یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے ڈویژن آف ایجوکیشن کے زیراہتمام ”پائیدار مستقبل کے لیے تعلیم میں جدت: معیاری تعلیم کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال“ کے موضوع پر دو روزہ 11ویں بین الاقوامی کانفرنس گزشتہ روز جامعہ کے مرکزی کیمپس میں اختتام پذیر ہو گئی۔

یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے ڈویژن آف ایجوکیشن کے زیراہتمام ”پائیدار مستقبل کے لیے تعلیم میں جدت: معیاری تعلیم کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال“ کے موضوع پر دو روزہ 11ویں بین الاقوامی کانفرنس گزشتہ روز جامعہ کے مرکزی کیمپس میں اختتام پذیر ہو گئی۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عاکف انور چودھری کی سرپرستی میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس کا مقصد اساتذہ کی تربیت میں مصنوعی ذہانت (AI) کے انقلابی کردار کو اجاگر کرنا تھا۔ آٹھ ممالک کے وفود اور 400 سے زائد شرکاء کے ساتھ، اس کانفرنس میں عالمی سطح پر تعلیمی عمل میں مصنوعی ذہانت کے انضمام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کانفرنس کی اختتامی تقریب کی صدارت پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عالم سعید نے کی مہمان خصوصی معروف ماہر تعلیم و سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منور سلطانہ مرزا تھیں۔
کانفرنس کے دو روز کے دوران 30 تحقیقی مقالے پیش جبکہ پوسٹر سیشنز کا بھی انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں آسٹریلیا، برطانیہ، عمان، یو اے ای، کینیڈا اور چین جبکہ پاکستان سے نسٹ، لمز اور اقراء یونیورسٹی کے 13 سے زائد مرکزی مقررین شامل تھے۔ مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر منور سلطانہ مرزا نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر یونیورسٹی آف ایجوکیشن کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ عصر حاضر میں ٹیکنالوجی کی جدت نے انسان کو بہت متاثر کیا ہے، مصنوعی ذہانت (AI) جیسی جدید ٹیکنالوجی نے معاشرے کے ہر حصے کو اپنی افادیت کا احساس دلوایا ہے اور تعلیم میں مصنوعی ذہانت کا انضمام پائیدار مستقبل کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے۔ تدریس علم سے کہیں زیادہ ایک مہارت ہے، جس پر عبور حاصل کرکے ہی اساتذہ حقیقی معنوں میں قوم کے معمار کہلا سکتے ہیں۔ پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمدعالم سعید نے اپنے خطاب میں کہا کہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن نے اس کانفرنس کے ذریعے اساتذہ کی تعلیم و تربیت کے میدان میں ایک بار پھر اپنی انفرادی حیثیت کو منوایا ہے۔ یہ کانفرنس جدید خطوط پر اساتذہ کی تعلیم اور تربیت میں جدت کے ہمارے عزم کی عکاس ہے۔ تقریب سے ڈائریکٹر ڈویژن آف ایجوکیشن، پروفیسر ڈاکٹر ایاز محمد خان نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر سعدیہ شوکت، ڈاکٹر شمائلہ اور ڈاکٹر مقدس بٹ سمیت اساتذہ اور طلباء کی کثیر تعداد موجود تھی