گوادر یونیورسٹی کے دو روزہ بزنس گالا کی اختتامی تقریب۔

گوادر یونیورسٹی کے دو روزہ بزنس گالا کی اختتامی تقریب۔
یو جی پی آر

جامعہ گوادر کے بزنس اینڈ کلچرل گالا کی اختتامی تقریب
جامعہ گوادر نے آج اپنی شاندار بزنس اینڈ کلچرل گالا 2024 کی کامیاب تکمیل کا جشن منایا، جو طلباء اور مقامی کمیونٹی کی بھرپور شرکت، تخلیقی صلاحیتوں، اور جوش و خروش سے بھرپور تھا۔ شاندار اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی بریگیڈیئر سعید ابرار، بریگیڈیئر اسٹاف 44 ڈویژن تھے، جنہوں نے خطے میں تعلیم، ثقافتی تبادلے اور کاروباری مواقع کو فروغ دینے کی یونیورسٹی کی کاوشوں کو سراہا۔
معزز مہمانوں میں بریگیڈیئر احتشام ستار (کمانڈر 440 بریگیڈ گوادر)، پاک بحریہ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کموڈور اورنگزیب وزیر، ڈی آئی جی پولیس پرویز عمرانی، شفقت شاھوانی، ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ڈپٹی کمشنر حمود الرحمٰن، رجسٹرار دولت خان، کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر رحیم بخش، ڈین آف فیکلٹیز، شعبہ جات کے سربراہان، مختلف انتظامی محکموں کے افسران، اور سماجی و کاروباری ہنماوں نے تقریب میں شرکت کی، جس سے اس کے تعاون پر مبنی جذبے کو اجاگر کیا۔
تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر جان محمد، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز، جامعہ گوادر نے اپنے خطاب میں گوادر کی ثقافتی اور اقتصادی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے پاکستان کے مستقبل کی تشکیل میں اہم قرار دیا۔
بزنس اینڈ کلچرل گالا میں مختلف سرگرمیاں پیش کی گئیں، جن میں ثقافتی نمائشیں، کاروباری آئیڈیاز کے مقابلے، اور روایتی پرفارمنس شامل تھیں۔ یہ بلوچستان کی ثقافتی تنوع اور کاروباری صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ طلباء اور مقامی کاروباری افراد نے تخلیقی اسٹالز قائم کیے، جن میں گوادر کی وراثت اور ابھرتے ہوئے کاروباری مواقع کو اجاگر کیا گیا، اور تعلیم و صنعت کے درمیان مکالمے اور تعاون کا پلیٹ فارم فراہم کیا۔
اپنے خطاب میں بریگیڈیئر سعید ابرار، بریگیڈیئر اسٹاف 44 ڈویژن نے جامعہ گوادر کی تعلیم کو عملی میدان سے جوڑنے کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا: “یہ تقریب گوادر کے نوجوانوں کی امیدوں اور اس خطے میں موجود بے پناہ صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے، جو پاکستان کی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔”
تقریب کے اختتام پر ایوارڈز تقریب منعقد ہوئی، جس میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے شرکاء اور منتظمین کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازات دیے گئے۔ جامعہ گوادر کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ مہمانوں، طلباء، اور فیکلٹی کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا، جن کی اجتماعی کوششوں نے اس گالا کو یادگار بنایا۔
بزنس اینڈ کلچرل گالا 2024 جامعہ گوادر کے اختراعات، ثقافتی فخر، اور کمیونٹی انگیجمنٹ کے فروغ کے عزم کا ایک اور ثبوت ہے۔ تقریب کے اختتام پر اسٹالز کے منتظمین اور رضاکاروں میں شیلڈز اور سرٹیفکیٹ تقسیم کیے گئے.
============================
خبرنامہ نمبر 8430/2024
سبی 05 اگست 2024:
کمشنر سبی ڈویژن سید زاہد شاہ نے گزشتہ روز بیف سینٹر اور سپورٹس کمپلیکس میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کیا اور دونوں منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا متعلقہ افسران نے کمشنر سبی کو منصوبوں پر کام کی پیشرفت اور فنڈ کے حوالے سے بریفنگ دی اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کمشنر سبی سید زاہد شاہ نے کہا کہ بیف سینٹر کی اپگریڈیشن کا منصوبہ جو کہ تکمیل کے قریب ہے اس منصوبے پر کام کو مزید تیز کیا جائے انہوں نے کہا کہ بہترین اعلی کوالٹی کے مٹیریل کو استعمال میں لایا جائے اور کام کے معیار کا خصوصی طور پر خیال رکھا جائے غیر معیاری کام کی صورت میں متعلقہ ٹھیکے دار کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی اس کے علاوہ انہوں نے زیر تعمیر سپورٹس کمپلیکس کا تفصیلی جائزہ لیا کمشنر سبی کو بتایا گیا کہ کافی عرصہ سے اس منصوبے پر کام نہیں کیا جا رہا متعلقہ ٹھیکیدار پرانے ریٹس پر کام کرنا نہیں چاہتا جس کی وجہ سے اس منصوبے پر کام بند ہے اس موقع پر کمشنر سبی کا کہنا تھا کہ میں اعلی حکام کے سامنے بھی یہ مسئلہ زیر بحث لاؤں گا اور انشاءاللہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پوری کوشش کی جائے گی تاکہ جلد ہی اس منصوبے پر کام کا آغاز ہو سکے۔.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گورنربلوچستان سے وفاقی وزیر کامرس کی ملاقات

