
رپورٹ ایم ڈی عمرانی ۔

گوادر میں دہشت گردوں کے حملے میں شہید فوجی جوان فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے علاقے گوادر میں دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والے جیکب آباد کے رہائشی فوجی جوان عبدالستار مستوئی کا جسد خاکی جیکب آباد لایا گیا، شہید جوان کی نماز جنازہ گورنمنٹ ہائی اسکول میں ادا کی گئی جس میں اسٹیشن کمانڈر برگیڈئیر عبدالوحید، کرنل شعیب احمد سمیت فوجی جوانوں، رینجرس سمیت عزیز و اقارب اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، شہید فوجی جوان کی تدفین آبائی قبرستان درگاہ مہر شاہ قبرستان میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ کی گئی، واضح رہے کہ جیکب آباد کے رہائشی 25 سالہ فوجی جوان عبدالستار مستوئی نے گزشتہ روز بلوچستان کے علاقے گوادر میں دہشت گردوں سے مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کی، شہیدجوان کو دو بیٹوں اور ایک بیٹی کی اولاد ہے اور وہ 2 سال قبل پاک آرمی میں شامل ہوئے تھے۔
جیکب آباد کی عدالت نے منشیات رکھنے کاجرم ثابت ہونے پر ملزم کو عمر قید اور جرمانے کی سزا سنادی۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرف الدین شاہ کی عدالت نے منشیات رکھنے کا جرم ثابت ہونے پر بلوچستان کے علاقے ڈھاڈر کے رہائشی ہاشم جتوئی کو عمر قید اور 10لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے، جرمانے کی رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید 5 ماہ قید کاٹنا ہوگی، واضح رہے کہ 24 دسمبر 2021 کو صدر پولیس نے بائی پاس کے قریب کاروائی کے دوران ملزم سے 30 کلو چرس برآمد کی تھی جس کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
جیکب آباد میں امن و امان کی بحالی، ایس ایس پی کا جرائم پیشہ افراد کے خلاف بھرپور کاروائی فیصلہ۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد ضلع میں امن و امان کی بحالی کے حوالے سے ایس ایس پی جیکب آباد کیپٹن (ر) صدام حسین نے ضلع کے تمام ڈی ایس پیز، ایس ایچ اوز اور یونٹ انچارجز کے ساتھ میٹنگ کی، ایس ایس پی نے تمام افسران کو احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ روپوش، اشتہاری، منشیات فروش اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت کاروائی کی جائے، مال مویشی سمیت ہر قسم کی چوری اور ڈکیتی کی فلفور برآمدگی کی جائے، سماجی برائیوں جوا، آکڑا پرچی، منشیات اور فحاشی کے اڈوں کے خلاف منظم کاروائی کرکے ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں، غیر ملکی سامان کی اسمگلنگ کو ہر صورت روکا جائے، ایس ایس پی جیکب آباد کیپٹن (ر) صدام حسین نے تمام ایس ڈی پی اوز، ایس ایچ اوز اور یونٹ انچارجز کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ اپنی ڈیوٹی دیانتداری اور ایمانداری سے کریں اور قتل کیس میں ملوث ملزمان سمیت کسی بھی مجرم کو رعایت نہ دی جائے چاہئے وہ کتنا بھی با اثر کیوں نہ ہو اور کسی بھی معصوم اور بے گناہ کو جھوٹے الزام میں نہ پھنسائیں اور جرم کو روکنے کے لیے حکمت عملی سے کام کریں اور جہاں بھی جرم ہو تو متعلقہ ایس ایچ او اس کا سوراخ لگا کر اس تک پہنچے اور سخت قانونی کاروائی کرے، تمام ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز اپنی حدود میں ملزمان کیخلاف سخت کاروائی کریں اور پیٹرولنگ اور سنیپ چیکنگ کو مزید سخت بنایا جائے اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔























