
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی ہے لئے پانی کے منصوبے کے فور پر تیزی سے کام جاری ہے اور اس کی تاخیر کے کئی اسباب ماضی میں رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کو تو کم از کم شہر کے مسائل پر اب بات نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس شہر اور ان کے اداروں کو تباہ و برباد انہی لوگوں نے کیا ہے۔ عوام کو سستی بجلی اسی صورت میسر آسکتی ہے، جب ہم اپنی بجلی کی پیداوار کو بڑھائیں اور اسے فرنس آئل اور دیگر کی بجائے متبادل سستے ذرائع سے پیداوار کو یقینی بنائیں۔ تھر میں اس وقت کوئلے سے 3 ہزار میگاواٹ بجلی بنائی جارہی ہے، جب یہ 15 سے 20 ہزار میگاواٹ پر شروع ہوگی تو اس سے نہ صرف صوبہ سندھ بلکہ پورے ملک میں بجلی عوام کی قوت خرید میں آسکتی ہے۔ کراچی میں تواتر کے ساتھ ہونے والی نمائشیں اس بات کی دلیل ہے کہ حالات بہتری کی جانب اور معاشی صورتحال بہتر ہورہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز ایکسپو سینٹر کراچی میں 3 روزہ 43 ویں فرنیچر اینڈ لیونگ نمائش کے افتتاح کے موقع پر کیا۔اس موقع پر آر ایف ایونٹس کی سی ای او ڈاکٹر نازش فیصل، ماسٹر مولٹی فورم کے سی ای او اور دیگر برانڈز کے سی ای اوز و دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ نمائش میں 100سے زائد کمپنیاں اپنی مصنوعات عوام کے لیے پیش کررہی ہیں پاکستان کی سب سے بڑی فرنیچر نمائش کا انعقاد 6 سے 8 دسمبر 2024 کو کراچی ایکسپو سینٹر ہال نمبر 5 اور 6 میں ہورہا ہے۔ آر ایف ایونٹس نمائش میں فرنیچر سے وابستہ 100 سے زائد کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں اپنی نوعیت کی پہلی فرنیچر نمائش فرنیچر، دستکاری، ہوم ڈیکور اور انٹیرییر ڈیزائن کے بہترین برانڈز پر مشتمل ایک اعلی سطح کی فرنیچر نمائش کا انعقاد کررہی ہے۔ صوبائی وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نےنمائش کا افتتاح فیتہ کاٹ کر کیا۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ اس طرح کی نمائشوں کے انعقاد سے اس بات کو جہاں تقویت ملتی ہے کہ اب اس شہر اور صوبے کے حالات بہت بہتر ہیں تو یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اب پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہورہا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران میں اس ایکسپو سینٹر میں دوسری نمائش کا افتتاح کررہا ہوں اور یہاں ملکی اور غیر ملکی کمپنیاں بڑی تعداد میں اپنے اسٹالز بھی لگا رہی ہیں اور عوام کو اچھے اور کوالٹی کا فرنیچر سستے ریٹ میں عوام کو دے رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ ایم کیوایم نے کہاہے ہم نے ادارے تباھ کئے ہیں تو اس شہر میں 15 سے 20 سال سے زائد کے پرانے صحافی اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ شہر کو تباھ کس نے کیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ شہر کے مسائل پر کم از کم ایم کیو ایم تو بات نہیں کرے تو بہتر ہے کیونکہ واٹر بورڈ، کےڈی اے ہو یا کے ایم سی ہو ان کی بربادی کا اآغاز ایم کیو ایم نے کیا تھا۔ اس شہر میں بربادی کی ذمہ دار ایم کیوایم ہے، جب ان کے ہاتھ میں ان اداروں کی بھاگ دوڑ تھی تب یہ ادارے تباہ ہوئے۔ انہی کے دور میں ملازمین کی پینشنز کے پیسے تک خرچ کئے گئے، کم سے کم تباھی کی ذمہ دار ایم کیو ایم ایسی باتیں نہ کرے یہ ان کو زیب نہیں دیتی. ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ جب کے فور منصوبے کا آغاز ہوا تب ہی میں نے کہا تھا کہ جو پیسہ اس کے لئے مختص کئے گئے ہیں، اس سے یہ منصوبہ نہیں بن سکتا کیونکہ یہ پیسہ صرف کھینجر سے کراچی تک پانی لانے کے لئے مختص تھے، اس میں پمپنگ اسٹیشنز اور بجلی کی ضرورت بھی ہے، انفراسٹرکچر نہیں ہوگا تو پانی سپلائی کیسے ہوگا۔ اس منصوبے کے آغاز پر طے ہوا تھا کہ اس کا 50 فیصد وفاق اور 50 فیصد صوبہ سندھ ادا کرے گا۔ قیمت بڑھنے کے بعد وفاق نے کہا ہم پیسے نہیں دیں گے۔ اس دوران عمران نیازی کی حکومت آئی تو عمران خان صاحب کے کان میں کسی نے کہا تھا کہ کے فور منصوبے میں کرپشن ہے۔ اس نے کمیشن بنایا تحقیقات کی تو کچھ نہ ملا۔ سعید غنی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں اس منصوبے پر کام رکا رہا البتہ اب کام تیزی سے جاری ہے۔ کینالز بھی بن گئے ہیں، بجلی کی فراہمی سندھ حکومت کررہی ہے اور یہ حیسکو اس پر کام کررہی ہے۔ اس منصوبے پر 256 ملین ڈالرز لاگت آئے گی، اس کو ہم کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروس امپرومنٹ پروجیکٹ کے تحت جو کہ ورلڈ بینک کا منصوبہ ہے کررہے ہیں۔ اس میں سے 7 ارب سندھ حکومت نے اس کی اوگمیٹیشن کے لئے دئیے ہیں تاکہ ورلڈ بینک کی منظوری تک یہ کام نہ رکے اس کے علاوہ 3 ارب روپے زیر تعمیر 2.7 کلومیٹر طویل ریڈ لائن منصوبے کے راستہ میں 84 اور 72 انچ کی پانی کی پائپ لائنوں کی تبدیلی کے لئے بھی دئیے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت اس منصوبے کو تیزی سے مکمل کرنے کے لئے تمام وسائل کو بروئے کار لارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو فراہمی آب کے منصوبے کے فور کی تکمیل میں تاخیر کے سب زمہ دار ہیں۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور اس سے عوام کو درپیش مسائل کے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ بجلی پورے پاکستان میں مہنگی ہے، صرف کراچی میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں کے الیکٹرک جو ایک پرائیویٹ کمپنی ہے وہ بجلی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی سستی اس وقت ممکن ہے جب سستی بجلی بنے گی۔ہم نے تھر میں کوئلے سے بجلی بنانے کا آغاز کردیا ہے اور اس وقت تک 3000 میگاواٹ بجلی بنائی جارہی ہے اس کو 15 سے 20 ہزار میگاواٹ تک پیداوار بڑھا رہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تھر منصوبے پر پی ٹی آئی اور ن لیگ حکومت نے کوئی کام نہیں کیا۔ تاہم اب اس منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ایس بی سی اے میں مسائل ہیں مختلف عدالتی فیصلے کے باعث یہاں سوائے ڈی جی کے کوئی باہر سے افسر نہیں لگا سکتے۔ پچھلے کچھ مہینوں پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کافی کام کیا ہے۔ پہلی بار ڈپٹی کمشنرز کو غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کام کا ٹاپک بھی دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی فنڈز سے جاری منصوبوں کے حوالے سے سوال پر سعید غنی نے کہا کہ اس وقت پورے ملک میں سندھ واحد صوبہ ہے جہاں بین الاقومی اداروں کے ماتحت جاری منصوبے سب سے بہتر انداز میں چل رہیں ہیں۔
جاری کردہ: زبیر میمن، میڈیا کنسلٹینٹ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی 03333788079























