آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام چار روزہ سترھویں عالمی اردو کانفرنس 2024ءکے دوسرے روز کا عالمی مشاعرے پر اختتام


رپورٹ اشرف بھٹی
==============

”میں ہوں کراچی میں ماہرہ خان، ہمایوں سعید اور عاصم اظہر“ کو سننے کے لیے نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت

کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام چار روزہ سترھویں عالمی اردو کانفرنس 2024ءکے دوسرے روز کا اختتام عالمی مشاعرے (۱) پروائی ایم سی اے گراﺅنڈ میں کیاگیا جس کی صدارت انور شعور نے کی، مشاعرے میں ثمرین ندیم ثمر، راحت زاہد، ثمن شاہ، طارق سبزواری، شاہدہ حسن، صابر ظفر، سلمان گیلانی، عمیر نجمی، علی زریون، فاطمہ حسن، ثبین سیف، حنا امبرین طارق، بخشن مہرانوی، امر پیرزادو، فرزانہ نینا، غزل انصاری، شاداب احسانی، احمد جہانگیر، خالد معین، نجمہ عثمان، فاضل جمیلی، سلیم فگار، عابد رشید، وکیل انصاری، عقیل عباس جعفری، میر احمد نوید، اشفاق حسین، نعیم سمیر، سیمان نوید، عاطف توقیر، ریحانہ قمر اور شائستہ مفتی نے اپنے کلام پیش کیے جس پر گراﺅنڈ میں موجود لوگوں نے تالیاں بجاکر خوب داد دی اور واہ واہ کیے بغیر خود نہ روک سکی۔ مشاعرے میں نظامت کے فرائض وصی شاہ اور شکیل خان نے انجام دیے ، ”میں ہوں کراچی میں ماہرہ خان، ہمایوں سعید اور عاصم اظہر“ کو سننے کے لیے نوجوانوں کی بڑی تعداد نے وائی ایم سی اے گراﺅنڈ میں شرکت کی اور ان کی گفتگو سے خوب لطف اندوز ہوئے ۔ عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے دن 18سیشن ہوئے جس کا آغاز ”اردو نظم میںکراچی کا حصہ “ کے عنوان سے کیاگیا ، کانفرنس میں تقدیسی ادب کے روشن چراغ ،دنیا بدلتی خواتین، کتابوں کی رونمائی، بچوں کا ادب، کے ایم سی 1843سے 2024تک ،سرائیکی و پختون ثقافت وادب ، Governance for People Empowerment، نئی نسل کی نمائندہ آوازیں۔ عمیر نجمی ، عمران عامی ، جا وید صدیقی کے خاکوں کا مجموعہ ”میرے محترم “، پاکستانی میڈیا ، بین الاقوامی میڈیا کے تناظر میں، ڈیئر کراچی ۔ ڈرامائی پڑھنت اور کراچی : کل اور آج کے پر گفتگو کی گئی۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے منعقدہ سترھویں عالمی اردو کانفرنس۔ جشن کراچی کے دوسرے روز، آٹھویں سیشن “Governance for People’s Empowerment” کا انعقاد

