
سندھ ہائیکورٹ نے ایس ایچ او شاہراہِ نور جہاں کو درخواست گزاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے روک دیا۔
درخواست گزاروں کے خلاف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کراچی سینٹرل نے عارف گل کی درخواست پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔
عارف گل نے درخواست گزاروں کے خلاف 22 اے کے تحت پٹیشن داخل کی تھی جس میں بھتہ طلب کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
درخواست گزاروں محمد اکرم گوپانگ اور اللہ رکھا نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے فیصلے کے خلاف لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ کے توسط سے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
دونوں درخواست گزاروں کے خلاف عارف گل نے جھوٹا الزام لگا کر مقدمہ درج کروانے کا عدالت سے آ رڈر حاصل کیا ہے۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سینٹرل نے درخواست گزاروں کو نوٹس جاری نہیں کیا اور نہ ہی پولیس نے ان کا بیان ریکارڈ کیا ہے۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
پولیس نے عارف گل کے ساتھ ملکر عدالت میں جھوٹی رپورٹ داخل کروای ہے۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
عارف گل کباڑی ہے جس نے دونوں درخواست گزاروں کے گھر کے ساتھ کباڑ خانہ کھولا ہے جس کی وجہ سے پورے اہل محلہ کو تکلیف ہے۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
درخواست گزاروں اور اہل محلہ نے اس کباڑ خانے کو ہٹانے کے لیے درخواستیں دی ہیں جس پر سرکاری ڈیپارٹمنٹ نے عارف گل کو کباڑ خانہ ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
جب سرکاری ڈیپارٹمنٹ نے عارف گل کو کباڑ خانہ ہٹانے کا حکم دیا تو اس نے درخواست گزاروں کے خلاف کھوٹا مقدمہ درج کروانے کےلیے پٹیشن داخل کرکے عدالت سے آ رڈر حاصل کیا پے۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
سندھ ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سینٹرل کے آرڈر کو معطل کرتے ہوے اسسٹنٹ پراسیکیوٹر جنرل سندھ ، ایس ایس پی کمپلینٹ سیل ، ایس ایچ او تھانہ شاہراہ نور جہاں اور عارف گل کو مورخہ 24 دسمبر 2024 تک نوٹس جاری کرتے ہوے سماعت ملتوی کردی۔
نیوز نمبر 2
ارجنٹ ٹکرز/ ایڈیشنل سیشن جج
قتل کے مقدمہ ملوث ملزم فاروق علی کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔
ملزم فاروق علی کی درخواست ضمانت ایڈیشنل سیشن جج کورٹ نمبر 7 کراچی سینٹرل نے منظور کی۔
قتل کے مقدمہ میں ملوث ملزم فاروق علی کی درخواست ضمانت لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ نے داخل کی تھی۔
ملزم فاروق علی کے خلاف ایف آئی آر نمبر 24/2024 زیر دفعہ 302/34 تھانہ نیو کراچی انڈسٹریل ایریا میں درج ہے۔
ملزم فاروق علی کا نام ایف آئی آر میں نہیں ہے۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
ملزم نہ تو موقع سے پکڑ ا گیا ہے اور نہ ہی اس واقعہ کا کوئی چشم دید گواہ ہے۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
ملزم سے آلہ قتل سمیت کوئی بھی چیز برآمد نہیں ہوئی ہے۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
پولیس نے اس کیس میں ملزم فہد کو گرفتار کیا تھا جس نے ملزم کا نام پولیس کے سامنے لیا ہے جس کی وجہ سے پولیس نے ملزم کو ملوث کیا ہے۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
پولیس نے ملزم کو اس کے گھر سرجانی ٹاؤن سے اٹھایا جس پر اس کی والدہ ڈسٹرکٹ جج ویسٹ میں حبس بے جاء کی پٹیشن داخل کی تھی۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
پولیس نے ملزم فاروق علی کو اس کے گھر سے اٹھاکر مورخہ 26/9/2024 تھانہ رضویہ کے تین مقدمات جن میں پولیس مقابلہ،اقدام قتل، ناجائز اسلحہ اور ڈکیٹی کے نامعلوم مقدمات میں ملوث کیا گیا۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
بعد ازاں نیوکراچی انڈسٹریل ایریا پولیس نے ملزم کو اس نامعلوم قتل کی ایف آئی آر میں ملوث کردیا ہے۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
پولیس نے مجسٹریٹ کے سامنے شناخت پریڈ سے پہلے ملزم فاروق علی کو تھانہ میں مدعی مقدمہ کو دکھایا جس کی وجہ سے مجسٹریٹ کے سامنے کی گئی شناخت پریڈ کروائی گئی ۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
ملزم کی تھانہ رضویہ کے تینوں مقدمات جن میں ایف آئی آر نمبر 402/2024 زیر دفعہ 353/324/34 اور ایف آئی آر نمبر 403/2024 زیر دفعہ 23(1)اے ایف آئی آر نمبر 396/2024 زیر دفعہ 397/34 تھانہ رضویہ کے مقدمات میں ایڈیشنل سیشن جج کورٹ نمبر 5 کراچی سینٹرل ضمانت منظور کر چکا ہے۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
پولیس اپنی تفشیش مکمل کرکے چالان جمع کرا چکی ہے۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ
عدالت اسی کیس ملزم فہد کی درخواست ضمانت منظور کرچکی ہے لہذا ملزم فاروق بھی ضمانت کا حقدار ہے۔ لیاقت علی خان ایڈووکیٹ
ایڈیشنل سیشن جج کورٹ نمبر 7 کراچی سینٹرل نے ملزم فاروق کی درخواست ضمانت مںلغ70000 ہزار روپے میں منظور کرتے ہوے درخواست نمٹادی























