خدا جانے یہ کب تماشہ ختم ہوگا

نوراحمد عباسی

کچھ دنوں سے یوٹیوب،ٹک ٹاک سمیت بیشتر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایم کیو ایم لندن کے رہنماؤں کی یلغار ہے ان رہنماؤں میں قابلِ ذکر نام مصطفیٰ عزیز ابادی،ندیم احسان،قاسم رضا،شاہدرضا ودیگر کے ہیں کہ جنھیں مہاجر قوم کا درد ہزاروں میل دور بیٹھ کر بہت شدت سے محسوس ہونے لگا ہے

مذکورہ افراد اس تکلیف کا آج کل کافی شدت سے اظہار بھی کررہے ہیں مگر دیکھنے والی آنکھ کہ جو متحدہ اور اسکی پالیسیوں کو جانتی ہے کو باغور دیکھنے کے بعد اس بات کا اندازہ ہو جائے گا کہ یہ تکلیف انھیں مہاجرقوم کی نہیں ہے ۔۔۔۔بلکہ یہ بہت منفرد دکھ یے جو انکی اپنی ذات کی وہ تکالیف بیان کررہاہے جو رہنمائی کا لاحقہ چھن جانے پر محسوس ہوتی یے!! اب یہ کوئی اچمبے کی بات بھی نہیں ہے یہ بہت جینوئن دکھ ہے کیونکہ مصطفیٰ عزیز،قاسم رضا سمیت جتنے بھی رہنما مہاجر قوم کو سوشل میڈیا پر انقلاب لانے کی دعوت دے رہے ہیں ان کی برسابرس روٹی روزی ایم کیو ایم سے ہی وابستہ رہی ہے

اور لندن میں موجود تمام ہی رہنمائی کے دعویدار ہزاروں میل دور سے بیٹھ کر مہاجر نوجوانوں کو کم مائیگی اور احساس کمتری میں مبتلا رکھنے کی مستقل جان توڑ کوششیں بھی کررہے ہیں چونکہ وہ ایسا کریں گےتو ان کا منجن فروخت ہوگاوگرنا انھیں کون پوچھے گا۔۔۔۔

مگر یہاں افسوسناک آمر یہ ہے کہ ان تمام رہنمائی کے دعویداروں کو کراچی یا مہاجر قوم ہی نہیں بلکہ اب تو شاید یہ بھی بھول گیا ہوگا کہ وہ آخری بار پاکستان کب آئے تھے، ان کے کراچی میں موجود گھروں کی گلیاں کیسی دکھائی دیتی ہوں گی، نا ہی انھیں اب یہ یاد ہوگاکہ مہاجر قوم کو جس راہ پر انھوں نے لگایا تھا پتہ تو کریں وہ سب منشور کے مطابق ہوگیا ہے؟؟ کیا قوم کو منزل مل گئی ہے؟؟ یا اب بھی مہاجر اپنا رہنما ہی تلاش کررہے ہیں؟؟ہائے یہ درد بھی کیسا ہے جو نا سنایا جاسکتا ہے نا چھپایا جاسکتا ہے

ہم ہجرتی 40 برسوں سے اس رہنما کو روز پکاررہے ہیں جو قوم پر برا وقت آتے ہی طیارے پکڑ کر ہزاروں میل دور جابسے اور اب اپنی ناکامیوں پر ماتم کناں ہیں۔۔۔حیرت کی بات دیکھئے یہ وہ ہی رہنما ہیں جو اپنا تو مکمل انجوائے کرتے رہے ہیں اور آج ناکامیوں پراپنا غصہ ان افراد پر نکال رہے ہیں جو قوم کے محسن ثابت ہوئے کہ جنھوں نے مہاجر قوم کے ان بچوں کو بچایا کہ جنھیں ان ہی نام نہاد رہنماؤں کی ملک دشمن اور ریاست دشمن پالیسیوں بے محل تقاریر نے نا صرف بے موت مروادیا بلکہ کئی سو غائب بھی ہوئے جن کا آج بھی آتا پتہ نہیں خیرجو بچ گئے انھیں آج بہادرآباد اور پاکستان ہاؤس میں براجمان قیادت با حفاظت گھروں کو پہنچانے کے لیے اپنے سروں کو گروی رکھوا کر آگئی اس پر ستم ظریفی کا عالم دیکھیں لندن امریکہ کی باقیات ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کرنا تو کجا ان پر تیر و نشتر برسانے پر لگی ہوئی ہے

لیکن یہاں فیصلہ قوم نے کرنا ہے کس نے مشکل وقت میں ہاتھ تھاما اور کس نے مشکلیں بڑھائی تھیں

خیر لندن میں موجود ایم کیو ایم کی یہ باقیات اب پاکستان آئے بنا مہاجروں کے مسائل حل کرنے کے لیے اتنی کوشاں ہے کہ انھیں نا رات کو نیند آتی ہے نا ہی یہ صبح کو چین سے رہتے ہیں منزلوں کا نشان ڈھونڈنے والے برطانیہ اور امریکہ میں قیام پذیر یہ تمام رہنما آج اپنے گول سے ہٹ چکے ہیں اب انھیں نا شہری اور دیہی سندھ کا مسئلہ نظر آتا ہے نا ہی تعلیمی اداروں میں ہونے والی زیادتیوں کا پتہ ہے نا انھیں بنگال میں موجود پاکستانیوں کی واپسی سمیت کوٹہ سسٹم اور پیپلزپارٹی کی شہری سندھ کے ساتھ زیادتیوں اور دیگر کسی بھی مسئلے سے غرض ہے

جیسے یہ رہنما سب ہی کچھ بھول چکے ہوں البتہ انھیں بس یاد ہے تو اتنا کہ انکی روٹی روزی بند ہوگئی۔۔ ارے یار بس کردو بھائی یہ قوم بہت باشعور ہے آپ کا چورن بہت بک چکا توبہ کرو اور اہل سیاست کو سیاست کرنے دو یہ پاکستان ہے برطانیہ نہیں ہے۔۔۔۔

کچھ نہیں تو اب متحدہ کی اس باقیات نے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ دیکھ کر لندن میں بیٹھ کر ایک ایسی جماعت کے لیے انقلابی مہم شروع کردی جسکی کامیابی نے ایم کیو ایم میں پہلی شگاف ڈالی2013 کے عام انتخابات میں اس وقت متحدہ کے بانی و قائد الطاف حسین کی موجودگی میں کراچی کی چند نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی میری مراد پاکستان تحریک انصاف سے ہے پی ٹی آئی سے شکست کے بعد الطاف صاحب کے اوسان خطا ہوگئے اور انھوں نے اپنی ہی جماعت کے مرکزی رہنماؤں کو مار پیٹ کرنے کے لئے کارکنان کو ان پر مسلط کردیا اور یہاں متحدہ قومی موومنٹ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی

آپ بہت بڑے فلاسفر دانشور اور سیاسی بصیرت رکھنے والے انسان ہیں مگرالطاف حسین صاحب جب گھروں میں بچے ماں باپ کو مارنے لگیں تو آپ خود بتائیں اس گھر کا کیا حال ہوتاہے تو پھر ایم کیو ایم کا بھی حال کچھ مختلف تو نہیں ہوا وہ ہی ہوا نا پھر جو گھروں میں ہوتاہے اب کس بات کے شکوے؟؟ کیسی شکایات۔۔۔چلیں آپ سمیت جتنی بھی آپکی قیادت لندن امریکہ میں بیٹھ کر قوم میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کررہی ہے وہ یہ بتائے کیا ایم کیو ایم آپ نے اکیلے بنائی تھی۔۔

پٹائی کھانے والے وہ تمام افراد اس سفر میں آپکے ساتھ نہیں تھے؟؟ جنھیں آپ نے عام کارکنوں سے رسوا کروایا؟؟ کیا اکیلے جوانی آپ کی ہی تحریک کی نظر ہوگئی؟؟ ایم کیو ایم کے پٹائی کھانے والے وہ تمام رہنما بھی آپ کا حصہ تھے نا۔۔۔۔