کراچی () آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری سترھویں عالمی اردو کانفرنس۔ جشن کراچی کے دوسرے روز آٹھویں سیشن “Governance for People’s Empowerment” کا انعقاد کیاگیا، سیشن کی نظامت عاصمہ شیرازی نے کی جبکہ سلمان فاروقی، شکیل درانی، فواد حسن فواد، غازی صلاح الدین اور آصف حیدر شاہ نے گفتگو کی، دوران گفتگو فواد حسن فواد نے کہاکہ دنیا میں جہاں بھی گورننس لائی گئی عوام کی ترقی کے نام پر لائی گئی، پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ ٹیکس کی دوبارہ تقسیم میں ناکامی ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام کا اسٹاک ایکسچینج سے کوئی تعلق نہیں، عوام کا واسطہ تعلیم اور صحت سے ہوتا ہے جبکہ غازی صلاح الدین اپنی گفتگو میں کہا کہ پاکستان میں سماجی انصاف کا کوئی تصور نہیں ہے، ماضی میں دنیا کو بدلنے کی لگن والے افراد سول سروس میں جاتے تھے، شکیل درانی نے کہا کہ پاکستان کی بری گورننس سے عربوں کا نقصان ہورہا ہے، عام آدمی ایف آئی آر بھی درج نہیں کروا سکتا۔ ، پشاور میں میرا اپنا ایک کیس بیس سال سے عدالت میں چل رہا ہے، لوگوں کا پارلیمنٹ کے ساتھ تعلق ختم ہوگیا ہے، عوام بااختیار تب ہوگی جب ان کو ان کا حق دیا جائے گا۔ سلمان فاروقی نے کہا کہ اگر کچھ کرنے کا ارادہ ہو تو وہ ہوجاتا ہے، 1960 کے بعد چوبیس سال لگے لیکن ہم نے چالیس لاکھ لوگوں کو کراچی کے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل کیا، عورتوں کو بااختیار بنانے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز ہوا، آج 400 بلین روپے سے 1 کروڑ افراد اسکیم کا حصہ ہیں۔ محتسب عدالت سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ فیصلوں میں تاخیر سے عوام مشکلات میں تھی۔ ہم نے محتسب عدالت میں 60 دن میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ عاصمہ شیرازی کے مردم شماری کے سوال کے جواب میں فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ عوام کو بااختیار بنانے کے لیے سماجی ڈھانچہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور سماجی ڈھانچے میں تبدیلی سول بیوروکریسی کی ذمہ داری ہے، کراچی کی بنیادی ساخت کو بیوروکریسی نے تبدیل کردیا۔ لوگ بیوروکریسی پر بہت اکتفا کیے ہوئے ہیں، ہمارا مسئلہ ہے کہ ہم سڑک اور پل بننے کو ترقی کہتے ہیں، سڑک اور موٹروے بننے سے عوام بااختیار نہیں ہوتی، حکومت کا کام ٹیکس جمع کرنا ہے قانون اور فورس بنانا نہیں ہے، جب تک عوام سراقتدار نہیں ہوگی تبدیلی ممکن نہیں جبکہ شکیل درانی نے عوام کو بااختیار بنانے کے لیے تجاویز میں کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی کسی کو جوابدہ نہیں ہے، وہ قوانین موجود ہیں جس سے ہر شخص دوسرے کو جوابدہ ہے مگر قانوں پر عمل نہیں ہوتا۔ بیوروکریسی کی بات نہ مانی جائے تو وہ کسی اور کو لے آتے ہیں جبکہ شکیل درانی نے کہا کہ ڈیموکریسی سب سے بہترین سسٹم ہے جبکہ فواد حسن فواد نے کہا کہ سسٹم وہ ہی بہتر ہے جو لوگوں کی مرضی سے بنے۔ سیشن کے اختتام پر عاصمہ شیرازی نے کہا کہ اگر ہم اب ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں انٹرنیٹ کھولنے ہوں گے، وی پی این بند نہیں کرنا چاہیے۔ عوام کو کمیونی کیشن کی آزادی دیں گے تو عوام بااختیار ہوگی۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری سترھویں عالمی اردو کانفرنس جشن کراچی کے دوسرے روز سرائیکی ثقافت و ادب کے عنوان سے سیشن کا انعقاد کیا گیا

کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام چار روزہ سترھویں عالمی اردو کانفرنس۔ جشن کراچی میں علاقائی زبانوں کے فروغ کے لیے مختلف سیشن منعقد کیے گئے۔کانفرنس کے دوسرے روز سرائیکی زبان پر مبنی سیشن ”سرائیکی ثقافت و ادب “ کا انعقاد آڈیٹوریم II میں کیا گیا۔ سیشن کی نظامت کے فرائض سعدیہ شکیل نے ادا کیے جبکہ شرکائے گفتگو میں شاہد جتوئی، عابدہ بتول، حفیظ خان، مشتاق احمد فریدی، اورنسرین گل عرف نینا شامل تھے۔ سرائیکی تحریک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مشتاق احمد فریدی نے کہا کہ ماضی میں جب ہم سرائیکی موومنٹ چلا رہے تھے تب جی ایم سید نے سوال کیا کہ تمہارا بنیادی مقصد کیا ہے؟ ہم نے جواب دیا کہ سرائیکی صوبہ، انہوں نے پوچھا کہ اس کی حدود ا ور جغرافیہ کیا ہوگا؟ ہم نے انہیں یہ بات واضح کردی تھی کہ ہم سندھ کے کسی حصے پر بھی قبضہ نہیں کرنا چاہتے۔ کراچی میں ویب سے بہت سے طلباءآبادتھے جنہوں نے کراچی میں اپنا نیوکلئین بنایا ہواتھا۔ وسیب سے اب بہت پڑھے لکھے لوگ آگے آرہے ہیں جو اسمبلی میں بھی وسیب کی محرومی پر بات کرنے سے جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے ۔نسرین گل نینا نے سرائیکی نشرکے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرائیکی ادب پر بہت کام ہوا ہے۔ سرائیکی ادب کے بڑے نثر نگار کراچی سے تھے۔ جن میں ایک بڑا نام علامہ اعظم سیدی کا ہے۔ اقبال بانو نے اپنے کام کی ابتداءکراچی سے کی۔عہد حاضر میں سرائیکی کا سب سے بڑا نام نذیر لغاری کا ہے جو سرائیکی ادب پربہت کام کررہے ہیں۔ شاہد جتوئی نے سرائیکی صحافت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرائیکی زبان کی کوئی حدودنہیں ہے۔ سرائیکی سندھ،وسیب،پنڈی پنجاب ،بلوچستان،کابل،راجستھان تک بولی جاتی ہے۔ہمارا کسی صوبے کے جغرافیہ پر کوئی قبضہ نہیں ہے۔وادی سندھ میں رابطے کی زبان سندھ کے بعد سرائیکی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر مردم شماری ٹھیک طریقے سے ہو توسب سے لسانی گروہ سرائیکی بولنے والا ہوگا۔ حفیظ خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ساری مزاحمتی شاعری ہماری شناخت پرکھڑی ہے۔ ہم ایک لمبی جنگ لڑرہے ہیں اپنے تشخص کی بقاءکے لیے ۔عابدہبتول نے سرائیکی ثقافت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت سرائیکی قوم میں ایک خاص بات ہے کہ ہم جہاں رہتے ہیں وہاں ایک کمیونٹی کی طرح جمع ہوکر رہتے ہیں ۔ ہماری رسومات میں چاہے موت کا بین کرنا ہو یا بچے کی پیدائش پر خوشی منانا، ہمارا جھومر ہو یا ہماری اجرک ہم سب ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ ہم نے اپنی ثقافت کو مرنے نہیں دیا۔ہمارے بچے تعلیم کے زیور سے ضرور آراستہ ہو رہے ہیں لیکن اپنے وسیب کی ثقافت کو گلے لگائے ہوئے ہیں۔
===========

