
Mr- Mahmood- sadiq
تحریر: سہیل دانش
یہ دُرست ہے کہ اُن کے پاس اللہ کے کرم اور محنت کے علاوہ کچھ نہ تھا اِس لئے آگے بڑھنے کی صبر آزما مسافتیں اُن کے خوابوں کو بکھیر نہ سکیں۔ بلکہ اُنہیں یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ محنت کا نہ صرف صلہ دیتا ہے بلکہ اُس سے مدد طلب کرنے والوں کی رکھوالی بھی کرتا ہے۔شاید وہ یہ بھی بھانپ گئے تھے کہ مشکلات پریشانیاں رُکاوٹیں کچھ نیا کر گزرنے والے لوگوں کا پرافٹ ہوتی ہیں میری اُن سے پہلی ملاقات 27 سال قبل ہوئی تھی۔ وہ جاذب نظر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شائستہ، سادہ اور محبت بھرے انسان دکھائی دیتے، چار دہائیوں سے زیادہ ابلاغ عامہ سے جڑے رہنے کے ساتھ سینکڑوں سیلف میڈ اور باکمال شخصیت کے متاثر کرنے والے جوہر اور ہنر دیکھ کر میں کبھی اِس طرح حیران نہ ہوا۔ جس طرح اُن کی گفتگو کی گہرائی لاجک اور ریزن کی خوبی نے ششدر کرکے رکھ دیا۔ وہ گذشتہ ربعہ صدی سے میرے “باس” ہیں۔ لیکن میرے لئے اُن کی زندگی ایک اسٹڈی کیس ہے۔ اُنہوں نے لاہور کے ایک متمول گھرانے میں آنکھ کھولی اسی شہر میں اُن کی تلخ و شیریں یادیں پروان چڑھیں یہاں کے میدانوں میں کرکٹ کھیلی، اپنے ذوق و شوق کی آبیاری کی۔ مزاج میں سماج اور علمی شعور کو فروغ دیا۔ اِس سفر میں بے شمار نشیب و فراز سے گزرنا پڑا انہوں نے جس علاقے میں اپنی زندگی کا بچپن اور نوجوانی گزاری لکشمی کا وہ علاقہ جو شہر اقبال کے تہذیبی اور ثقافتی ماضی سے روشناس کراتا ہے گوکہ زندگی کی ہماہمی میں اُسے ہم بھول چکے ہیں لیکن کیا کہیے محمود صادق صاحب کو زندہ دل شہر کے آثار و احوال سے عشق کی حد تک دلچسپی ہے وہ بتاتے ہیں کہ ٹریفک کے بڑھتے ہوئے شور نے سماعتوں کو پرندوں کی آوازوں سے محروم کردیا ہے درخت کاٹ دئیے ہیں یا پھر فضا میں اُڑتے گردوغبار نے اُن کے حسن کو گہنا دیا ہے اس علاقے کا کوئی منظر دل خوش کُن ربا ہی نہیں سب کچھ بدل گیا ہے۔ کیسی کیسی نابغہ روزگار شخصیات اِن مکانوں میں رہتی تھیں اب ہر طرف اجنبیت کا دور دورہ ہے اپنے کالج کے زمانے میں اُنہیں اِس بات کا ادراک ہوگیا تھا کہ زندگی کے پیچھے زندگی بھاگ رہی ہے آگے بڑھنا ہے تو رُکنے اور سستانے کا آپشن نہیں اُنکی یہ اُمنگ اور حوصلہ اعلیٰ تعلیم کے لئے دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک امریکہ لے گیا۔ جب تعلیم کی تکمیل کے بعد وہ وطن واپس آئے تو انہوں نے لاہور کو ہی اپنا مسکن بنایا۔ امریکہ میں دورانِ تعلیم محمود صاحب بڑی خاموشی سے پاکستانی معاشرے کے تمام طبقات پر تحقیق کرتے رہے انہوں نے یہ راز امریکہ میں اپنی اعلیٰ تعلیم کے دوران ہی پالیا تھا کہ کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ہی دنیا کا مستقبل ہے۔ اس لئے نوجوان کے لئے اِس تعلیم اور ہنر سے آگاہی ہی وقت کا تقاضا ہے۔ ایک سائنسدان کی طرح کھوج اور تحقیق اُن کی جبلت اور نئے مواقع ڈھونڈنے کا راستہ ہے۔ اِس لئے لاہور آکر اُنہوں نے ملک کے پہلے کمپیوٹر کالج کی بنیاد رکھی۔ پھر بتدریج اِس کے دائرہ کار کو توسیع دینے کے مشکل مرحلے پر ہر نئے دِن نئے مراحل نئی مشکلات اور امکانات اور اِس حوالے سے نئے سوالات اُبھرتے رہے۔ وہ جان گئے تھے کہ تعلیم کے ہنر میں نئے رجحانات کو متعارف کرانا آسان نہیں ہوگا۔ لیکن وہ جانتے تھے کہ دنیا میں دانائی کا سب سے بڑا مدرس ان مشکلات سے پیدا ہونے والا سوال ہی ہے جس سے گھتیاں سلجھ جاتی ہیں علم کا انبار لگ جاتا ہے اِس لئے انہوں نے ہر سوال کا جواب پوری وضاحت اور ڈھنگ سے دیا۔ وہ چاہتے تھے آئیڈیا ایک مرحلہ ہے پلاننگ دوسرا اور عمل سب سے کلیدی اور فیصلہ کن اِس لئے اُنہوں نے استاد کے روپ میں اپنے اچھوتے خواب کی تعبیر پالی۔ 