نئی ایئر لائن نیا سفر ، لیکن ایئر کراچی کا بانی شروع دن سے ہی جھوٹا ثابت ، کیوں اور کیسے ؟ نئی بحث چھڑ گئی ۔

نئی ایئر لائن نیا سفر ، لیکن ایئر کراچی کا بانی شروع دن سے ہی جھوٹا ثابت ، کیوں اور کیسے ؟ نئی بحث چھڑ گئی

تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ کی تاجر برادری کی نقل کرتے ہوئے بالاخر کراچی کے تاجروں کو اپنی ایئر لائن بنانے کا خیال آگیا اور ایئر کراچی کے نام سے بہت جلد نئی ڈومیسٹک ایئر لائن متعارف کرانے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں ۔ ابتدائی مرحلے میں تین جہازوں سے ایئر لائن اپنا اپریشن شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ایوی ایشن انڈسٹری کے ماہرین کی خدمات حاصل کر کے ہوم ورک کیا جا رہا ہے شروع میں پانچ ارب روپے کے بندوبست سے یہ ایئر لائن اپنے فضائی آپریشن کا آغاز کرنے کا ارادہ ظاہر کر چکی ہے تین جہاز لیز پر حاصل کیے جائیں گے وہی ماڈل اپنایا جائے گا جو دیگر چھوٹی نجی ایئر لائنز نے اپنایا تھا نئی ایر لائن کی شروعات حکومت پاکستان کی منظوری اور اجازت ناموں سے مشروط ہے باغی کاروائی جاری ہے ایئر کراچی کے نام سے ایر لائن بنانے کا موقع موجود تھا اس لیے یہ نام رجسٹرڈ کرا لیا گیا ہے اور اس میں مختلف بزنس مین گروپ انفرادی اور گروپ کی شکل میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر کے آگے بڑھنا چاہتے ہیں کراچی کے تاجر قومی ائیر لائن پی ائی اے کی نیلامی کے موقع پر اپنی ایئر لائن بنانے کے خیال پر متفق ہوئے اور اس سلسلے میں مشاورت کی گئی اور سرمایہ کاری کے لیے ذہن سازی ہوئی کچھ کاروباری لوگوں نے اور پھر گورنر سندھ نے اس سلسلے میں اپنی اپنی رائے دی اور اب بہت جلد اس حوالے سے کام ہوتا ہوا نظر آرہا ہے بظاہر تین جہازوں سے شروع ہونے والی یہ نئی ایئر لائن کراچی لاہور اسلام اباد پشاور اور کوئٹہ جیسے شہروں میں اپنا فضائی آپریشن شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے لیکن یہ بات حکومت اور انتظامی اداروں پر منحصر ہے کہ وہ اس ایئر لائن کو کن روٹس پر جہاز اڑانے کی اجازت دیتی ہے اور کن روٹس پر اجازت نہیں دیتی ۔
نئی ایئر لائن کہ قیام کی خبر ہر لحاظ سے خوش آئند ہے یہ پاکستان میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کی کھلی نشانی ہے معیشت کے استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کاموں بولتا ثبوت ہے جو موجودہ حکومت کے اقدامات پالیسیوں اور کامیابیوں کے حوالے سے ایک اور بڑا قدم نظر آتا ہے جب سرمایہ کار اور تاجر برادری کسی شعبے میں نئی سرمایہ کاری اور نیا بزنس شروع کرنے پر راضی نظر اتی ہے تو اس کا صاف مطلب ہے کہ وہ حکومت کی پالیسیوں اقدامات اور کاروباری ماحول کے حوالے سے پیدا کردہ سہولتوں پر بھرپور اعتماد کر رہی ہے اور ایئر کراچی کا قیام اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی پوری حکومتی ٹیم کی کامیابیوں کی مثال ہوگی ۔ معاشی استحکام کے لیے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی کاوشوں کو ہر فورم پر سراہا جا رہا ہے پاکستان کی تاجر برادری اور سرمایہ کاروں کے ساتھ ان کی ملاقاتوں کا حاصل ہے کہ پاکستان میں نئی ایئر لائن کے لیے سرمایہ کاری ہو رہی ہے ۔
ائیر کراچی کہ قیام پر خوشی کا اظہار ہر فورم پر کیا جا رہا ہے اور اس کی کامیابی کے لیے سب نے ایک تمناؤں کا اظہار بھی کر رہے ہیں کیونکہ ہر پاکستانی چاہتا ہے کہ پاکستان میں زیادہ ایئر لائنز کام کریں زیادہ مقابلے کا رجحان ہو اور اچھی سروس اور سستے ٹکٹ دستیاب ہوں جتنی زیادہ ایئر لائنز ہوں گی جتنے زیادہ جہاز دستیاب ہوں گے سفر اتنا آرام دہ اسان اور سہولتوں سے اراستہ ہو سکے گا اور مقابلے کی فضا میں ایئر لائنز ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے اپنے مسافروں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں پہنچانے کی دوڑ میں شامل ہو جائیں گی ۔
نئی لائن کے قیام کی خبروں کے ساتھ ہی ایوی ایشن اور سیاسی اور تجارتی حلقوں میں نئی بحث بھی شروع ہو گئی ہے خاص طور پر نئی ایئر لائن ایئر کراچی کے بانی کا تازہ انٹرویو سامنے آنے پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے زیادہ تر لوگوں نے ایئر کراچی کے بانی کی باتوں کو پاکستان میں معاشی استحکام کے حوالے سے اہمیت کا حامل قرار دیا ہے اور ان کی لائن کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے کچھ آوازیں ایسی بھی اٹھ رہی ہیں جن کو اعتراض ہے کہ ایئر لائن ابھی شروع نہیں ہوئی اور اس کے بانی نے جھوٹ بولنا شروع کر دیا ان کا اعتراض ہے کہ اپنے حالیہ ویڈیو انٹرویو میں ایئر کراچی کے بانی کی باتیں حقائق سے برعکس ہیں مثال کے طور پر وہ اپنے انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ ہم کاروباری لوگ ہیں اور بزنس مین خود کو سیاست سے الگ رکھتے ہیں جبکہ موصوف خود ایک ایسی پارٹی کے سات سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں جس پارٹی کا بانی اب خود جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے اور یہ موصوف نہ صرف اس سیاسی جماعت کے ساتھ سرگرم رہے بلکہ ان کو مذکورہ سیاسی جماعت کی جانب سے بزنس فورم کا سربراہ بنایا گیا تھا تاکہ کاروباری اور تجارتی برادری میں یہ اس جماعت کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار نبھائیں ۔ اس حوالے سے اعتراض کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر نئی ایئر لائن کا بانی شروع دن سے ہی جھوٹ بولے گا تو آنے والے وقت میں اس کی باتوں کا کیا بھروسہ ؟ مشورہ یہی ہے کہ محتاط گفتگو کریں اپنے ماضی کو یاد رکھیں کیونکہ لوگ آپ کے ماضی کو جانتے ہیں ۔ اب ایک نیک جذبے کے ساتھ اچھی شروعات کرنا چاہتے ہیں تو سچ کو بنیاد بنائیں اور سچ کی بنیاد پر اپنا سفر آگے بڑھائیں تاکہ جو لوگ ایئر کراچی کے حوالے سے اچھی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں انہیں مایوسی نہ ہو اور نئی ایر لائن شروع ہوتے ہی کسی نئے تنازعے کا شکار نہ ہو جائے ۔