تعلیم اور صحت کی سرگرمیوں کی خبریں لاہور سے – مدثر قادر کی رپورٹ


فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی ، لاہور کے چھٹےکانووکیشن کا انعقاد کیا گیا ۔
کانووکیشن میں وزیرِ صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق صاحب نے بطور چیف گیسٹ شرکت کی۔ وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر محمود ایاز نے بطور گیسٹ آف آنر شرکت کی۔
کانووکیشن میں پروفیسر مسعود صادق،پروفیسر اصغر نقی ، سنڈیکیٹ ممبر فرخ علی شاہ ، پروفیسر منزہ اقبال، پروفیسر شمسہ ہمایوں، پروفیسر شیریں خاور، پروفیسر نورین اکمل، ڈاکٹر منیرہ احمدسمیت پبلک پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے سربراہان ،وائس چانسلرز، پرنسپلز، پروفیسرز اور AFJOG کے ممبران نے شرکت کی۔وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر خالد مسعود گوندل نے فیکلٹی کے ہمراہ تمام معزز مہمانوں کا استقبال کیا۔
پرنسپل پروفیسر عبدالحمید نے انڈر گریجوئیٹ طالبات سے حلف لیا اور رجسٹرار پروفیسر محمد ندیم نے پوسٹ گریجوئیٹ طلباء و طالبات سے حلف لیا۔
کنووکیشن میں کل 327طلباء و طالبات میں اسناد تقسیم کی گئیں جس میں 299 انڈرگریجویٹ طالبات اور 28پوسٹ گریجویٹ طلبہ و طالبات شامل تھے۔ڈاکٹر بریرہ سہیل نے سیشن 2017-2022 کی بیسٹ گریجویٹ ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔
خطبہ استقبالیہ میں وائس چانسلر پروفیسر خالد مسعود گوندل نے وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق اور تمام معزز مہمانوں کو تشریف آوری پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کی 76 سالہ شاندار تاریخ اور خدمات پر روشنی ڈالی۔آج کے دن کی مناسبت سے اُن کا کہنا تھا کہ اصل مبارکباد کے مستحق آپ کے والدین ہیں جن کی محنت شاقہ اور دعاؤں کی وجہ سے آج آپ کو یہ دن دیکھنا نصیب ہوا۔ طلباء و طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ والدین، اساتذہ اور مریضوں کی خدمت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیں، یہ آپ کے لیے دنیا اور آخرت میں کامیابی کا سبب بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی سے ملحقہ ہسپتال دکھی انسانیت کی خدمت میں صحت کی بہترین سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔انہوں نے وزیر صحت پنجاب محترم خواجہ سلمان رفیق سے نئے آڈیٹوریم کی تعمیر کی درخواست بھی کی۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے وائس چانسلر پروفیسر خالد مسعود گوندل کا شکریہ ادا کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ پروفیسرخالد مسعود گوندل کی ہیلتھ ایجوکیشن کے فروغ میں گراں قدر خدمات کو سراہتے ہیں۔ اُنھوں نے کامیاب ہونے والے تمام فریش گریجویٹس اور ان کے والدین کو مبارکباد دی۔تمام گریجویٹس اس ملک کا اہم اثاثہ اور مستقبل ہیں۔ آپ کی کامیابی اس ملک کی اور انسانیت کی کامیابی ہے ۔ اُنھوں نے تمام گریجویٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مریضوں کے ساتھ عزت و احترام اور صبر و تحمل سے پیش آئیں۔ مریضوں اور اُنکے لواحقین کی کاؤنسلنگ کریں کیونکہ ایک اچھا ڈاکٹر ہونے کے لئے ایک اچھا انسان ہونا بھی انتہائی ضروری ہے ۔ ہم وقت کے ساتھ ساتھ حالات میں بہتری کے لیے کوشاں ہیں۔ اگر ہم ایمانداری سے کام کریں تو ہم عظیم تر پاکستان بنانے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ اُنہوں نے گریجویٹس کو نصیحت کی کہ اپنے ملک کی تاریخ کو لازمی پڑھیں اور اس کو سمجھیں۔ کوئی بھی طاقتور نہیں ہوتا، بس اپنا اندر مضبوط ہونا چاہیے۔
پروفیسر محمود ایاز نے پروفیسر خالد مسعود گوندل کا مدعو کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ اُن کا کہنا تھاکہ آج کا دن ایک یادگار دن ہے اور آپ سب کو آج کے دن بہت بہت مبارک باد ۔ آج کے دن کی مناسبت سے اانہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ڈاکٹر بحیثیت مسیحا لوگوں کی زندگیوں میں امید کی کرن ثابت ہوتے ہیں۔ہمیشہ اپنے والدین کی فرمانبرداری کریں اور جدید علم کے متلاشی رہیں۔ اپنے پیشے میں کمال حاصل کریں۔ غریب اور نادار مریضوں کی مدد کریں۔ ربِّ کائنات فرماتا ہے کہ میرا شکر ادا کرو لہٰذا ہمیشہ اپنے رب کا شکر گزار بندہ بن کر رہیں۔
اس موقع پر ڈینز پروفیسر عائشہ ملک، پروفیسر بلقیس شبیر، پروفیسر عالیہ زاہد، پروفیسر نوید اکبر ہوتیانا، پروفیسر شمیلہ اعجاز منیر، ڈیپارٹمنٹس کے ہیڈز، یونیورسٹی فیکلٹی اور پروفیسرز کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔
کانووکیشن میں ڈاکٹر بریرہ سہیل، ڈاکٹر سکینہ بتول، ڈاکٹر بریرہ مظفر، ڈاکٹر سارہ عدنان بختیار، ڈاکٹرگلنور عقیل ڈار، ڈاکٹررباب فاطمہ، ڈاکٹرسمن شہزاد، ڈاکٹرکنیز فاطمہ، ڈاکٹرعائشہ سعید، ڈاکٹرمصباح مسعود، ڈاکٹر اشمل عدیل چوہدری اور ڈاکٹرعائش عبدالصمد کو بہترین کارگردگی پر گولڈ میڈلز سے نوازا گیا۔
وائس چانسلر پروفیسر خالد مسعود گوندل نے وزیرِ صحت پنجاب محترم خواجہ سلمان رفیق اور پروفیسر محمود ایازکو اعزازی شیلڈز بھی پیش کیں
=========================