1990 کی دہائی کے وسط میں اُنہوں نے میڈیا کے میدان میں قدم رکھا۔ وہ سوچنے لگے کاش مجھ میں اتنی ہمت آجائے کہ جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور دیکھ رہا ہوں اور جو کچھ سنا اور سُن رہا ہوں۔ اُس کہہ سکوں، اُسے لکھ سکوں۔ اُنہیں اندازہ تھا کہ کمپیوٹر اور آئی ٹی کی تعلیم کے میدان میں اُنہیں ایک طرح کا واک اوور حاصل تھا۔ جہاں معاملے سے زیادہ نئے ٹرینڈز، مواقع اور ترجیحات کے لئے نوجوانوں کی ذہن سازی کا چیلنج درپیش تھا۔ لیکن میڈیا میں انتہائی طاقتور حریفوں کے ساتھ ساتھ اُنہیں اِس کے وسیع و عریض کینوس پر اپنے اخبار “دِن” کو ایک منفرد چہرے کے ساتھ قارئی کے سامنے پیش کرنے کا مشکل مرحلہ درپیش تھا۔ خبروں کے لئے ایک منظم اور مربوط نیٹ ورک، زندگی کے ہر شعبے میں ابلاغ کا نیا طرز، میگزین کے صفحات کے نئے رنگ ڈھنگ خبروں کے سیلاب کو “سمندر کو کوزے میں بند کرنے” کے مترادف چند اخباری صفحات میں سمیٹنے کا فن۔ یہ اُن کا اصل امتحان تھا۔ قدرت نے اُنہیں زرخیز ذہن بھی دے رکھا تھا اور روشن آنکھیں بھی اُنہوں نے مروج قواعد و ضوابط کے برخلاف کم صفحات اور ارزان قیمت پر اپنے قارئین کو اپنے نئے آئیڈیاز کی مدد سے اپنے سحر میں جکڑلیا۔ اُن کے ہر آئیڈیا میں اتنی گہرائی لاجک اور ریزن تھا کہ قارئین نے اُنہیں ریکارڈ توڑ قبولیت کی سند دے ڈالی۔ اُنہیں احساس تھا کہ اقتدار اور اختیار درحقیقت بدمست ہاتھی کی طرح ہوتا ہے اگر آپ گھڑ سواری سیکھے بغیر یا ہاتھیوں کی نفسیات کو سمجھے بغیر ان پر سوار ہوجائیں گے تو یہ آپ کو اپنے پیروں تلے کچل دیتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ بہت سا خمیازہ ہم اپنی غلطیوں کی وجہ سے بھگت رہے ہیں درحقیقت ہم ہمیشہ تاریخی تسلسل کے بجائے تادیدہ کھوج کی طرف لپکتے ہیں۔ درحقیقت ہر غلطی معافی اور ہر معافی تلافی مانگتی ہے غلطی بانجھ نہیں ہوتی بچےدیتی ہے۔محمود صادق نے الیکٹراک میڈیا میں بھی بےشمار جادوئی تجربات کئے اُن کی خوبی یہ ہے کہ تعلیم کا میدان ہو یا ابلاغ عامہ وہ معاشرے کی سوچ، نفسیات اور قبولیت کے امتزاج سے کوئی آئیڈیا متعارف کراتے ہیں اور پھر اپنی محنت اورفہم کے ذریعے کامیابی سے ہمنکار کرتے ہیں اب وہ ایک دانشور، ماہر تعلیم، سماجی محقق اور معاشیات کے روشن دماغ کے طور پر نئے اُفق کی تلاش میں سرگرداں دکھائی دیتے ہیں وہ آجکل پاکستانی معاشرے کے مختلف امور اور مسائل پر تحقیق کررہے ہیں وہ اِس بات پر متفکر نظر آتے ہیں کہ 21ویں صدی میں جب دنیا کی نئی نئی ایجادات اور ترقی کی رفتار محض کہانیاں نہیں معجزے ہیں۔ ہم کیوں ناکام اور نامراد قوموں کی صف میں کھڑے ہیں، ہم کیوں سیاسی، سماجی، اخلاقی اور معاشی میدان میں پسپا ہورہے ہیں۔ ایسے بے شمار سوالات کے ہجوم میں کھڑے ہوکر جناب محمود صادق نے اپنی اعلیٰ تعلیمی درسگاہ یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیا کے زیر اہتمام 7 دسمبر 2024 کو ماہرین اور دانشوروں کی ایک ایسی فکر انگیز تقریب کا اہتمام کیا ہے۔ جو ہماری قومی معاشی اور اقتصادی زبوں حالی کی نہ صرف وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کرے گی بلکہ مستقبل کے نئے ویژن ترجیحات اور راہوں کا پتہ بھی تلاش کرنے کی جستجو کرے گی۔ سچ پوچھیں تو یہی عمل کا وہ وقت ہے جب ہمیں عقل کے ناخن لینے چاہئیں یہی وہ وقت ہے جب قومیں بنتی بھی ہیں اور بگڑتی بھی ہیں اور ہم نے آج فہم بصیرت، اتحاد، یقین اور ایمان کی رسی پکڑلی تو یہ ملک بچ جائے گا ورنہ ہمارے پاس پسپائی تک کا کوئی آپشن نہیں بچے گا۔ کیونکہ ہمارے پیچھے سمندر ہے اور آگے آگ۔ اور ہم لوگ آگے پیچھے دیکھ کر قہقہے لگارہے ہیں۔























