
کراچی
منشیات فروشوں نے اسمگلنگ کے روایتی طریقوں میں جدت پیدا کی ہے ، ای سگریٹ (ویپ)، طبی دستانوں، چاکلیٹس، مشروبات، کار ائیرکنڈیشن کمپریسر، سفری بیگز اور دیگر سامان سمیت کھانے پینے کی اشیاء تک کے ذریعے منشیات اسمگل کررہے ہیں
صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول سندھ مکیش کمار چاولہ کے زیر صدارت تیسرا ہائی پاور مانیٹرنگ کمیٹی کا اہم اجلاس
اجلاس میں نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ، اے این ایف، کسٹم، پولیس، اسکول و کالج ایجوکیشن، محکمہ سماجی بہبود، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن، یو این او ڈی سی، یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے اعلی افسران کی شرکت
صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ کو اجلاس میں شریک محکموں کی منشیات کی روک تھام سے متعلق تفصیلی بریفنگ، اقدامات پر غور
صوبائی وزیر کی منشیات کی روک تھام سے متعلق میڈیا کمپین چلانے، ری ہیبیلیٹیشن سینٹرز کا ڈیٹا جمع کرنے، صوبے کے سرحدی علاقوں میں سرویلنس سسٹم کو بڑھانے، متعلقہ محکموں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ سسٹم قائم کرنے کی ہدایت
کراچی۔صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول سندھ مکیش کمار چاولہ کے زیر صدارت تیسرا ہائی پاور مانیٹرنگ کمیٹی کا اہم اجلاس ڈی جی نارکوٹکس کنٹرول سندھ کے دفتر میں منعقد ہوا۔ جس میں سیکریٹری ای ٹی اینڈ این سی محمد سلیم راجپوت، سیکریٹری سماجی بہبود پرویز علی سیہڑ، ڈائریکٹر جنرل نارکوٹکس کنٹرول سندھ اورنگزیب پنھور، ریجنل ڈائریکٹر اینٹی نارکوٹکس فورس برگیڈئیر عمر فاروق، ڈائریکٹر اکیڈمک سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن خالد حسین مہر، سینئیر ممبر یونائیٹڈ نیشنز آفس آن ڈرگز اینڈ کرائمز ساجد اسلم، ایڈیشنل ڈائریکٹر کسٹمز باسط حسین، ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر سمیت محکمہ اسکول ایجوکیشن، کالج ایجوکیشن، یونیورسٹیز اینڈ بورڈز و متعلقہ محکموں کے نمائندگان بھی شریک تھے۔ صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ کو اجلاس میں شریک تمام محکموں کی جانب سے منشیات کے خاتمے، روک تھام سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی اور ممکنہ اقدامات اقدامات پر غور کیا گیا۔ ریجنل ڈائریکٹر اے این ایف برگیڈئیر عمر فاروق نے صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ کو بریفنگ دیتے ہوئے
بتایا کہ منشیات فروشوں نے کس طرح اسمگلنگ کے روایتی طریقوں میں جدت پیدا کی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ منشیات فروش، صابن، شیمپو، کپڑوں، ای سگریٹ (ویپ)، طبی دستانوں، چاکلیٹس، مشروبات، کار ائیرکنڈیشن کمپریسر، سفری بیگز اور دیگر سامان سمیت کھانے پینے کی اشیاء تک کے ذریعے منشیات اسمگل کررہے ہیں۔ ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر نے بتایا کہ سندھ پولیس نے رواں برس منشیات فروشوں کے ٹھکانوں پر 10 ہزار سے چھاپوں میں 13 ہزار سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا اور ساڑھے گیارہ ہزار سے زائد مقدمات درج کیے جبکہ منشیات فروشوں کے قبضے سے 122 کلو گرام سے زائد آئس کرسٹل، 54 کلو گرام ہیروئن، ساڑھے آٹھ ہزار کلوگرام سے زائد چرس، 105 کلو افیون اور 32 ہزار لیٹر سے زائد لوکل شراب برآمد کی ہے۔ محکمہ تعلیم کے افسران نے بتایا کہ انھوں نے تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے سربراہان کو منشیات فروشی اور طلباء کو منشیات کے استعمال سے بچاؤ سے متعلق آگاہ کیا ہے جس کے بعد تعلیمی اداروں میں بالخصوص غیرتدریسی عملے پر خصوصی نظر رکھی جارہی ہے جبکہ مختلف تعلیمی اداروں سے کچھ افراد کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی ہے۔ صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ نارکوٹکس کنٹرول سندھ مکیش کمار چاولہ نے اجلاس میں شریک تمام متعلقہ محکموں کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ آپ تمام اچھا کام کررہے ہیں تاہم منشیات کے خاتمے اور اسکے پھیلاؤ کے سدباب کے لیے ہمیں مزید ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ نے منشیات کی روک تھام سے متعلق عوامی آگہی کے لیے بھرپور میڈیا مہم چلانے کی ہدایت کی۔ صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ نے کہا کہ صوبے کے سرحدی علاقوں میں سرویلنس کے نظام کو بڑھایا جائے اور منشیات کے خلاف کاروائیوں سے متعلق تمام متعلقہ محکموں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ کا نظام قائم کیا جائے۔ انھوں نے منشیات کے عادی افراد کے لیے قائم تمام پرائیویٹ ری ہیبلیٹیشن سینٹرز (Rehabilitation Centers) کا ڈیٹا جمع کرکے جامع پالیسی مرتب کرنے جبکہ منشیات کی روک تھام سے متعلق بروقت اقدامات کے لیے ہر ماہ اجلاس منعقد کرنے کی بھی ہدایت کی۔
ہینڈآؤٹ نمبر 925۔۔۔
کراچی
مور خہ14 دسمبر 2024
سندھ حکومت چینی کمپنیوں کے لیے اکنامک زونز بنائے گی: صوبائی وزیر
کراچی14 دسمبر۔ سندھ حکومت مقامی تاجروں کے ساتھ مل کر چینی سرمایہ کاروں کو مختلف صنعتیں لگانے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے کراچی میں دو خصوصی اقتصادی زونز تیار کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہ بات صوبائی وزیر برائے توانائی، منصوبہ بندی اور ترقی سید ناصر حسین شاہ نے ہفتہ کو کہی۔ ایکسپو سینٹر کراچی میں 10ویں بیوٹی، فٹنس اور کنزیومر ہیلتھ انٹرنیشنل ایکسپو میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ملک کے تجارتی مرکز کراچی میں متعدد صنعتیں قائم ہو رہی ہیں جس کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر تجارتی تبدیلیاں ہیں۔ متعدد ممالک چین سے براہ راست درآمدات کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن چینی مصنوعات اب بھی بالواسطہ طور پر دیگر ممالک کے راستے درآمد کی جا سکتی ہیں، خاص طور پر پاکستان سے، جو ابھرتے ہوئے تجارتی مواقع کے تحت درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے لیے ترجیحی مارکیٹ ہوگی۔ناصر حسین شاہ نے پاکستانی تاجروں پر زور دیا کہ وہ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور “میڈ ان پاکستان” برانڈ کے تحت برآمدات بڑھانے کے لیے اپنے چینی صنعتکاروں کے ساتھ تعاون کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کراچی کے مختلف صنعتی زونز کے ساتھ ان کے انفراسٹرکچر کو مخصوص منصوبوں اور ضروریات کے مطابق تیار کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔توانائی میں صوبے کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ناصر حسین شاہ نے کہا کہ حکومت نے بجلی کی پیداوار میں اہم سنگ میل حاصل کیا ہے۔ منصوبہ بند سولر پارک کے لیے 3.5 سینٹ فی یونٹ کے غیر معمولی طور پر کم ٹیرف کی منظوری دی گئی ہے جو کراچی اور سندھ کے رہائشیوں کو مختلف مراحل میں سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے مقرر ہے.اس موقع پر ای کامرس گیٹ وے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد عزیر نظام نے کہا کہ غیر ملکی اور مقامی مندوبین اور تاجروں کی شرکت عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت امیج کو ظاہر کرتی ہے۔ جس سے تاجروں، سرمایہ کاروں اور سیاحوں کو ملک کی طرف راغب کرنا آسان ہوتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کھا کہ کاروباری اور اقتصادی سرگرمیاں روایتی شعبوں سے ابھرتی ہوئی صنعتوں جیسے کہ لائف اسٹال اور صحت سے متعلق صنعتوں کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ یہ شعبے عالمی اور مقامی دونوں سطحوں پر سرمایہ کاری اور روزگار کے لیے نمایاں مواقع پیدا کر رہے ہیں۔اس نمائش میں امریکہ، چین، کوریا، ایران، ترکی اور انڈونیشیا سمیت سات ممالک کے 2000 سے زائد معروف برانڈز اور 350 کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں۔ توقع ہے کہ نمائش 40,000 زائرین کو راغب کرے گی اور سروس ایکسپورٹ، B2B ڈیلز، اسپانسر شپ اور سیاحت سے متعلق سرگرمیوں کے ذریعے 20 ملین ڈالر کی آمدنی حاصل کرے گی۔اس تقریب کا مقصد پاکستان کے ابھرتے ہوئے صحت کی دیکھ بھال، فٹنس اور فلاح و بہبود کے شعبوں میں اسٹیک ہولڈرز، ماہرین اور صارفین کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ یہ پاکستانی سامعین کے لیے خوبصورتی کے نئے رجحانات اور اختراعات کو متعارف کرانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح ان صنعتوں میں ملک کی عالمی موجودگی کو بڑھانا ہے۔