پنجاب لائبریری فاؤنڈیشن کے بورڈ آف گورنرز کا 68 واں اجلاس چیئرمین پنجاب لائبریری فائونڈیشن اور سابقہ چیف سیکرٹری جاوید اسلم کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں کتب بینی کے فروغ اور پبلک لائبریریوں کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے متعدد فیصلے کئے گئے۔ اجلاس میں پنجاب کی بیشتر پبلک لائبریریوں کو ماڈل لائبریری کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس ضمن میں پہلے مرحلے میں تین لائبریریوں کو جدید خطوط پر اپگریڈ کر کے ماڈل لائبریری کا درجہ دیا جائے گا جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید لائبریریوں کو بھی ماڈل لائبریری قرار دیا جائے گا۔ اجلاس میں اطہر علی خان، محمد خان رانجھا، پروفیسر ڈاکٹر کنول امین، پروفیسر نوشین فاطمہ وڑائچ، پروفیسر ڈاکٹر شفاعت یار خان، رخشندہ کوکب نے شرکت کی۔ بورڈ آف گورنرز نے بچوں میں کتب بینی کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے سکولوں میں لائبریریز کے رجحان کو فروغ دینے کے ساتھ داستان گوئی کو بھی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ چیئرمین پنجاب لائبریری فائونڈیشن جاوید اسلم نے اس منصوبے کو اہمیت کا حامل گردانتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد نئی نسل میں مطالعے کی دلچسپی کو بڑھانا اور کہانیوں کے ذریعے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اپنا کلچر سمجھنے اور اسے اپنانے کی جانب راغب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتب بینی کے فروغ کیلئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں مختلف مقامات پر موبائل لائبریریوں کے منصوبے کو بھی فروغ دینے کے حوالے سے مختلف تجاویز کا تبادلہ کیا گیا۔
=============================

جناح ہسپتال لاہور سے مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کی بنیاد پر شعبہ یورالوجی کےاسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شبیر ، کو محکمہ صحت نے ڈی جی خان ٹرانسفر کرنے پر سازشی اور بد عنوان ٹولے نے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ یورالوجی جناح ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر نوید اقبال کے جعلی دستخط کے ذریعے محکمہ صحت کو ایک مراسلہ بھیج دیا ،اس مراسلہ کے مطابق جناح ہسپتال سے مالی بے ضابطگیوں کی بنا پر جن ڈاکٹر شبیر کو ڈی جی خان ٹرانسفر کیا گیا ان کے بغیر گردوں کے ٹرانسپلانٹ کا عمل رک جائے گا ۔یہ لیٹر لاہور کے بیشتر لوکل میڈیا پر آن ائر ہوا جس کے بعد ہیڈ آف یورولوجی جناح ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر نوید اقبال نے نوٹس لیتے ہو محکمہ صحت کو ایک مراسلہ لکھا جس کے مطابق جو لیٹر میڈیا پر میرے دستخط سے چلایا جا رہا ہے وہ جعلی ہے انہوں نے ایسا کوئی مراسلہ محکمہ صحت کو جاری نہیں کیا۔ یہ سراسر غلط اور بوگس لیٹر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شبیر کی ٹرانسفر کے بعد بھی یورالوجی وارڈ میں گردوں کی ٹرانسپلانٹ کا عمل بخوبی اور بہتر انداز میں کیا جا رہا ہے اور ایک مستند قابل ڈاکٹرز کی ٹیم ان کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ ان کے جانے سے کسی قسم کا کوئی بحران نہیں ہے۔ انہوں نے سیکریٹری صحت سے مطالبہ کیا کہ ان کے جعلی دستخط کرکے لیٹر جاری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے ۔