
تحریر ۔۔۔۔شہزاد بھٹہ
بجلی بنیادی ضرورت ھے عوام کو سستی و وافر بجلی کی فراہمی کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ھے
بجلی کے بغیر آپ صفر ھیں بجلی سے آپ کی تمام روزمرہ ضروریات پوری ھوتیں ھیں اور ملک کی معیشت کا پہیہ چلتا ھے
ریاست بجلی پیدا کرنے کے ایسے ذرائع استعمال کرنے کی کوشش کرتی ھے جس میں پیسے ملے اور عوام چاھے بھاڑ میں 
پاکستان بھر میں سینکڑوں دریاؤں جیسی نہریں موجود ھے جو سارا سال چلتی ھیں ان نہروں پر ندی پور اور رینالہ خورد جیسے چھوٹے چھوٹے ھزاروں بجلی گھر بآسانی بنائے جا سکتے ہیں جو عوام اور صنعتی یونٹس کو سستی ترین بجلی چوبیس گھنٹے مہیا کر سکتے ہیں
صوبے فضول سستی شہرت حاصل کرنے والے منصوبے چھوڑیں سب سے پہلے نہروں پر بجلی گھر گھر بنائیں اور مشکلات میں گھیری ہوئی عوام اور صنعت کو سستی ترین وافر بجلی فراہم کریں شکریہ

پنجابیوں کے دیس میں انگریزی کا راج
تحریر ۔۔۔۔شہزاد بھٹہ
انگریزی زبان ہمارے اعصاب پر کچھ اسطرح سوار ھو چکی ھے کہ ہر قسم کی عزت و تکریم کا مستحق صرف انگریزی بولنے والا ہی ٹھہرایا جاتا ھے
خاندانی شرافت بھی انگریزی بولنے والے کا ہی مقدر بنی ۔
ملازمت کیلئے بھی معیار انگریزی زبان کو ھی بنادیا گیا۔
اور تو اور اشرافیہ کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں انگریزی زبان کے علاوہ باقی زبانوں خاص طور پر پنجابی زبان کو گالیوں کی زبان قرار دینے لگے
اگر آپ پنجابیوں کے دیس پنجاب کے شہروں میں سفر کریں یا کسی مارکیٹ وغیرہ میں جائیں تو آپ کو نوے فیصد اشتہارات بینزز نیوئن سائن وغیرہ انگریزی زبان میں لکھے نظر آتے ہیں باقی دس فیصد اشتہارات اردو میں ھوتے ھیں اور جہاں تک پنجابیوں کی مادری زبان پنجابی کی بات کریں تو پنجاب دیس میں دور دور تک نظر نہیں آتی
ہماری دن بھر کی گفتگو میں بھی انگریزی اتنی رچ بس گئی ھے کہ زبان کو “لینگویج ” فیصلے کو ” ڈیسیجن ” بہت اچھا کو ” او کے ” شکریہ کو ” تھینک یو ” کوئی مسئلہ نہیں کو ” نو پرابلم ” آرام کو ” ریسٹ ” سیر و تفریح کو “آؤٹنگ ” خاندان کو ” فیملی ” کہنے لگے ھیں وغیرہ وغیرہ
بہت سے الفاظ جن سے اپنائیت جھلکتی تھی معاشرے میں متروک ہوگئے ۔ چچا، خالو، پھوپھا اب “انکل “ہوگئے ۔چچی ، خالہ، پھوپھی اب ” آنٹیاں ” ہوگئیں ۔ ماں کا محبت بھرا لفظ اب “ممی، ماما ” سے بدل گیا ۔ابو ، ابا جان، بابا جان جیسے شفقت سے لبریز الفاظ اب ” ڈیڈ ، پاپا ” سے بدل گئے
غرضیکہ پوری زندگی اور معمولات زندگی میں کامیابی ، شرافت، عزت ، وجاہت اب صرف انگریزی زبان کی مرہون منت ہے اگر سب سڑک پر سفر کریں یا کسی مارکیٹ وغیرہ میں جائیں تو آپ کو نوے فیصد اشتہارات نیوئن سائن وغیرہ انگریزی میں لکھے نظر آتے ہیں باقی دس فیصد اُردو میں جبکہ پنجابیوں کی مادری زبان پنجابی کہیں نظر نہیں آتی
قرآن مجید کی سورہ روم آیت نمبر 22 پارہ 21 میں رب کائنات نے آسمان و زمین کی تخلیق کے ساتھ ساتھ زبانوں اور رنگوں کے اختلاف کو بھی اپنی نشانی قرار دیا لیکن احساس کمتری کا شکار معاشرے کے بعض افراد نے زبانوں کے اختلاف کو بجائے اللہ کی نشانی سمجھنے کے اپنی جھوٹی اور خود ساختہ انا کا مسئلہ بنالیا۔
انگریزی پڑھیئے ، پڑھائیے، سیکھئے، سکھائیے لیکن اپنے اوپر انگریزی کو اتنا حاوی نہ کیجئے کہ اپنے پنجاب دیس کی دوسری زبانیں ہیچ معلوم ہونے لگیں اور انگریزی صرف وہاں بولیے جہاں کوئی آپکی زبان سمجھتا نہ ہو۔
دنیا بھر کے ممالک میں لوگ اپنی زبان بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں حتی کہ یورپ کے ممالک فرانس ھالینڈ جرمن ترکی وغیرہ میں لوگ انگریزی کی بجائے اپنی اپنی زبانیں بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں
چین جاپان کوریا نے دنیا میں ترقی انگریزی کی بجائے اپنی زبانیں بول کر کی ھے ان کے لیڈر جہاں بھی جائیں اپنی زبان میں بات کرتے ہیں
پنجاب میں پنجابی زبان کو عزت و احترام دیں اور فخر سے پنجابی بولیں اشتہارات میں بھی پنجابی زبان کو ترجیح دیں پنجاب میں پانچویں کلاس تک پنجابی لازمی لاگو کریں تاکہ ھر پنجابی بچہ اپنی مادری زبان پنجابی بول اور لکھ سکے
والسلام























