے فسادات اور Destabilizeکرنے کو اپنی کوششوں سے ختم کرایا۔ میری پہچان پاکستان نے ہر مکتبہ فکرکے افراد کو امید کی کرن دلائی ہے۔ ہماری سوشل سرگرمیاں پورے ملک میں جاری ہیں بڑی بڑی ریلیاں نکالی ہیں
ہم قوم کو شعور دے چکے ہیں کہ 14اگست ہی پاکستان کا دن نہیں ہر دن اپنے وطن سے محبت کا ہے۔ ریاست سیاست سے زیادہ ضروری ہے۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان
فوج کو مضبوط کرنے کے لئے پوری قوم کو ایک کرنا ہے۔ فوج میں بھی احتساب کا عمل ہے۔ نوجوانوں میں جزبہ جگایا ہے۔ وہ ملک کو اپنی ہی صلاحیتوں سے مضبوط کریں گے

کراچی (خصوصی رپورٹ) MPPکے سرپرست اعلی سابق گورنر سندھ عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ ہم ملک کو نئی لیڈر شپ دینے کے حق میں ہیں شرط یہ ہے کہ انکا موقف پاکستان کی ترقی اور اس سے عملی محبت کرتے ہوئے ملک کو بحرانی کیفیت سے نکالنا ہو۔ نئی لیڈر شپ وقت کی ضرورت ہے۔ قوم کو نا امیدی سے نکالنے کے لئے سرگرداں ہیں۔ کسی سے کوئی اختلاف نہیں۔ کراچی کے فسادات اور Destabilizeکرنے کو اپنی کوششوں سے ختم کرایا۔ میری پہچان پاکستان نے ہر مکتبہ فکرکے افراد کو امید کی کرن دلائی ہے۔ ہماری سوشل سرگرمیاں پورے ملک میں جاری ہیں بڑی بڑی ریلیاں نکالی ہیں۔ہم قوم کو شعور دے چکے ہیں کہ 14اگست ہی پاکستان کا دن نہیں ہر دن اپنے وطن سے محبت کا ہے۔ ریاست سیاست سے زیادہ ضروری ہے۔ فوج کو مضبوط کرنے کے لئے پوری قوم کو ایک کرنا ہے۔ فوج میں بھی احتساب کا عمل ہے۔ نوجوانوں میں جزبہ جگایا ہے۔ وہ ملک کو اپنی ہی صلاحیتوں سے مضبوط کریں گے ڈاکٹر عشرت العباد خان نے قومی چینل کو انٹرویو میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ انکا کہنا تھا کہ میری پہچان پاکستان کے سلوگن نے نوجوانوں کی ذہنیت تبدیل کی ہے۔ پی ٹی آئی کے بہت بڑی تعداد میں ورکرز اور رہنما جو سوشل میڈیا ورکر بھی ہیں وہ اس نعرے کے بعد صدق دل سے وطن سے محبت کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہمارا نیٹ ورک پورے پاکستان میں پھیل چکا ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ بڑی بڑی شخصیات آپ سے جڑنے کے لئے تیار ہیں اور بہت سے غیر اعلانیہ جڑ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب کے لئے دروازے کھلے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ سیاست کے لئے نہیں پاکستانیت کے لئے ملک کو درست اور مستحکم کرنے کے لئے آئیں۔ سیاست اور سیاست دانوں پر سے عوام کا اعتماد اٹھ رہا ہے۔ اب مثبت رویئے اور ملک بھر میں موجود وسائل کو نوجوانوں۔ ہر مزدرور کسان، اور ہر فیلڈ کے افراد کو اپنی صلاحیتوں سے ملک کو نکھارنا ہے۔ ریاست کی مضبوطی ہی ملک کی صنعت، ہو یا سیاست سب کے لئے ضروری ہے۔ ملک کا بیڈ امیج نہیں چاہئے۔ ہمارے ملک نے بہت دہشت گردی کا سامنا کیا ہے وار ان ٹیررازم میں ہمارے جوان شہید ہوئے ہیں۔ آج بھی فوج خوارجیوں سے لڑ رہی ہے۔ لسانیت اور نفرت نے ملک کو بہت نقصان دیا ہے۔ وطن پرستی کا جزبہ قوم کی تقدیر بدل دے گا۔ کسی ماضی کی جماعت پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ امن کے لئے ملک کو ترجیح دی۔ آج منی پاکستان میں حالات سیاسی میدان میں بھی بہتر ہیں۔ اغوا اور کرائم کے خاتمے کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کی مایوسی میرٹ اور سرمایہ کاری سے ختم ہوگی۔ ہمارا نوجوان باہر جا کر وسائل ملنے سے انکی ترقی کا ایندھن بنا ہوا ہے۔ ہم کیوں اپنے نوجوانوں کو ضائع کریں۔ ملک پپر لشکر کشی، تنازعات اور دھرنا سیاست سے کمزور کرنے والے سوچیں کہ یہ ہمارا وطن ہے ہماری پہچان پاکستان ہے۔ اگر ملک کا نہیں سوچیں گے تو پھر ایسی سیاست کس کام کی۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میرے ساتھ جڑے لوگ اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ ملک کے کونے کونے میں میری پہچان پاکستان اور سب سے پہلے پاکستان کے نعرے کی گونج ہے۔ سوات، گلگت، دادو، کے پی کے، بلوچستان ملک کے تمام علاقوں سے پاکستان اور پاکستان کی ا فوج کے لئے خیالات کی تبدیلی ملک دشمنوں کو کھلی شکست ہے۔ ہم نے تو کہا ہے کہ 1947کو پاکستان بنانے کے بعد نا مساعد حالات میں ملک چلاکر دنیا کو حیران کیا اب وہی جزبہ ملک کو دوبارہ مضبوط اور کسی کا غلام نہ رکھنے کے عزم کا ہے۔ ہمیں اپنی De valueکرنسی کی اہمیت بڑھانی ہے اور یہ کام نوجوان کریں گے۔ ملک میں کمزور معیشت اور مہنگائی کے طوفان کو توڑنے کے لئے ہمیں وطن پرستی اپنا کر اپنی معیشت کو زیادہ کام کرکے سنبھالا دینا ہے۔ سب کو پاکستانی بننا ہوگا۔ لسانی سیاست اب کسی طور ملک کے مفاد میں نہیں۔ہمیں پاکستانی بن کر مثالی قوم بننا ہے۔ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو زندہ قوم ہوں جنکی نس نس میں وطن پرستی ہو۔ میں اور میرے ساتھی بہت تیزی سے یہ کام کر رہے ہیں۔ لیکن ہم ریاست کو پہلے اور سیاست کو بعد میں کا نظریہ رکھتے ہیں۔ واضع رہے کہ کراچی میں بہت تیزی سے ڈاکٹر عشرت العباد کو پزیرائی کے ساتھ ملک گیر قومی لیڈر کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ عوام بھی وطن پرستی کے نعرے پر بہت زیادہ متحرک ہیں اور ملک میں میری پہچان پاکستان نے انقلاب برپا کردیا ہے۔