ہینڈ آءوٹ نمبر 933۔۔۔۔ ایم ایس ایس
کراچی
مور خہ14 دسمبر 2024
کراچی14 دسمبر۔ محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ حکومت سندھ نے نئے موٹر وہیکل فٹنس سرٹیفکیٹس متعارف کرانے اور ایم وی آئز کے نئے ایس او پیز کا اعلان کر دیا، نئے موٹر وہیکل فٹنس سرٹیفکیٹس میں بارکوڈز سمیت جدید حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، یکم دسمبر 2024 سے اطلاق ہوگا، محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے اس ضمن میں احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ نئے اقدامات گاڑیوں کی فٹنس بڑھانے کے لیے ڈیزائن کئے گئے ہیں، نئے اقدامات کا مقصد روڈ سیفٹی کو یقینی بنانا، ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنا، جعلی سرٹیفکیٹس کے اجراء کو روکنا، اور حکومتی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔ایک بیان میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ بھر میں موٹر وہیکل انسپکٹرز کے لیے تفصیلی ایس او پیز جاری کیے گئے ہیں، سرٹیفکیٹس کے اجراء میں یکسانیت اور جوابدہی کو برقرار رکھنے کے لیے ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ نئے سرٹیفکیٹس کے لیے کٹ آف تاریخ سے عوام کو مطلع کرے گا، جس کے بعد تمام پرانے فٹنس سرٹیفکیٹس کو مسترد شدہ قرار دے دیا جائے گا، نیز، سندھ بھر کے ایم وی آئی ونگز میں محفوظ تمام پرانا رکارڈ ضبط کر لیا جائے گا، اینڈرائیڈ ایپلی کیشن کا استعمال کرتے ہوئے فٹنس سرٹیفکیٹس کا مرکزی ڈیٹا بیس رکھا جائے گا۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ نئے نظام پر تعمیل یقینی بنانے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول ٹریفک پولیس اور ضلعی ایس ایس پیز ہائی وے اور موٹروے پولیس سے مدد لی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ نامزد افسران کی طرف سے باقاعدہ سنیپ چیکنگ کی جائے گی، جعلی سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے انسپکٹرز کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے عوامی آگاہی مہم چلائی جائے گی، ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز کے ساتھ میٹنگز منعقد کی جائیں گی۔سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ گاڑیوں کے مکمل معائنے کے لیے کراچی میں سعید آباد، ملیر، اور کیماڑی میں جگہیں مختص کی جا رہی ہیں، دیگر اضلاع میں بھی ایسی سہولت دی جا رہی ہے، موثر انتظام کے لیے کراچی کو دو زونز ایسٹ اور ویسٹ میں تقسیم کیا جائے گا۔ ایک فوکل پرسن کراچی میں آپریشنز کی نگرانی کرے گا اور محکمہ کو ماہانہ پیش رفت کی رپورٹ پیش کرے گا۔
ہینڈ آءوٹ نمبر 932۔۔۔۔
کراچی
مور خہ14 دسمبر 2024
کراچی14 دسمبر۔ کراچی میں علی گڑھ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی جانب سے گریجوئیشن تقریب منعقد کی گئی۔ جس میں وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی/ سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (اسٹیوٹا) کے چیئرمین جنید بلند نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور کامیاب طلباء و طالبات میں میڈلز اور اسناد تقسیم کیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی/ چیئرمین اسٹیوٹا جنید بلند نے کہا کہ مجھے نوجوانوں سے مل کر بہت خوشی ہوتی ہے، ہمیں اپنے طلباء و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کے ساتھ بیٹھنا چاہیے۔ میں تمام کامیاب طلباء و طالبات کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تربیت یافتہ نوجوان ہی ملک کے روشن مستقبل کے ضامن ہیں، کامیاب ہونے کے لیے محنت ضروری ہے۔ علی گڑھ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے اساتذہ اور طلباء نے محنت اور جدوجہد سے اپنے ادارے کے لیے ایک خاص مقام بنایا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج اس ادارے سے سینکڑوں نوجوان تربیت حاصل کرکے اپنے ملک کی خدمت کے لیے قابل ہو چکے ہیں۔ پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نوجوانوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کی ذمہ داری دی ہے، اسے اسٹیوٹا کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کروں گا۔ پی پی پی چیئرمین کو ملک کے نوجوانوں سے بہت سی امیدیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ دن رات ملک اور اپنی عوام کی خدمت کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
