باھمت نابینا گلوکار ۔۔۔۔۔۔۔۔احمد آفتاب


تحریر شہزاد بھٹہ
فن کسی کی میراث نہیں ھوتا بلکہ خدائی نعمت ھوتا ھے وہ جس کو چاھے اس نعمت سے نواز دے۔ جہاں تک آواز اور سر کا تعلق ھے یہ بھی اللہ کی ھی دین ھے جسے چاھے عنایت کردے گلوگاری بھی فن کی ایک صفت ھے جس سے فنکار اپنے خیالات کا اظہار کرتا ھے اچھی آواز اللہ تعالیٰ کا ایک انمول عطیہ ھے جو ھر کسی کو نہیں ملتا ھے موسیقی روح کی غذا ھے جب ساز اور آواز کا ملاپ ھوتا ھے تو عجیب سماں پیدا ھوتا ھے جس سے ھر کوئی لطف اندوز ھوتا ھے چاھے وہ انسان ھو چرند ھو یا پرند
دنیا میں کئی عالم گیر شہرت کے گلوگار پیدا ھوئے ھیں جہنوں نے اپنے فن کے ذریعے انسانیت کی خدمت کی اور لازوال خدمات سر انجام دیں اگر برصغیر پاک و ہند کی بات کریں تو یہاں پر میوزک ایک خاص مقام رکھتا ھے اس دھرتی نے بڑے عظیم اور نامور سنگیت کار پیدا کیے ھیں جہنوں نے موسیقی کی تاریخ ساز خدمت کی، پاک و ہند میں ھر دور میں نہایت سریلے اور عظیم گلوکار پیدا ھوتے رھے ھیں تان سین اپنے وقت کا ایک بڑا گلوکار تھا جس نے موسیقی کو ایک نیا رنگ دیا جب تان سین رگ چھیڑتا تو بادل بھی جھوم کر برستے تھے
دور جدید میں اس دھرتی نے ایسے بے شمار فنکار پیدا کئے جہنوں نے موسیقی کے میدان میں بے شمار کارہائے نمایاں سرانجام دیئے اور وہ اپنے وقت کے استاد کہلائے ان میں استاد امانت علی خان، فتح علی خان، مہدی حسن ،غلام علی،ملکہ نورجہاں،ملکہ پکھراج ،روشن آراء بیگم ،فریدہ خانم، مسعود رانا، احمد رشدی،عطا اللہ عیسیٰ خیلوی ، رونا لیلی،ناہید اختر ،مہناز جیسے عظیم نام شامل ھیں آج بھی پاکستان میں بے شمار نوجوان گلوکار میدان موسیقی میں اپنے جوھر دکھا رھے ھیں
اگر بات اسپشل گلوکاروں کی جائے تو خصوصی فنکاروں نے بھی میدان موسیقی میں لازوال خدمات سر انجام دی ھیں سر سنگیت میں اپنے فن کے مظاھرے پیش کئے ھیں اور دنیائے موسیقی میں اپنا نام روشن کیا ھے خاص طور پر نابینا افراد میدان موسیقی میں بڑے کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ھیں موسیقی نابینا افراد کا پسندیدہ مشغلہ ھے آج جس گلوکار کا ذکر کیا جارھا ھے وہ احمد آفتاب ھیں جو کچھ سال پہلے اسپشل ایجوکیشن پنجاب سے بطور ہیڈ ماسٹر ریٹائرڈ ھوئے تھے احمد آفتاب نابینا ھونے کے باوجود فن موسیقی میں ایک بڑا مقام رکھتے ھیں خاص طور پر غزل گائیکی میں ان کا کوئی ثانی نہیں ھے بنیائی سے محروم احمد آفتاب ایک نہایت خوبصورت اور سریلی آواز کے مالک ھیں
بینائی سے محروم احمد آفتاب لاھور میں پیدا ھوئے ابتدائی تعلیم مدرسہ ضیاء العلوم فیض باغ سے حاصل کی میڑک کا امتحان مسلم لیگ ھائی سکول لاھور سے امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔جب اشاعت تعلیم کالج میں ایف اے کے طالب علم تھے تو نظر کم ھونا شروع ھو گئی اور کچھ عرصے بعد تمام بینائی ختم ھو گئی۔باھمت احمد آفتاب نے مشکل حالات کا مقابلہ کیا اور مایوسی کو اپنے پاس آنے نہیں دیا ۔احمد آفتاب نے نابینا ھونے کے باوجود بی اے بی ایڈ کر لیا ۔احمد آفتاب کو موسیقی کا شوق پیدائش سے ھی تھا لیکن باقاعدہ موسیقی کی تعلیم کا آغاز 1975 سے پی ٹی وی کے مشہور سارنگی ساز ماسڑ اشرف الدین سے کیا احمد آفتاب نے موسیقی کے مختلف نامور اساتذہ سے موسیقی کی تعلیم لیتے رھے جن میں ریڈیو و پاکستان ٹی وی کے مشہور فنکار بشارت سے بھی شامل ھیں احمد آفتاب مختلف پروگرامز میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رھے ھیں
