
پاکستان اور روس کے درمیان ریل رابطہ قائم کرنے کا منصوبہ جلد حقیقت بننے والا ہے۔ دونوں ممالک نے اس سلسلے میں ایک پروٹوکول پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت پہلی آزمائشی مال گاڑی مارچ 2025ء تک پاکستان پہنچے گی۔
یہ ٹرین ترکمانستان اور ایران تفتان کے ذریعہ پاکستان میں داخل ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایک سنگ میل ہوگی۔
پاکستان اور روس کے درمیان ریل رابطہ قائم کرنے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں بھی اضافہ ہوگا۔ ریل کے راستے روسی تیل، گیس، مشینری، اسٹیل اور دیگر صنعتی مصنوعات پاکستان برآمد کرسکتے ہیں، جبکہ پاکستان سے زرعی پیداوار، معدنیات اور کنزیومر گڈز روس کو فراہم کی جاسکتی ہیں۔
اس کے علاوہ، پاکستان کو اپنی ٹیکسٹائل مصنوعات اور فوڈ پروڈکٹس کے لیے روسی مارکیٹ مل جائے گی۔ یہ ریل رابطہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بڑھانے اور معاشی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
پاکستان اور روس کے درمیان ریل رابطہ قائم کرنے کا منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور معاشی تعاون کو بڑھانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو بڑھانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
پاکستان ریلوے کی ترقی کے لیے یہ منصوبہ ایک اہم قدم ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان ریلوے کی ترقی کے لیے ایک اہم قدم ہے اور اس سے پاکستان ریلوے کی خدمات میں بھی بہتری آئے گی۔
پاکستان اور روس کے درمیان ریل رابطہ قائم کرنے کا منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بڑھانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
پاکستان اور روس کے درمیان ریل رابطہ قائم کرنے کا منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور معاشی تعاون کو بڑھانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کو فروغ دینے اور دونو�
یہ ٹرین پاکستان پہنچے گی تاہم داخلے کے راستے کسٹمزعملے کی تعیناتی کے ایشوز ہیں جو بتایا جاتا ہے کے وقت کے ساتھ ساتھ کرلئےجائیں گے۔ انہوں نے کہا اس معاملے میں ایم او یو کا تعلق ہے اسے وفاقی کابینہ سے منظوری کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور روس کے درمیان اشیاء کے تبادلے میں یہ ایک موثر روٹ ثابت ہوگا۔ اویس لغاری نےکہا کہ ریل کے راستے روسی تیل، گیس، مشینری، اسٹیل اور دیگر صنعتی مصنوعات پاکستان برآمد کرسکے گا جبکہ پاکستان سےزرعی پیداوار، معدنیات اور کنزیومر گڈز روس کو فراہم کی جاسکیں گی۔ اس کے علاوہ پاکستان کو اپنی ٹیکسٹائل مصنوعات اور فوڈ پروڈکٹس کےلیے روسی مارکیٹ مل جائے گی۔ اس سے طویل راستوں سے بحری تجارت پر انحصارکم ہوجائے گا جو عموماً مہنگا اور سست رفتار ہوتا ہے۔























