ایلون مسک جھوٹ بول رہا ہے کہ جھوٹ بولنے اور جھوٹی خبر پھیلانے والے صحافی ہوتے ہیں۔ عمران خان ادراک کرلیں کہ وہ لینن، ماؤ، نیلسن منڈیلا یا امام خمینی نہیں ہیں۔


تحریر: سہیل دانش
کسی حکمران میں کوئی خوبی ہو یا نہ ہو۔ لیکن عوام کو اس پر اعتماد ضرور ہونا چاہئے۔ اعتماد بچے کے اِس قہقہے کی طرح ہوتا ہے جسے جب ہوا میں اُچھالا جاتا ہے تو وہ قہقہہ لگاتا ہے کیوں؟ کیونکہ اُسے یقین ہوتا ہے جس نے اُسے اُچھالا ہے۔ وہ اسے گرنے نہیں دے گا۔ عوام کو بھی حکمرانوں پر ایسا ہی اعتماد ہونا چاہئے اُنہیں یقین ہونا چاہئے کہ اُنکے حکمرانوں کی نیت بھی ٹھیک ہے اور ان کے ہاتھ اور بازو بھی اتنے مضبوط ہیں کہ وہ اُنہیں گرنے نہیں دیں گے۔ پھر کوئی تو وجہ ہے کہ ہر شخص کے چہرے پر فکر کی بے شمار لکیریں نمودار ہوگئی ہیں۔ شاید اُس کی وجہ یہ ہے کہ ہر کوئی برتری کے خبط میں مبتلا ہوگیا ہے۔ شاید ہم نے سمجھ لیا ہے کہ اصولوں روایتوں، ضابطوں اور ضمیر کے لئے لڑنے والے لوگ بے وقوف ہوتے ہیں اور اس ملک میں صرف اور صرف وہی لوگ کامیاب ہوسکتے ہیں جو سب سے پہلے “اپنی نوکری” کے سنہری اصول پر کاربند ہیں یا جنہیں قدرت نے زمینی حقائق سے فائدہ اُٹھانے کا ہنر دے رکھا ہے۔ یہ بھی ثابت ہوگیا ہے کہ یہ ملک سب سے پہلے “اپنا” والوں کے لئے بنا ہے اور اِس ملک کی زمینوں میں سمجھوتوں، مفاہمتوں اور زمینی حقائق کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اگر آپ میرے اِس فلسفے سے انکاری ہیں تو مجھے صرف اپنی تاریخ کے اُن برسراقتدار اور بااختیار لوگوں کے نام گنوادیں جو اِس پوری سیاسی ہڑبونگ میں سچے کھرے اور اٹل ثابت ہوئے ہیں۔ ہم بھی کیا لوگ ہیں جو یہ جانتے بوجھتے کہ جنت اور دوزخ میں زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا پھر بھی ہم نے اپنے فیصلوں میں کبھی بھی انصاف راست بازی میانہ روی اور سچائی کا راستہ نہیں اپنایا۔ ہم لوگوں کو شرم آنی چاہئے کہ ہم لوگ قبضہ گیروں کی ایسی قوم بنتے چلے جارہے ہیں جو مردوں سے قبریں تک چھین لیتے ہیں ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے قبرستانوں میں پلازے کھڑے کردیتے ہیں جو مسجدوں کے لاؤڈ اسپیکر اُتار لے جاتے ہیں اور جو جنازہ گاہوں کے نلکوں کے ہینڈل تک نہیں چھوڑتے ہم کیسے لوگ ہیں جو اسپتالوں مسجدوں اور تعلیمی اداروں کی زمینیں کھاپی جاتے ہیں اور ہمیں شرم تک نہیں آتی ہم کھانے پینے کی اشیاء اور بیماروں کی ادویات میں ملاوٹ کرنے جیسی مجرمانہ حرکت سے باز نہیں آتے۔ ہماری خواہش اور دعوے دیکھیں ہم خود تبدیل ہونے کے بجائے پوری دنیا کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں سچائی تو یہ ہے کہ یہ معاشرہ اور یہ نظام درحقیقت ہمارے لئے آگے بڑھنے کے راستے میں سب سے بڑی رُکاوٹ ہے۔ ہماری تاریخ کے حقائق کے کڑوے کسیلے اور تلخ ہیں ۔ ہمیں ہمیشہ صرف دعوؤں اور وعدوں کے انداز میں کہانیاں قصے اور افسانے سنائے گئے ہیں۔ کفن پوش علی امین گنڈاپور اور مراد سعید جیسے انقلابی انقلاب کی نوید کچھ اس انداز میں سنارہے ہیں جیسے یہ کوئی ٹارزن کی کہانی ہو۔ ایک ایسے نظام میں جس کے اپنے سیاسی انداز میں ہیرو اور ولن سرکاری محکمہ موسمیات کی پیشنگوئی کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔ مانا کہ سوال دنیا میں دانائی کا سب سے بڑا سورس ہے۔ جس سے گھتیاں سلجھتی ہیں لیکن دنیا کے امیر ترین شخص اور ٹوئیٹر کے روح رواں ایلون مسک کی اِس بات کو کیسے تسلیم کرلیا جائے کہ سوشل میڈیا نے دنیا میں 50 لاکھ نئے سحافی پیدا کرکے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی مت ماردی ہے۔ ممکن ہے اُن کی اِس بات کا یہ حصہ دُرست ہو۔ لیکن سوشل میڈیا کی اِس خود رو پیداوار نے معاشروں میں ایسی ذہنی افراتفری پیدا کردی ہے اِس ہڑبونگ میں سچ اور جھوٹ کی تمیز مٹ گئی ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ جھوٹ بہت تیز پھیلتا ہے اور اِس کی اثر انگریزی بہت شارپ ہوتی ہے۔ یہ عام لوگوں کے ذہنوں میں وسوسے، غلط فہمیاں اور بدگمانیاں پیدا کرتا ہے یہ معاشروں کو سماجی اور نفسیاتی طور پر زلزلہ کی طرح جھنجوڑ ڈالٹا ہے لیکن ایلون مسک یہ بھول گیا کہ جھوٹ بولنے اور جھوٹی خبر پھیلانے والا صحافی نہیں ہوتا، یہ معاشروں کا خیر خواہ نہیں ہوتا۔ جھوٹی خبروں کے ذریعے سیاسی بازار میں رونق برپا کرنے والے درحقیقت عام لوگوں کو جھوٹی اُمیدوں کے جال میں پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں اور اُمیدوں کے جال میں پھنسے لوگ زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہتے۔ عمران خان کی جماعت آج جس بند گلی میں جا پھنسی ہے اُس میں اُن کے سوشل میڈیا بریگیڈ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ لیکن گذشتہ روز بیرسٹر گوہر کی عمران سے جیل میں ملاقات کے بعد گفتگو میں میانہ روی کا جو سیاسی انداز اور جچا تلا لب و لہجہ اختیار کیا وہ اس بات کی واضح نشاندہی کررہا ہے کہ عمران خان کو یہ شاید احساس ہوگیا ہے کہ اُن کی اہلیہ نے فیصلہ کُن میچ میں غلط فیلڈنگ کھڑی کی بولرز آن دی ٹارگٹ بولنگ کرنے میں ناکام رہے اور بیٹسمین اپنے ریکارڈز بنانے اور اشاروں کنایئوں اور ناجانے کس لالچ میں اپنی وکٹیں گنوابیٹھے۔ اب بھی وقت ہے کہ سیاسی تناؤ کو کم کرنے کے لئے تیلی دکھانے سے بہتر ہے چھینٹے مارے جائیں۔ اب بھی وقت ہے۔ عمران اس بات کا ادراک کرلیں کہ وہ لینن، ماؤ، نیلسن منڈیلا اور امام خمینی نہیں ہیں اور اُن کے کسی ساتھی میں چوائن لائی جیسی بصیرت نہیں ہے وہ ایک اچھے بیٹسمین کی جراٹ، شاطر بولر کی چالاکی اور ایک ورلڈ کلاس کپتان کی معاملہ فہمی سے کھیل میں واپس آسکتے ہیں وکٹ بنانا ہمیشہ میزبان ٹیم کا استحقاق ہوتا ہے جو سیاسی اصطلاح میں سسٹم کہلاتا ہے جب تک آپ سسٹم کے تحت میچ نہیں کھلیں گے تو آپ مین آف دی میچ کیسے بن سکتے ہیں؟ دوسری طرف حکمرانوں کو بھی اِس حقیقت کو سمجھ لینا چاہئے کہ جس ملک کی حکومت اپنے عوام کو رزق، روزگار تعلیم امن اور خوشی دیتی ہے اللہ تعالیٰ اِس حکومت کو وسعت دیدیتا ہے اور جو حکمران اپنے ارادوں اور نیت کی سچائی اور سنجیدگی کا اللہ کو یقین دلادیتے ہیں وہ اپنی مراد پاجاتے ہیں لیکن یاد رکھیں۔ اللہ تعالیٰ کی لاٹھی میں سائیلنسر لگا ہوتا ہے ہم اس طرح سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں شاید آخری موقع دیا ہے یہ مہلت ہے نعمت نہیں اگر دونوں فریقوں نے اس مہلت کو نعمت سمجھ لیا تو اللہ تعالیٰ ان دونوں سے زیادہ دیر تک خوش نہ رہے اور ممکن ہے وہ ہماری نیتوں کو جان کر ہم سے ناراض نہ ہوجائے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے تو وہ انسان سے سب سے پہلے عزت چھینتا ہے پھر آزادی، پھر رزق اور پھر زمین۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنا رحم فرمائے۔