
21 لاکھ سیلاب متاثرہ خاندانوں کےلیے گھروں کی تعمیر کے منصوبے میں فوری سرمایہ کاری کی ضرورت
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 21 لاکھ سیلاب متاثرہ خاندانوں کےلیے گھروں کی تعمیر کے منصوبے میں فوری سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔ انفرا اسٹرکچر کی بحالی کےلیے 799 واٹر سپلائی اسکیموں، 444 نکاسی کے منصوبوں، 56 لاکھ اسکول سے باہر بچوں سمیت تعلیمی بہتری کے منصوبوں کےلیے بھی سرمایہ کاری درکار ہے۔ اس کے علاوہ زراعت میں نئے بیچوں کے اجرا ، آبی ذخائر کی تعمیر، قابل تجدید توانائی، سولر، ونڈ اور کچرے سے بجلی بنانے کے جاری منصوبوں کو بھی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ کلائیمیٹ چینج پالیسی 2022 ان مسائل کو حل کرنے کےلیے اہم ہے لیکن فنڈز کی کمی بدستور برقرار ہے۔
کراچی( 5 دسمبر) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کئی چیلنجز کا شکار سندھ کی جامع اور پائیدار ترقی کےلیے مقامی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے داروں کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
حکومت سندھ اور اقوام متحدہ نے بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مضبوط کرنے کےلیے مقامی ہوٹل میں تقریب کا انعقاد کیا، وزیر منصوبہ بندی ناصر حسین شاہ نے میزبانی کی
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مقامی ہوٹل میں اعلیٰ سطح کی اسٹریٹجک ڈائیلاگ میٹنگ کی صدارت بھی کی۔ اجلاس میں اقوام متحدہ، عالمی ترقیاتی شراکت داروں، سفارت کاروں، صوبائی حکومت کے حکام نے شرکت کی۔ ڈائیلاگ میں صوبائی وزرا، مشیروں، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ اور چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ اور دیگر نے بھی شرکت کی ۔
تقریب میں گورننس ، انفرا اسٹرکچر، عوامی خدمات کی فراہمی اور موسمیاتی اثرات سے نمٹنے سمیت سندھ حکومت کی ترجیحات پر غور کیا گیا۔
بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں نے پہلے ہی 5 ارب 67 کروڑ ڈالر دینے کے وعدے کر رکھے ہیں جن میں 861 ملین گرانٹس بھی شامل ہیں۔ ان فنڈز سے صحت، تعلیم اور انفرا اسٹرکچر سمیت 57 منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ سندھ حکومت نے چھوٹے تاجروں کو بلاسود قرضوں کی فراہمی کا آغاز کیا ہے۔ اس پروگرام سے 12 اضلاع کے 16 ہزار کاروباری افراد مستفیذ ہوں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ووکیشنل ٹریننگ پروگرام کوبڑھانے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے عوامی خدامات کی فراہمی، موثر اور نتیجہ خیز اقدامات کےلیے تعاون کے فروغ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ڈائیلاگ کا اختتام روشن مستقبل کےلیے شراکت داری بڑھانے اور موبوط کوششوں کے عزم کے ساتھ ہوا۔ مراد علی شاہ نے سندھ کے مسائل کے حل کے بارے میں امید اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا کہ وہ مشکلات کو مواقع میں تبدیل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم مل کر ایسے سندھ کی تعمیر کرسکتے ہیں جو خوشحال، توانا اور مثالی ترقی کا حامل ہو۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ابتدائی کلمات میں سندھ کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سماجی معاشی بےچینی اور موسمی خطرات سے نمٹنے کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے 2022 کے تباہ کن سیلاب، جس میں 70 فیصد سندھ ڈوب گیا تھا اور لاکھوں افراد بےگھر ہوگئے تھے کو آفات سے نمٹنے کی تیاری اور انتظامی نظام کی تشکیل کےلیے آوازہ قرار دیا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے لیکن ترقی اور نمو کے مواقع بھی برابر موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی اور بین الاقوامی سپورٹ سے ہم ایسے سندھ کی تعمیر کر سکتے ہیں جو توانا، جامع اور آگے بڑھتا ہوا ہو۔
مراد علی شاہ نے اپنی حکومت کی اسٹریٹجک ترجیحات پر روشنی ڈالی جن میں گورننس کی بہتری ، شفافیت، ضروری انفرا اسٹرکچر کی بحالی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور سماجی ترقی کےلیے وسائل خرچ کرنا اور موسمیاتی تبدیلی اور آفات سے نمٹنے کے نظام کو مضبوط بنانا شامل ہیں۔
انہوں نے غیر متزلزل مدد پر ترقیاتی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا اور مشترکہ اہداف حاصل کرنے کےلیے مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا.
سندھ کے وزیر منصوبہ بندی و ترقیات ناصر حسین شاہ اور سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات نجم شاہ نے موسمیاتی تبدیلی کے باعث سندھ کو درپیش خطرات پر تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ سندھ نے 2010 سے 4 تباہ کن سیلابوں کا سامنا کیا ہے، حالیہ سالوں میں خشک سالی کا بھی شکار رہا ہے۔ 2022 کے سیلاب میں ایک کروڑ 23 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے۔ نقصانات کی بحالی کےلیے 11.57 ارب ڈالر اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا۔