کراچی (نامہ نگار خصوصی ) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب دھکیلا جا رہا ہے لیکن ان کی یہ دلی خواہش ہے کہ نوجوان آگے بڑھیں اور پاکستان کی تعمیرو ترقی میں اپنا کردار ادا کریں ۔انہوں نے یہ بات جمعہ کی شام لیاری میں فٹبال گراﺅنڈ اور پنک فٹبال ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔تقریب سے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ، وزیر کھیل سردار محمد بخش خان مہر اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ آج میں بہت خوش ہوں کہ لیاری میں عالمی لیول کا فٹ بال گراﺅنڈ بنایاگیا اور ہمارے لئے بھی یہ بات بہت زیادہ قابل فخر ہے کہ یہاں صوبہ بھر کی خواتین موجود ہیں جو فٹبال کے مقابلوں میں حصہ لیں گی۔انہوں نے یاد دلایا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھاکہ جب تک کسی ملک کی 50 فیصد خواتین ترقی میں شامل نہ ہوں تو وہ ملک ترقی نہیں کرسکے گا۔انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو دوبار خاتون کی حیثیت سے ملک کی وزیر اعظم بنیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاںآج بھی ایسی سوچ رکھنے والے لوگ موجودہیں جو خواتین کو پیچھے دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سوچ کے حامل لوگوںکے لئے یہاں موجود خواتین بہتر جواب ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ کی خواتین پوری دنیا میں کردار ادا کریں گی کیونکہ وہ بہت باصلاحیت ہیں۔آج خواتین لیاری میں فٹ بال کھیل رہی ہیں کل یہ ہی خواتین بین الاقوامی سطح پر ہماری نمائندگی کریں گی ۔انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کاشکر گذار ہوں انہوں نے یہ اقدام کیا ۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک میں ستر فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اورنوجوان ہی اس ملک کا مستقبل ہیں۔اگر نوجوان ترقی کریں گے تو ملک بھی ترقی کرے گا۔میں اور آپ مل کر نوجوانوں کی ترقی کے لئے کام کریں گے۔انہوں نے لیاری والوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ساری جمہوری جدوجہد اور کاموں میں لیاری والے ہمیشہ صف اول میں رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صدر زرداری نے اس شہر اور علاقے کے لئے بہت کام کیا ہے لیکن مسائل ہیں جن کے حل اورمزید بہتری لانے کی گنجائش بھی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ لیاری کے اصل نمائندے کام کررہے ہیں۔ لیاری والوں کی محنت اور کام کی وجہ سے کراچی میں پہلی مرتبہ جیالا مئیر جیتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ محنت ، جدو جہد اور جیل جانے میں لیاری ہمیشہ سے آگے رہا۔انہوں نے مئیر کراچی سے کہا کہ کے ایم سی کے کام بھی لیاری میں سب سے زیادہ ہونے چاہیں،وزیر اعلیٰ یہاںفلڈ لائٹس کا بندوبست کریں تاکہ نوجوان گراﺅنڈ میں بآسانی کھیل سکیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ اسپورٹس اینڈ یوتھ ڈیپارٹمنٹ کے تحت سندھ پنک فٹبال چیمپئن شپ کا آغاز ایک قابل ستائش کام ہے ۔ اس ٹورنامنٹ میںسندھ کے مختلف اضلاع کی 16 خواتین فٹ بال ٹیموں کی 320 کھلاڑی حصہ لے رہی ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے تالیوں اور نعروں کی گونج میں فٹبال اسٹیڈیم اور چیمپئن شپ کا افتتاح کیا یہ چیمپئن شپ نوتعمیر شدہ لیاری انٹرنیشنل فٹ بال گراو¿نڈ پر کھیلی جارہی ہے جس میںسندھ کے شہر لاڑکانہ ، نواب شاہ ، بے نظیر آباد ، حیدر آباد ، میر پور خاص ، سکھر کی ٹیمیں شامل ہیں ،چیمپئن شپ میں کراچی کے نو کلب بھی شریک ہیں۔قبل ازیں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لیاری کے لئے فٹبال گراﺅنڈ کاتحفہ دینے پر وہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا شکریہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسپورٹس کے میدان میں کسی دوسرے صوبے نے اتنی سرمایہ کاری نہیں کی جتنی سندھ میں ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں ہم نے فٹ بال، کرکٹ اور ہاکی کے گراو¿نڈ بنائے ہیں۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے پیشکش کی کہ مجھ سے کل صبح چیک لیں اور فٹ بال گراو¿نڈ کا بقیہ حصہ مکمل کریں، وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ 23 مارچ کو چیئرمین دوبارہ آئیں گے اور مکمل گراو¿نڈ میں خطاب کریں گے۔
======================

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے جمعہ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔وفاقی حکومت دریائے سندھ کے پانی کی تیزی کو روکنا چاہتی ہے۔پرویز مشرف نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ کالا باغ ڈیم بنے۔ لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام نے کالاباغ ڈیم کے خلاف مزاحمت کی تھی۔نواز شریف نے بھی کالا باغ ڈیم بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔پانی ہمارے ژندہ رہنے کا ذریعہ ہے۔ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ ہم بھی پاکستان کا حصہ ہیں۔ہم آئین کی بالادستی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ پر مذید کینالوں کی تعمیر کے خلاف 8 دسمبر کو گھگھر پھاٹک سے مارچ کیا جائے گا۔کراچی پریس کلب چورنگی پر دھرنا دیں گے۔سندھ دریا کی حفاظت کریں گے کیونکہ یہ ہمیں پالتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اس اقدام سے باز رہے۔