
خصوصی کالم: رضوان احمد فکری rizwanahmedfikri1@gmail.com
پاکستان کی صورتحال ٹرمپ کے جیتنے اور شام پر اسرائیل نواز حکومت کے غلبے نے فلسطین کے ساتھ ساتھ ایران اور دیگر اسلامی ممالک کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایک طرف پیپلزپارٹی (سابقہ ایم کیو ایم) کی طرح پر بات بات پر حکومت کو بلیک میل کرتی ہے تو دوسری جانب ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی بھی تکنیکی انداز میں حکومت کو دھمکی دے رہے ہیں کہ راہیں جدا کر سکتے ہیں۔ کھلا جھوٹ بھی بول رہے ہیں کہ وہ حکومتوں سے الگ ہونے میں اچھا ٹریک ریکارڈ نہیں رکھتے۔ وہ بھول گئے کہ 2016کی حکومت کو الطاف حسین کے مینڈیٹ پر انجوائے کیا گیا۔ جبکہ 2018میں صرف 7اراکین قومی اسمبلی تھے۔ 2024کی نشستیں مصطفی کمال اور فیصل واوڈا کا کا رنامہ ہے۔ مولانا فضل الرحمان مدرسے کی بات کو جواز بنا کر دھمک چوکڑی کی ارادے رکھتے ہیں۔ PTIاور حکومت کے مزاکرات بھی نتیجہ خیز ہوتے نہیں آرہے۔ لیکن پی ٹی آئی کے لئے حالات گولڈ اسمتھ فیملی، اسرائیل، شام کی نئی صورتحال، فلسطین کی بگڑتی صورتحال میں کسی قسم کی تبدیلی نہ آنے کے امکانات ہیں۔ ایران کو under estimateکیا جا رہا ہے۔ اسلامی ممالک مفادات کی سیاست کرکے مزہب کو بھول کر اقتدار کو دیکھ رہے ہیں۔ عمران خان کی رہائی کے لئے پتے استعمال کرنے کے حالات بھی بنائے جا سکتے ہیں۔ ایم کیو ایم کی ناراضگی بظاہر تو بلدیاتی اختیارات کا بل منظور نہ ہونے پر ہے لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ ملک میں نئی سیاسی جماعتیں ملک میں کب فعال ہوجائیں اسکی تشویش ملک کی پرانی سیاسی جماعتوں کو ہے۔ جبکہ میری پہچان پاکستان اورر عشرت العباد خان کی مقبولیت انکے ساتھ بڑے بڑے نام جڑنے کی اطلاعات نے بھی سیاسی پنڈتوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ سندھ کی حکومت اور ایم کیو ایم کراچی کو ڈیلیور کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔کرائم اور بلدیاتی اداروں میں گورکھ دھندوں نے کراچی کی شکل پھر بگاڑ دی ہے۔ گزشتہ کئی روز سے نوجوان ڈکیتی وارداتوں میں قتل ہو رہے ہیں۔ سیاسی جماعت کے رہنما سے موبائل اور کیش چھین لیا گیا۔ کورنگی میں کرائم ریٹ، سرجانی، گلستان جوہر اور صدر کے علاقے ریڈ زون بن گئے ہیں۔ اورنگی کرائم کا اڈہ ہے۔ لیکن علی خورشیدی اپنے ہی علاقے پر اسٹینڈ لیتے نظر نہیں آتے۔ پی ٹی آئی کا انتشار ملک میں بڑے انقلاب کا اشارہ دے رہا ہے۔ علی امین گنڈا پور ملک کی سا لمیت کو گنتی میں لائے بغیر دھونس دھمکی پر اترے ہوئے ہیں۔ فیصل واوڈا بشری بی بی اور علی امین گنڈا پور پر عمران خان پر حملے کا انکشاف کر رہے ہیں۔ سینئر سیاست داں محمدعلی درانی سابق وفاقی وزیر اطلاعات نے سسٹم کے جانے کی پیشین گوئی کردی ہے۔ متعدد سیاست داں اور اینکرز بھی بڑے دھماکے کی پیشین گوئی کر رہے ہیں۔ فیض حمید کا معاملہ بھی کسی نی کسی نتیجے پر پہنچنے والا ہے۔ عمران خان کے لئے حالات سازگار نہیں۔ لیکن موجودہ حکومت کی عمر بھی کم نظر آرہی ہے۔ عشرت العباد خان کو ملک کی سیاست کے لئے فیورٹ، شاہد خاقان عباسی کو پنجاب، جبکہ پرانی جماعتوں کے لئے عوام میں نو اولڈ پارٹیز کا خاموش پیغام دے دیا ہے۔ کراچی میں لائی گئی کراچی نوجواناں پارٹی بھی دی اینڈ ہوگئی ہے۔ کیونکہ انکے پاس کوئی ٹھوس پروگرام نہیں تھا۔ جبکہ ایسی اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں کہ ملک پر اگر لشکر کشی کی کیفیت اور مدرسوں کے مسئلہ پر حکومت ناکام ہوگئی تو دھڑن تختہ ہوچکا ہے۔ اس لئے سیاسی صورتحال کسی بھی طرح اطممعنان بخش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دسمبر میں اغر عشرت العباد واپس آگئے تو وہ قومی اور مقبول ترین لیڈر ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ کئی سروے ہو چکے ہیں اس میں عشرت االعباد کو پہلے نمبر پر ووٹ ملے۔ سندھ کی دیہی اور شہری سیاست میں وہ سب کے لئے قابل قبول ہیں۔ جبکہ فیصل وواڈا نے 15دن میں گورنر سندھ کی تبدیلی کا بھی عندیہ دیا ہے۔ عشرت العباد خان سرمایہ کاری ریاست پہلے ملک پہلے کے نعرے کی بھی مقبولیت رکھتے ہیں جو بڑی تبدیلی بن سکتی ہے۔
4576
