کوئٹہ 7 دسمبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل سے وفاقی وزیر کامرس جام کمال خان نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ملاقات کی. ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے. دریں اثناء بلوچستان میں تجارت اور ترقی کے فروغ کیلئے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے پر بھی گفتگو ہوئی اور صوبے میں انفراسٹرکچر اور کنیکٹیویٹی بہتر بنانے کے عزم کا اظہار بھی کیا.اس موقع پر گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے خطے کی سماجی و معاشی ترقی سے بھرپور استفادہ کرنے کیلئے اشتراک پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کیلئے وفاقی اور صوبائی سطح پر مزید ڈائیلاگ کی ضرورت ہے. وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے یقین دلایا کہ بلوچستان کو پورے خطے کا معاشی و تجارتی مرکز بنانے کیلئے وفاق کا مکمل تعاون حاصل رہیگا.
========================
گورنر بلوچستان / وائس چانسلرز کانفرنس

پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے چانسلر کے طور پر، میں اصول کے مضبوط احساس اور دیرپا ترقی کے عزم سے رہنمائی حاصل کرتا ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ ہمارے وائس چانسلر “پرسن آف ایکشن” ہوتا ہے جو نظم و ضبط کے ساتھ عملی اقدام اور تخلیقی اطلاق کے ذریعے ترقی اور بہتری کو مزید آگے بڑھاتا ہے جس سے پورے صوبے میں کوالٹی ایجوکیشن کو فروغ ملے گا. بحیثیت گورنر بلوچستان آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اجتماعی دانش کے نتیجے میں مقرر کیے گئے اہداف کے حصول کی خاطر گورنر آفیس ایک مضبوط مانیٹرنگ میکنزم کے ذریعے تبدیلی اور بہتری لائیگا

کوئٹہ 7 دسمبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے وائس چانسلرز کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے چانسلر کے طور پر، میں اصول کے مضبوط احساس اور دیرپا ترقی کے عزم سے رہنمائی حاصل کرتا ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ ہمارے وائس چانسلر “پرسن آف ایکشن” ہوتا ہے جو نظم و ضبط کے ساتھ عملی اقدام اور تخلیقی اطلاق کے ذریعے ترقی اور بہتری کو مزید آگے بڑھاتا ہے جس سے پورے صوبے میں کوالٹی ایجوکیشن کو فروغ ملے گا. بحیثیت گورنر بلوچستان آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اجتماعی دانش کے نتیجے میں مقرر کیے گئے اہداف کے حصول کی خاطر گورنر آفیس ایک مضبوط مانیٹرنگ میکنزم کے ذریعے تبدیلی اور بہتری لائیگا لہٰذا ہمیں موثر اور متحرک لیڈروں کے طور پر ترقی کی نئی منازل طے کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں وائس چانسلرز کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے کیا. وائس چانسلرز کانفرنس میں صوبے کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز صاحبان، پرو- وائس چانسلرز، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان ہاشم خان، ڈائریکٹر ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد سمینہ درانی، سابق وائس چانسلر فاروق احمد بازئی، نوید سمیت متعلقہ محکموں کے نمائندے بھی موجود تھے. اس موقع پر گورنر بلوچستان نے کہا کہ پڑھے لکھے بلوچستان کے خواب کی تعبیر کیلئے آج کی پروقار “آل وائس چانسلرز کانفرنس” نے ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھی ہے. ہم نئے عزم کے ساتھ ایک نئے مرحلے کا آغاز کرتے ہیں. آج یہاں ہونے والی بات چیت، غور و خوض، اور کیے گئے فیصلوں کی پیروی مستقل مشاورت اور تعاون کے ساتھ کی جائیگی جو ہمیں اپنے مشترکہ مقاصد کی طرف مسلسل آگے بڑھائے گی. گورنر بلوچستان نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا کہ معیار اور کوالٹی پر کوئی رعایت نہیں دی جائیگی اور ہر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی کارکردگی کو کوالٹی ایمپرومینت کی بنیاد جانچا اور سراہا جائیگا. انہوں نے تمام یونیورسٹیوں کو ہدایت کی وہ اپنی درپیش مالی مشکلات، موجودہ آمدن کے ذرائع سے اپنے چانسلر آفیس کو تحریری شکل میں ضروری آگاہ کیا کریں. یونیورسٹی کی سطح پر اپنے غیرضروری اخراجات کو کم کرنے اور بالخصوص آمدن کے نئے ذرائع کی نشاندہی بھی کریں اس سلسلے میں ہمارا ہر ممکن تعاون دونوں وفاقی اور صوبائی سطح پر آپ کے ساتھ رہیگا. انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا قومی فریضہ ہے کہ ہم اپنی جہد مسلسل، اختراعی حل اور اپنے مشترکہ مقررہ اہداف کے حصول کیلئے ایک غیرمتزلزل لگن کے ذریعے، ہم رکاوٹوں کو دور کرینگے اور دستیاب سہولیات اور مواقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے. انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی محض ایک تعلیمی اور تحقیقی ادارہ نہیں بلکہ موجود یونیورسٹیز سے ہماری آنے والی نسلوں کی زندگیاں بھی وابستہ ہیں لہٰذا اپنی قومی ترجیحات کا تعین کرنے اور بالخصوص یونیورسٹیز کے مالی، انتظامی اور تدریسی مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی وضع کرنی ہوگی. پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کو خودکفیل بنانے، صحت مند تعلیمی ماحول کو پروان چڑھانے اور اسٹوڈنٹس کے مسقبل کو تحفظ دینے جیسے معاملات انتہائی حساس اور سنجیدہ مسئلے ہیں جن کے حل کیلئے ہر ذمہ دار شخص نے اپنے حصے کا کردار ادا کریں گے. آج ہم نے اپنے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو مستحکم بنانے کیلئے افہام و تفہیم اور مشاورت سے مسقبل کا نیا ورژن فراہم کر دیا اور اس کے عملی نفاذ کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں جن کے بہت جلد مثبت نتائج برآمد ہوں گے