
۔۔۔۔۔3 دسمبر عالمی دن برائے معذوراں
تحریر شہزاد بھٹہ
آج پھر 3 دسمبر ھے دنیا بھر میں خصوصی بچوں کے لیے ایک اھم ترین دن جس میں خصوصی بچوں کے حقوق کی بات ھوتی ھے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ھے پیغامات دیے جاتے ہیں واک کا اہتمام کیا جاتا ھے
ان تمام تقریبات میں خصوصی بچوں اور افراد بڑے جوش و خروش سے حصہ لیتے ھیں خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت اور بحالی ایک فلاحی ریاست کی بنیادی زمہ داری ھے
حکومت کے ساتھ ساتھ معاشرے بھی خصوصی افراد کی بحالی میں اھم رول ادا کر سکتا ھے قیام پاکستان کے ساتھ ھی معذور بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے کام شروع کردیا گیا تھا
پاکستان میں مخدوم صدیق اکبر ڈاکٹر ایس ایم کے واسطی میجر نجیب میڈم شمیم افضل میڈم رضیہ لال شاہ کا اھم ترین کردار ھے جہنوں نے آل پاکستان ڈیف اینڈ ڈمب ویلفیئر سوسائٹی کے پیلٹ فارم سے 1948 سے 1975 تک تقریباً 17 کے قریب ادارے قائم کیے جہاں پر گونگے بہرے بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ووکیشنل ٹریننگ بھی دی جاتی تھی۔
گورنمنٹ آف پنجاب نے خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دیں
اس وقت تک محکمہ خصوصی تعلیم پنجاب نے تقریباً 303 خصوصی بچوں کے لیے ادارے قائم کیے ھیں جن تقریباً 36 ھزار اسپیشل بچے تعلیم وترتیب حاصل کر رھے ھیں جہاں پر خصوصی بچوں کو تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جا رھی ھیں
اس کے ساتھ نجی ادارے بھی معذور بچوں کی بحالی اور تعلیم و تربیت میں اعلی خدمات سر انجام دے رھی ھیں
کچھ عرصے پہلے خصوصی بچوں کو تعلیم کے ساتھ فنی تربیت بھی دی جارھی تھی کہ یہ بچے بھی اپنا روزگار حاصل کرسکیں مگر اب ھم نے خصوصی بچوں کے لیے ووکیشنل ٹریننگ کا سلسلہ تقریباً بند کر دیا ھے
محکمہ اسپشل ایجوکیشن پنجاب حکومت بی-اے تک تو خصوصی بچوں کو تعلیم دی رھی ھے جس سے بے روزگاروں کی ایک فوج تیار ھو رھی ھے پاکستان میں عام اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقع بہت کم ھیں تو ایسے بی-اے پاس خصوصی افراد خصوصاً گونگے بہرے بچوں کو کہاں سے نوکری ملے گئی۔
حکومت پنجاب خصوصی بچوں کے لیے مزید ڈگری کالجز بنا رھی ھے۔
محکمہ خصوصی تعلیم پنجاب کو چاہیے کہ ان تمام ڈگری کالجز کو ٹیکنیکل و ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ قرار دے جہاں پر خصوصی بچوں کو مختلف ٹریڈز میں ٹریننگ کا اھتمام کرے جو خصوصی بچے اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں
ان کو Inclusive education کے تحت نارمل طلبہ کے ساتھ مواقع فراہم کیے جائیں۔ اگر خصوصی بچے ووکیشنل ٹریننگ حاصل کرلیں تو ان کے لیے روزگار کے مواقع وافر مقدار میں موجود ھیں۔
اور سب اھم وقت کی ضرورت ھے کہ اسپشل ایجوکیشن کو بطور اختیاری مضمون میڑک ایف اے بی اے ایم اے بی ایس آنرز پروگرام وغیرہ میں پڑھایا جائے























