تحریک پاکستان کے سپاھی و قاہد اعظم کے ساتھی حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدروی کی 30 ویں برسی 9 دسمبر کو پور عقیدت واحترام سے منائی جارہی ہے

رپورٹ ۔۔
تحریک پاکستان کےمعروف کارکن پروفیسر حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدروی کی 30ویں برسی 9 دسمبر کو پورے عقیدت واحترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے،
حکیم عنایت اللہ نسیم عہد افرین، ہمہ جہت اور ہمہ صفت شخصیت کے مالک تھے، وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ان طلباء میں نمایاں تھے جنہوں نے قائداعظم کی علی گڑھ آمد پر ان کی بگھی کو اپنے کاندھوں پر اٹھا لیا تھا اور ال انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے تاسیسی اجلاس میں شرکت کی تھی


حکیم عنایت اللہ سوہدروی نے 23 مارچ 1940 کے اجلاس اقبال پارک لاھور میں بھی شرکت کی تھی جس میں قراداد پاکستان منظور ہوئی


حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدروی نے تحریک پاکستان اور پھر تعمیر واستحکام پاکستان کے لئے شب و روز کام کیا اور علمی، ادبی، طبی اور سیاسی میدانوں میں اپنی بے شمارخدمات سرانجام دیں۔
حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدروی 11 ستمبر 1911 کو وزیرآباد کے تاریخی اور مردم خیز سرزمین سوہدرہ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی چلے گئے اور وہاں پر ملی سرگرمیوں میں پیش پیش رہےحکیم عنایت اللہ نسیم نے بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے ہمراہ تحریک پاکستان میں بھر پور کردار ادا کیا،
حکیم صاحب نے تحریک ختم نبوت میں حصہ لیا اور قید بھی کاٹی تحریک نظام مصطفی میں حصہ لیا آپ انجمن حمایت الاسلام اور مجلس کارکنان تحریک پاکستان شامل ہیں سے وابستہ رہے-
عنایت اللہ نیشنل کونسل فار طب حکومت پاکستان کے 1980 سےتاحیات ممبر رہے- علامہ اقبال اور قائد اعظم سے بھی ملاقاتوں کا شرف رہا-
حکومت کی جانب سے حکیم عنایت اللہ نسیم کو تحریک پاکستان گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا۔

حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدروی تحریک پاکستان کے کارکن تھے حکیم صاحب بلند پایہ طبیب، ادیب، کالم نگار، صحافی ،شاعر ، مصنف اور سماجی کارکن تھے،
ان کی قائداعظم اور مولانا ظفر علی خان اور سیرت رسول پر لکھی گئی کتابیں شہرہ افاق حثیت رکھتی ہیں۔
حکیم عنایت اللہ نسیم 9 دسمبر 1994 کو انتقال کر گئے، انہیں ان کے آباو اجداد کے پہلو میں قبرستان ککے زئیاں سوہدرہ سپرد خاک کیا گیا-