جو ریاستی آپریشن جبر گرفتاریاں سب ہی جھیلتے رہے ہیں اب آپ ہی بتائیں کیا آپ کا رویہ درست تھا اور اگر درست نہیں تھا تو آپ کو یہ لوگ مزید کتنا برداشت کرتے

بھائی جان یہ بتائیں آپ تو لندن میں بیٹھ کر روز تماشہ لگاتے تھے جس کے اثرات کراچی کی سیاست پر مرتب ہوتے تھے یہ قوم بھگتی رہی گراؤنڈ میں موجود رہنما بھگتے رہے اس سب کے باوجود یہ لوگ آپ کو کچھ بول تو نہیں رہے تھے؟آپ کوتو آج بھی 109 ہے کیونکہ آپ برطانوی شہری ہیں اور عملاً پاکستان آنے کا ارادہ بھی نہیں رکھتے لیکن باقی کی قیادت کے روٹس تو یہاں ہی تھے پھر انھوں نے آپ کو سالوں سمجھانے کے بعد آپ سے علیحدگی اختیار کرکے کیا غلط کیا؟؟

الطاف حسین صاحب یاد رکھیں آپکی ذہنی حالت کا فائدہ اٹھانے والے آپکے بغل بچے اورآپ کے ارد گرد موجود تمام افراد نا آپ سے مخلص ہیں نا ہی مہاجر قوم سے مخلص ہیں ہاں یہ اگر مخلص ہیں تو بس اپنے دال دلیے سے مخلص ہیں انھیں کچھ یاد ہے تو فقط اتنا یاد ہے کہ جس جماعت سے ان افراد کا دال دلیہ چل رہاتھا وہاں اب وہ لوگ کمند ڈال چکے ہیں جو ہر دور میں گراؤنڈ پر موجود رہے یا یہ کہنا غلط نا ہوگا کہ جن کے ہونے سے یہ تحریک آج بھی باقی ہے پھر یہ غدار کیسے ہوئے؟؟

چلیں مختصر کرتے ہیں اورآپ کی بات کو ایک لمحے کو مان بھی لیتے ہیں کہ پاکستان میں موجود ایم کیو ایم کے سارے رہنما ضمیر فروش ہیں کلمے کے منکر ہیں غدار ہیں تو بھائی آپ یہ بتائیں اب آپکی نظر میں اس کا حل کیا ہے؟؟ کہیں اس کا حل آپ اپنی شکلوں میں تو نہیں دیکھ رہے؟؟ اچھا چلیں اگر آپ حل ہیں۔۔۔۔ تو پھر بتائیں الطاف حسین سمیت آپکی جتنی بھی بھگوڑی کھیپ دنیا کے مختلف ممالک میں بیٹھی یوٹیوب ،فیس بک ،ٹوئیٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور ٹک ٹاک پر موجود ہے یہ سب کے سب کب پاکستان آرہے ہیں؟؟ آپ حتمی تاریخ کا اعلان کریں تاکہ مہاجر قوم کو بھی تسلی ہو کہ ہاں یہ فقط دور بیٹھے منجن نہیں بیچ رہے تھے ان کو ہمارا حقیقی دردتھا۔۔۔ارے بھائی الطاف حسین صاحب آپ تو برطانوی شہری ہیں پاکستان آسکتے ہیں تو بطور برطانوی شہری کراچی وزٹ پر آجائیں۔۔۔۔

نا کرو یار اس قوم کیساتھ اب یہ مزاق بند کرو، میرا ایم کیو ایم کی موجودہ قیادت ہو یا سابقہ کسی سے کوئی لینا دینا نہیں مگر بطور صحافی اور تجزیہ کار کے ہم نے شہر کے ہر بدلتے منظر کو دیکھا ہے 2016 سے قبل جس طرح چوبیس سال تک مستقل مہاجر نوجوانوں کی گرفتاریاں،مسخ شدہ لاشیں اور غیر اعلانیہ گمشدگیاں دیکھی ہیں وہ کوئی مرنے یا غائب ہونے والے کی اپنی وجہ سے نہیں تھیں بلکہ تمام اسیر گمشدہ اور شہید کارکنان نے ایم کیو ایم اور الطاف حسین کی محبت میں سب بھگتا ہے