ہینڈ آءوٹ نمبر 931۔۔۔ اے کے
کراچی
مور خہ13 دسمبر 2024
کراچی ، 13 دسمبر ۔حکومت سندھ کے معاونت سے چینی اور پاکستانی سفارتکاروں نے کراچی میں ٹرانسپورٹ، صحت، توانائی و زراعت کے پانچ مختلف منصوبوں کے مفاہمت کے یادداشت ناموں پر دستخط کرلئے ہیں۔ فریقین کی جانب سے الیکٹرک کار کی لوکل اسمبلنگ، سولر پینل کی لوکل مینوفیکچرنگ ، سلو رلیز فرٹیلائزر ، الجی فارمنگ اور دھابیجی اسپیشل اکنامک زون میں میڈیکل سٹی کے قیام کے ایم او یوز پر دستخط کئے گئے۔ چینی اور پاکستانی سرمایہ کاروں کے درمیان ایم او یوز پر دستخطوں کے تقریب سندھ کے وزیر توانائی سید ناصر حسین شاہ کے دفتر میں ہوئی، تقریب میں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، صوبائی وزیر برائے توانائی، منصوبہ بندی و ترقیات اور وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ سید قاسم نوید قمر نے شرکت کی۔ ایم او یوز پر دستخط کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کا ایک وفد سندھ آیا ہوا ہے ، وفد کی وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کی جانب سے کسی بھی شعبے میں سرمایہ کاری کی گئی تو حکومتس سندھ ہر ممکن مدد کرے گی، سرمایہ کاروں نے صدر آصف علی زرادری سے بھی ملاقات کی، جس میں چینی سفیر بھی موجود تھے، صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان بھر میں جہاں بھی چینی سرمایہ کار سرمایہ کاری کریں گے، حکومت پاکستان اور حکومت سندھ ان کی مکمل معاونت کرے گی۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ چین پاکستان دوستی ایک مثالی دوستی ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاک چین دوستی کی بنیاد ڈالی، 2008 میں صدر آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں سی پیک منصوبے کی بنیاد ڈالی، ان کے سب سے زیادہ دورے چائنہ کے ہوتے تھے۔ لوگ مخالفت بھی کرتے تھے، صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ سی پیک محض ایک کوریڈور نہیں یہ دو ملکوں کو قریب لانے کا راستہ ہے، ہمیں پاکستان کی معیشت کو آگے لے کر جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں نے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی دکھائی، وزیر اعلیٰ معاون خصوصی سید قاسم نوید قمر نے وفد کو دھابیجی اسپیشل اکنامک زون کا بھی دورہ کروایا، جس میں بھی چینی سرمایہ کاروں نے بہت دلچسپی دکھائی اور دھابیجی اسپیشل اکنامک زون میں صنعتیں لکانے کا کہا، دھابیجی اکنامک زون واحد زون ہے جو سی پیک سے جڑا ہوا ہے۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ میں پاکستان گلوبل رینکنگ میں سب سے اوپر ہے اور اس کی وجہ صوبہ سندھ ہے، صوبہ سندھ نے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت بڑے بڑے منصوبوں پر کام کیا ہے۔ سندھ کے بڑے بڑے منصوبے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت کامیابی سے چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کار پاکستان میں اسٹیٹ آف دی آرٹ میڈیکل سٹی بنانا چاہتے ہیں، جس پر حکومت سندھ نے تمام ممکنہ سہولیات کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی۔ ہم نے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لئے ای وی ٹیکسی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری ی ہدایات پر ہم ایک ایسی اسکیم لانے والے ہیں جس میں ہزاروں نوجوانوں کو اپنا روزگار کمانے کا موقع ملے گا، ہم ماحول دوست ٹیکسی سروس متعارف کروانے جارہے ہیں، جس سے مسافروں کو بھی سستی اور اچھی سہولت ملے گی۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اس پورے عمل میں محکمہ سرمایہ کاری کا انتہائی اہم کردار ہے، قاسم نوید قمر نے آتے ہی بہت اچھی کوششیں کیِ ، ہمارا مقصد پاکستانی تاجروں کو چینی تاجروں کے قریب لانا تھا تاکہ یہ آپس میں کاروباری ماڈل ایکسچینج کریں اور تاجروں کا فائدہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کا دورہ کامیاب رہا، چین ہمارا برادر ملک ہے، ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں، چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے، جتنی صنعتیں قائم ہونگی روزگار کے مواقع اتنے بڑھیں گے۔ ہم صرف سرکاری نوکریوں پر انحصار نہیں کر سکتے، میڈیکل سٹی کے قیام سے پچاس ہزار لوگوں کو روزگار ملے گا۔ ایک سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ نے میڈیکل سٹی کے قیام کے لئے سرمایہ کاروں کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی، میڈیکل سٹی کے قیام کے لئے ایم او یو پر دستخط کئے جا رہے ہیں، جو چیزیں پاکستان میں بنائی جائیں گی وہ پاکستان سے ایسکپورٹ بھی ہونگی، جس سے پاکستان کو فائدہ ہوگا۔ دھابیجی اکنامک زون میں صنعت کے قیام پر دس سالہ ٹیکس استثنا ہے، یہ کاروباری افراد کو بہت بڑا رلیف ہے، یہ اقدام ان تمام سرمایہ کاروں کے لئے ہے جو دھابیجی اسپیشل اکنامک زون میں کاروبار کرے گا۔ پریس کانفرنس کے موقع پر ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی قاسم نوید قمر نے کہا کہ گرینائٹ یہاں سے ایکسپورٹ ہوتا تھا اور دوسرے ملکوں سے پراسیس ہو کر ہمارے ہی ملک میں فروخت ہو رہا تھا، ہماری کوشش ہوگی کہ اس کے پراسیس کا کام بھی یہاں پر ہی ہو۔ ایک اور سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے، ایف ٹی سی کی عمارت میں تھر کا گرینائٹ لگایا گیا ہے، تھر میں ہمارے پاس اربوں ٹن کوئلہ موجود ہے، ماہرین کے مطابق ہم کوئلے سے سستی بجلی بنا بھی سکتے ہیں اور دو سؤ سال تک فروخت بھی کر سکتے ہیں۔ پریس کانفرنس کے موقع پر بات کرتے ہوئے وزیر توانائی اور منصوبہ بندی و ترقیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ فرسٹیلائزیشن ہماری اہم ضرورت ہے، دو سئو ایکڑ زمین پر پلانٹ لگا کر کول کی گیسیفکیشن کا کام کیا جائے گا، سولر پارک بھی لگائے جارہے ہیں، جو توانائی کے شعبے بہت معاون ثابت ہونگے، کوئلے سے جو بجلی پیدا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ سولرپارکس سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمتوں کا تعین حکومت سندھ کرے گی، سولر پارک سے عوام کو فی یونٹ 18 روپے فی یونٹ مل سکے گی، بجلی کی قیمتوں کا تعین سیپرا اور ایس ٹی ڈی سی کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کے الیکٹرک میں وفاق کے تین نمائندے ہیں سندھ کی کوئی نمائندگی نہیں، لوڈ شیڈنگ اور ٹیرف کا ایک طریقہ کار لیکن نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے اس میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ عوام کو سستی بجلی ملے، سستی بجلی کی فراہمی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ویژن ہے۔
ہینڈآؤٹ نمبر 930۔۔۔
کراچی
مور خہ13 دسمبر 2024
چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت محکمہ اوقاف، زکوٰۃ و عشر کا اہم اجلاس
درگاہوں کی تزئین و آرائش میں محکمہ ہیریٹیج کو شامل کرنے کی ہدایت
نذرانے کی رقم میں کرپشن کے خلاف سخت کارروائی کا حکم
اوقاف کی تمام دکانیں اور زرعی زمینیں مارکیٹ ریٹ پر کرائے پر دی جائیں، اوقاف کی زمینوں سے قبضہ ختم کروانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کو معاونت کی ہدایت
کراچی 13 دسمبر ۔چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت محکمہ اوقاف، زکوٰۃ و عشر کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکریٹری اوقاف محمد مرید راہموان، چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف فرخ شہزاد قریشی، محکمہ خزانہ، محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سمیت دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں محکمہ اوقاف کی زمینوں سے غیر قانونی قبضہ ختم کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ چیف سیکریٹری سندھ نے ہدایت دی کہ محکمہ اوقاف کی تمام دکانیں اور زرعی زمینیں مارکیٹ ریٹ کے مطابق کرائے پر دی جائیں اور اس عمل کو شفاف بنایا جائے۔چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے درگاہوں کی تزئین و آرائش کے حوالے سے محکمہ ہیریٹیج کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران ان مقامات کی تاریخی اور ثقافتی حیثیت کو مکمل طور پر برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ درگاہوں کے لنگر خانوں کا معائنہ سندھ فوڈ اتھارٹی کے ذریعے کیا جائے تاکہ ان مقامات پر زائرین کو صاف اور معیاری کھانے کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس کے دوران سیکریٹری اوقاف نے بتایا کہ محکمہ اوقاف کے پاس صوبے بھر میں 10823 ایکڑ زرعی زمین موجود ہے، جبکہ 2226 دکانیں، 19 گودام اور 810 فلیٹس بھی محکمہ کی ملکیت ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس سال پراپرٹی کی مد میں محکمے کو 103 ملین روپے موصول ہوئے ہیں اور 870 ملین روپے کے 44 ترقیاتی منصوبے زیر تعمیر ہیں۔چیف سیکریٹری سندھ نے زرعی زمینوں کی تین ماہ کے اندر میوٹیشن مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے درگاہوں کے اطراف تجاوزات کے خاتمے اور زائرین کی سہولت کے لیے صفائی کے انتظامات کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ چیف سیکریٹری سندھ نے سیکریٹری اور چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف کو ہداہت کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ اوقاف کی زمینوں سے ضلعی انتظامیہ کی مدد سے غیر قانونی قبضہ ختم کروائی جائے۔ چیف سیکریٹری سندھ نے ہدایت دی کہ محکمہ اوقاف کی تمام دکانیں اور زرعی زمینیں مارکیٹ ریٹ کے مطابق کرائے پر دی جائیں اور اس عمل کو شفاف بنایا جائے تا کہ محکمے کے روینیو میں بھی اضافہ ہو ۔ انہوں نے نذرانے کی رقم میں کرپشن میں ملوث ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا بھی حکم دیا اور کہا کہ ان تمام اقدامات کا مقصد عوام کو بہتر خدمات فراہم کرنا اور محکمے کی کارکردگی میں شفافیت لانا ہے۔
ہینڈآؤٹ نمبر 929۔۔۔ایف آئی جے
کراچی
مور خہ13 دسمبر 2024
امریکی مشن کے وفد کی اسپیکر صوبائی اسمبلی سندھ سے ملاقات
خواتین اراکین سندھ اسمبلی کے تربیتی پروگرام شروع کرنے پر اتفاق۔
کراچی 13 دسمبر۔ امریکی مشن برائے پاکستان کے وفد نے جمعہ کو جیرڈ ہینسن (چیف پولیٹیکل یونٹ) اور مائیکل چیڈوک (پبلک افیئرز آفیسر) کی قیادت میں اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ سے سندھ اسمبلی میں ان کے دفتر میں ملاقات کی۔وفد میں صالح شاہ اور فریال نجیب بھی شامل تھیں۔امریکی مشن کے وفد کی اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ سے ملاقات کے دوران خواتین اراکین اسمبلی (ایم پی ایز) کو بااختیار بنانے کے لیے تربیتی پروگرام شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اسپیکر سندھ اسمبلی نے اس پروگرام کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور خواتین کو بااختیار بنانے کو اپنی پارٹی کے منشور کا اہم حصہ قرار دیا۔اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے کہا یہ میری پارٹی کا منشور ہے کہ خواتین کو بااختیار بنایا جائے اور ہر ایک کے ساتھ برابری کا سلوک کیا جائے، چاہے وہ کسی بھی صنف یا سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہو۔اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ نے کہا کے سندھ اسمبلی واحد صوبائی اسمبلی ہے جہاں پر ریکارڈ قانون سازی ہوئی ہے اور ایوان میں حکومتی اراکین کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے اراکین کو بھی عوام کے مسائل پر بات کرنے کے لئے وقت دیا جاتا ہے اور ہر جماعت کو اپنا موقف پیش کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کے وہ بطور کسٹوڈین آف ہاؤس ایوان میں موجود حکومتی اور اپوزیشن کے اراکین کو برابری کے بنیاد پر دیکھتے ہیں اور تمام جماعتوں کو قانون سازی کے لئے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ ملاقات میں سندھ اسمبلی میں کی گئی قانون سازی،صوبے کی سیاسی صورتحال سمیت دیگر شعبوں اور باہمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں ایکسچینج پروگرام پہ بات چیت سمیت صوبے میں نوجوانوں کے لیے ایک انٹرن شپ پروگرام شروع کرنے اور ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ممکنہ باہمی تعاون پر زور دیا گیا۔امریکی مشن کے وفد نے اسپیکر سندھ اسمبلی کے ترقی پسند سوچ اور اقدامات کو سراہا۔اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے وفد کو سندھ کی ثقافت کی علامت سندھی ٹوپی اور اجرک پیش کیں.