1980 میں لاھور ریڈیو اسٹیشن میں ھونے والے بین الاقوامی سال برائے معذوروں کے حوالے سے ھونے والے مقابلہ موسیقی میں پہلی پوزیشن حاصل کی انہوں نے یہ ایوارڈ ملکہ پکھراج سے وصول کیا اس موقع پر ملکہ پکھراج نے نوجوان احمد آفتاب کی گائیکی کی بہت تعریف کی
احمد آفتاب نے آل پاکستان موسیقی کانفرنس میں تغمہ حسن کارکردگی بھی حاصل کیا احمد آفتاب نے مختلف قومی مقابلوں میں سونے کے پانچ تغمے حاصل کر رکھے ہیں پی ٹی وی کے مختلف پروگرامز میں اپنے فن کا مظاہرہ بھی کر چکے ھیں جن میں فروزاں جواں ،فکر پنجند، لوک راس اور امنگ شامل ھیں احمد آفتاب ریڈیو پاکستان لاھور سے بھی کئی سال تک منسلک رھے اور موسیقی کے مختلف پروگرامز میں گیت گا چکے ھیں احمد آفتاب نے مختلف شہروں میں ھونے والے پروگرام میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ھیں جہاں پر عوام نے ان کی انداز گائیکی کو بے حد سراہا ھے احمد آفتاب نے ایک میوزک اکیڈمی بھی قائم کر رکھی ھے جہاں پر وہ نابینا بچوں کے ساتھ ساتھ نارمل افراد کو بھی موسیقی کی تربیت دیتے رھے ھیں احمد آفتاب نے ایک ملاقات میں بتایا کہ وہ نیم کلاسیکل غزالیں اور گیت گا چکے ھیں لیکن زیادہ مزہ غزل گانے میں آتا ھے کیونکہ اصل جادو آواز کا ھوتا ھے آواز کی دنیا بہت ھی مشکل اور خوبصورت ھوتی ھے مہدی حسن،امانت علی خان اور غلام علی ،حسن بخش کلو ان کے پسندیدہ گلوکار ھیں احمد آفتاب کے گیتوں پر مشتمل کئی کیسٹ بھی مارکیٹ میں اچکے ھیں
احمد آفتاب پیشہ کے اعتبار سے خصوصی بچوں کے استاد رھے ھیں انہوں نے 1982 میں محکمہ اسپشل ایجوکیشن کو بطور میوزک ٹیچر جائن کیا تھا آپ ذہنی اور نابینا طلبہ کو میوزک کی ٹریننگ دیتے رھے ھیں آپ نے زیادہ عرصے شاداب انسٹیٹیوٹ آف ذہنی معذور علامہ اقبال ٹاؤن میں خدمات سرانجام دی ھیں اس کے علاؤہ آپ گورنمنٹ انسٹیٹیوٹ آف بلائینڈ گرلز علامہ اقبال ٹاؤن لاھور میں بھی خدمات دی ھیں۔ احمد آفتاب گورنمنٹ اسپشل ایجوکیشن سنٹر شاہ کوٹ ننکانہ صاحب میں ہیڈ ماسٹر بھی تعینات رھے اور اسی حثیت سے ریٹائرڈ ھوئے احمد آفتاب کو دیکھ اور سن کر محسوس ھوتا ھے کہ نابینا پن یا معذوری فن کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتی اگر کوئی بندہ پوری محنت لگن سے موسیقی سمیت کسی بھی میدان میں کوشش کرے تو ایک دن کامیابی اس کے قدم چومتی ھے احمد آفتاب کو سننے کے بعد احساس ھوتا ھے کہ ان کی آواز واقعی خوبصورت ھے جس میں مٹھاس بھی ھے شرینی بھی جو سننے والے کو مدہوش کر دیتی ھے احمد آفتاب کے بے شمار سٹوڈنٹس موسیقی کے میدان میں اپنے جوھر دیکھا رھے ھیں
اللہ تعالیٰ سے دعا ھے وہ احمد آفتاب کو صحت والی لمبی عمر عطا فرمائے آمین