ایسے میں آپ بتائیں آپ نے زبانی جمع خرچ کے علاؤہ اپنی قوم کو کیا دیا ؟؟اس قوم نے تو آپ کو مال و متاع دھن دولت جذبات جانیں سب ہی سونپ دیاتھاجواب میں آپ نے کیا دیا بھاگ گئے۔۔۔۔اج ہزاروں میل دور بیٹھ کر آپ نا کہ اس قوم کے زخموں پر ہاتھ رکھتے مہاجروں سے معافی مانگتے اور احساسِ ندامت میں یہ کہتے کہ آپ وہ سب نا کرسکے جس کی مہاجر قوم کو امید دلائی تھی خواب دکھائے تھے قوم کو یہ سمجھاتے کہ آپ اپنی غلطیوں کی وجہ سے وہ سب کراچی حیدرآباد آباد نوابشاہ سکھر میرپور خاص کے عوام کو نا دے سکے جس کی بنیاد پر ایم کیو ایم کا قیام عمل میں آیا تھا افسوس آپ سمیت لندن امریکہ میں بیٹھی بھگوڑی قیادت نے مہاجر قوم کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیلنا شروع کردیا

بات طویل ہورہی ہے مگر مصطفیٰ عزیز ابادی سمیت جتنی بھی لندن کی رابطہ کمیٹی ہے میں ان کو بطور مہاجر یہ کہنا چاہتا ہوں یاد رکھیں ایم کیو ایم پاکستان ہو یا اس کا کوئی دوسرا فیکٹر یہ جماعتیں اس دن تک عوام میں کمزور ہیں جب تک یہ مہاجروں کے حقوق ان کی دہلیز تک نہیں پہنچا دیتے جس دن ایم کیو ایم کے 60 رکنی جتھے نے خود سے باہر نکل کے قوم کے ایک عام نوجوان کو میرٹ پر نوکری دینا اور اسکے ساتھ ہونے والے مظالم پر آواز اٹھانا شروع کردی شاید اس دن کے بعد آپ کا ہی نہیں الطاف حسین کا بھی باب بند ہو جائے گا سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ابھی کچھ خامیاں ہیں جو ایم کیو ایم کو درست کرنا ہوں گی وگرنا جس طرح آپ پر مہاجر قوم نے عدم اعتمادکا اظہار کیا ہے مستقبل قریب میں ایم کیو ایم کی موجودہ قیادت پر بھی بھروسہ ختم ہوجانے کا اندیشہ ہے

مگر یہاں ایم کیو ایم پاکستان کی ناکامیوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بھی زیادتی ہوگی کہ آپ مہاجروں کے ہمدرد ہیں یہ تاثر تو سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہے حقائق اور تاریخ یہ بتاتی ہے کہ آپ کی لندن میں بیٹھی قیادت نے جو سیاہی مہاجر قوم کے ماتھے پر لگائی تھی ایم کیو ایم پاکستان نے اپنے دامن سے اس سیاہ دھبے کو کسی حد تک صاف کرنے کی کوشش کی ہےآنے والے دنوں میں اس بات کی قوی امیدکی جاسکتی یے کہ متحدہ پاکستان کی قیادت اپنی کوتاہیوں سے مزید سیکھتے ہوئے ان بنیادی مسائل پر کام کرے گی جو مہاجروں کو احساس کمتری میں مبتلا کئے ہوئے ہیں۔

چلتے چلتے افتخار عارف یاد آگئے ان کے اشعار کیساتھ اجازت چاہوں گا

بکھر جائیں گے کیا ہم جب تماشا ختم ہو گا
میرے معبود آخر کب تماشا ختم ہو گا
کہانی میں نئے کردار شامل ہو گئے ہیں
نہیں معلوم اب کس ڈھب تماشا ختم ہو گا
کہانی آپ اُلجھی ہے کہ اُلجھائی گئی ہے
یہ عقدہ تب کُھلے گا جب تماشا ختم ہوگا
یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات
سحر سے پہلے پہلے سب تماشا ختم ہو گا
تماشا کرنے والوں کو خبر دی جا چکی ہے
کہ پردہ کب گرے گا کب تماشا ختم ہو گا