ہینڈآؤٹ نمبر 928۔۔۔آئی ایس
مور خہ13 دسمبر 2024
سندھ حکومت آگ سےبچاؤ کےلیےموثراقدامات کر رہی ہے ناصر حسین شاہ
14ویں فائر سیفٹی اور ایوارڈز کی تقریب کا انعقاد
کراچی13 دسمبر ۔سندھ حکومت نے ریسکیو 1122 اور کے ایم سی کے فائر ڈیپارٹمنٹ کو جدید ترین مشینری اور آلات فراہم کرتے ہوئے شہر میں فائر ایمرجنسی کے دوران جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بہترین اقدامات کیے ہیں۔ یہ بات سندھ کے وزیر منصوبہ بندی و توانائی، سید ناصر حسین شاہ نے 14ویں فائر سیفٹی اینڈ سیکیورٹی کنونشن 2024 میں بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔یہ تقریب نیشنل فورم فار انوائرمینٹ اینڈ ہیلتھ (این ایف ای ایچ) اور فائر پروٹیکشن انڈسٹری آف پاکستان کے تحت منعقد کی گئی۔ اس تقریب سے وزیر منصوبہ بندی ناصر حسین شاہ, احمد عظیم علوی، صدر سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری, جنید ناقی، صدر کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری, ریحانہ یاسمین، کمانڈر سندھ ایمرجنسی ریسکیو سروس (ریسکیو 1122), ڈاکٹر عمران تاج، صدر فائر پروٹیکشن انڈسٹری آف پاکستان, محبوب علی شیخ، کمانڈنٹ فیڈرل سول ڈیفنس ٹریننگ اسکول, نعیم قریشی، صدر این ایف ای ایچ, رُقیہ نعیم، جنرل سیکریٹری, ندیم اشرف، نائب صدر اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور ریسکیو 1122 کو جدید فائر فائٹنگ اور ریسکیو کے آلات سے آراستہ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے، تاہم صنعت کاروں اور تجارتی اداروں کو بھی آگ کے خطرات سے بچاؤ کے لیے ضروری اقدامات کرنے چاہئیں۔انہوں نے تجویز دی کہ فائر سیفٹی قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جائے۔ اس ٹاسک فورس میں حکومتی نمائندے، صنعت کار، کاروباری افراد، اور متعلقہ ادارے شامل ہوں تاکہ آگ سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جا سکے۔ اس موقع پر احمد عظیم علوی، صدر سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری نے کہا کہ اسکولوں اور ووکیشنل ٹریننگ کورسز میں آگ سے بچاؤ کی تربیت کو شامل کیا جانا چاہیے تاکہ نوجوان نسل کو ایمرجنسی حالات سے نمٹنے کی مکمل تربیت حاصل ہو۔ جنید ناقی، صدر کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری نے جاپانی نظام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں اسکولوں میں بچوں کو قدرتی آفات سے نمٹنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے صنعت کاروں پر زور دیا کہ وہ جدید ٹیکنالوجی اور آگ سے بچاؤ کے قوانین کو اپنائیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ریحانہ یاسمین، کمانڈر سندھ ایمرجنسی ریسکیو سروس (ریسکیو 1122) نے بتایا کہ ریسکیو 1122 نے اب تک 7 لاکھ میڈیکل ایمرجنسی کیسز اور 22 ہزار روڈ حادثات میں فوری مدد فراہم کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں جلد ہی موٹر سائیکل پر مبنی ریسکیو سروس شروع کی جائے گی تاکہ تنگ گلیوں اور گنجان آبادی والے علاقوں میں فوری مدد پہنچائی جا سکے۔ڈاکٹر عمران تاج، صدر فائر پروٹیکشن انڈسٹری آف پاکستان نے تعمیراتی شعبے میں فائر سیفٹی کے قوانین کی سختی سے پابندی پر زور دیا۔محبوب علی شیخ، کمانڈنٹ فیڈرل سول ڈیفنس ٹریننگ اسکول کراچی نے کہا کہ ان کا ادارہ 1950 سے رضاکاروں کو آگ سے بچاؤ اور ڈیزاسٹر ریلیف کی مفت تربیت فراہم کر رہا ہے۔ نعیم قریشی، صدر NFEH نے کہا کہ سرکاری اور نجی اداروں کو مل کر آگ سے بچاؤ کے اقدامات پر کام کرنا چاہیے۔رُقیہ نعیم، جنرل سیکریٹری NFEH نے کراچی کی فائربریگیڈ سروس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ندیم اشرف، نائب صدر NFEH نے پاکستانی صنعت کاروں کو عالمی فائر سیفٹی قوانین پر عمل کرنے کی ترغیب دی تاکہ عالمی سطح پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا جا سکے۔تقریب کے اختتام پر وزیر منصوبہ بندی نے 14ویں فائر سیفٹی ایوارڈز 2024 تقسیم کیے، جن میں 45 کمپنیوں اور صنعتوں کو ان کی بہترین کارکردگی پر اعزاز سے نوازا گیا۔ یہ تقریب فائر سیفٹی کے موضوع پر سنجیدہ مباحث اور عملی اقدامات کو اجاگر کرنے میں کامیاب رہی، جس نے عوام اور صنعتوں کو فائر ایمرجنسی سے نمٹنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
ہینڈآؤٹ نمبر 927۔۔۔ایم ایس ایس
کراچی
مور خہ13 دسمبر 2024
امریکی مشن کے وفد کی اسپیکر صوبائی اسمبلی سندھ سے ملاقات
خواتین اراکین سندھ اسمبلی کے تربیتی پروگرام شروع کرنے پر اتفاق۔
کراچی 13 دسمبر۔ امریکی مشن برائے پاکستان کے وفد نے جمعہ کو جیرڈ ہینسن (چیف پولیٹیکل یونٹ) اور مائیکل چیڈوک (پبلک افیئرز آفیسر) کی قیادت میں اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ سے سندھ اسمبلی میں ان کے دفتر میں ملاقات کی۔وفد میں صالح شاہ اور فریال نجیب بھی شامل تھیں۔امریکی مشن کے وفد کی اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ سے ملاقات کے دوران خواتین اراکین اسمبلی (ایم پی ایز) کو بااختیار بنانے کے لیے تربیتی پروگرام شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اسپیکر سندھ اسمبلی نے اس پروگرام کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور خواتین کو بااختیار بنانے کو اپنی پارٹی کے منشور کا اہم حصہ قرار دیا۔اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے کہا یہ میری پارٹی کا منشور ہے کہ خواتین کو بااختیار بنایا جائے اور ہر ایک کے ساتھ برابری کا سلوک کیا جائے، چاہے وہ کسی بھی صنف یا سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہو۔اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ نے کہا کے سندھ اسمبلی واحد صوبائی اسمبلی ہے جہاں پر ریکارڈ قانون سازی ہوئی ہے اور ایوان میں حکومتی اراکین کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے اراکین کو بھی عوام کے مسائل پر بات کرنے کے لئے وقت دیا جاتا ہے اور ہر جماعت کو اپنا موقف پیش کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کے وہ بطور کسٹوڈین آف ہاؤس ایوان میں موجود حکومتی اور اپوزیشن کے اراکین کو برابری کے بنیاد پر دیکھتے ہیں اور تمام جماعتوں کو قانون سازی کے لئے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ ملاقات میں سندھ اسمبلی میں کی گئی قانون سازی،صوبے کی سیاسی صورتحال سمیت دیگر شعبوں اور باہمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں ایکسچینج پروگرام پہ بات چیت سمیت صوبے میں نوجوانوں کے لیے ایک انٹرن شپ پروگرام شروع کرنے اور ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ممکنہ باہمی تعاون پر زور دیا گیا۔امریکی مشن کے وفد نے اسپیکر سندھ اسمبلی کے ترقی پسند سوچ اور اقدامات کو سراہا۔اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے وفد کو سندھ کی ثقافت کی علامت سندھی ٹوپی اور اجرک پیش کیں.
ہینڈآؤٹ نمبر 928۔۔۔آئی ایس
کراچی
مور خہ12 دسمبر 2024
چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت کچے کے علاقے میں امن و امان کا جائزہ اجلاس
آپریشن کو مزید موثر بنانے کے لیے پولیس کو تمام جدید آلات اور وسائل فراہم کیئے جائیں گے۔ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ
آپریشن میں جنوری یاں اب تک 76 ڈاکو مارے، 115 زخمی جب کہ 363 ڈاکوؤں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ آئی جی سندھ غلام نبی میمن
کراچی 12 دسمبر ۔چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت کچے کے علاقے میں امن و امان کی صورتحال پر غور و خوض کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن، کمشنر سکھر، ڈی آئی جی سکھر، کمشنر لاڑکانہ اور ڈی آئی جی لاڑکانہ نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران کچے کے علاقے میں جاری پولیس آپریشنز اور ان کے نتائج پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یکم جنوری سے اب تک پولیس نے کچے کے علاقے میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے دوران 76 ڈاکو مارے گئے، 115 ڈاکو زخمی ہوئے، اور 363 ڈاکوؤں کو گرفتار کیا گیا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں کئی علاقے ڈاکوؤں سے خالی کرائے گئے ہیں اور امن و امان کی بحالی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے کچے کے علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے پولیس کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی کہ وہ ان کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائیں۔ چیف سیکریٹری نے کہا کہ کچے کے علاقے میں مستقل امن قائم رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں امن و سکون کا ماحول پیدا ہو اجلاس میں پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان قریبی تعاون پر بھی زور دیا گیا۔ چیف سیکریٹری نے کہا کہ تمام ادارے مل کر کام کریں تاکہ خطے میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے اور عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔اجلاس میں کچے کے علاقے میں مستقبل کے چیلنجز اور ان کے حل کے لیے بھی غور کیا گیا، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جامع حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ہدایت دی گئی۔ اجلاس کے اختتام پر یہ عزم کیا گیا کہ کچے کے علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن پر پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ انہوں نے پولیس کو تمام جدید آلات اور وسائل فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا تاکہ آپریشن مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ چیف سیکریٹری نے کہا کہ امن و امان کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل معاونت جاری رکھی جائے گی۔
ہینڈآؤٹ نمبر 926۔۔۔ایف آئی جے























