ایک خواب جسے سندھ پیپلز ہاؤسنگ برائے فلڈ متاثرین نے تعبیر دی ، بلا شبہ دور حاضر کا ایک عظیم کارنامہ


ایک خواب جسے سندھ پیپلز ہاؤسنگ برائے فلڈ متاثرین نے تعبیر دی ، بلا شبہ دور حاضر کا ایک عظیم کارنامہ\

بے تحاشہ بارش اور برساتی سیلاب کی صورت میں ایک بہت بڑی آفت نے جب پورے سندھ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پانی نے جو تباہی مچائی ہے اس کے بعد بحالی کا کام اتنی تیزی سے اور جلدی ہوتا ہوا نظر آئے گا لیکن آج صرف 18 مہینوں کے بعد اگر گراؤنڈ پر تباہ شدہ گھروں کو دوبارہ نئی تعمیر شدہ خوبصورت رنگ روغن ڈیزائن کی شکل میں دیکھتے ہیں تو سب کچھ ایک معجزہ معلوم ہوتا ہے انسان واقعی بے پناہ صلاحیتوں کا حامل ہے اور اگر نیک نیتی اور جذبے کے ساتھ کسی کام کو مکمل کرنے کا تہیہ کر لیا جائے تو وہ کامیابی سے ضرور ہمکنار ہوتا ہے زبردست بارش اور سیلاب کے نتیجے میں تباہ ہونے والے لاکھوں مکانات کی ازسر نو تعمیر کے عظیم الشان منصوبے کی کامیابی درحقیقت سندھ پیپلز ہاؤسنگ برائے فلڈ متاثرین ایس پی ایچ ایف کی ایک شاندار بے مثال کامیابی ہے اس منصوبے کے بارے میں جب تک شروع سے لے کر اب تک ہونے والے کاموں کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل نہ کر لی جائے تب تک اس کے عملی کاموں اور حتمی نتائج کو درست تسلیم کرنا مشکل نظر آتا ہے لیکن جب اپ اس منصوبے کی تفصیلات سے باخبر ہوتے ہیں اور روز اول سے اس کی منصوبہ بندی اور پھر اس کو تکمیل کے مراحل سے گزارتے ہوئے 154 ملکوں سے بڑی آبادی کے برابر متاثرین کی رہائشی سہولتوں کی بحالی کے چیلنج کو قبول کرتے ہیں تو یہ کوئی بچوں کا کھیل نہیں یہ بہت بڑا منصوبہ اور بہت عظیم کام ہے اور اس میں ٹرانسپیرنٹ رہنا رقم کے استعمال کو مکمل شفاف انداز سے استعمال کرنا اور اصل حقدار تک رقم کا پہنچنا اور اس کا بامقصد انداز سے استعمال ہونا بہت بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے لیکن ایس پی ایچ ایف اس بہت بڑے چیلنج میں کامیاب اور امتحان میں سرخرو ہو چکا ہے اس ادارے کی کامیابی اور نیک نامی کا تمام تر سہرا اس کے سربراہ خالد محمود شیخ کے سر جاتا ہے جو ایک ذہین باصلاحیت محنتی اور کامیاب سرکاری افسر ہیں انہوں نے دن رات ایک کر کے اس عظیم خواب کو شرمندہ تعبیر کر دیا دنیا کے تمام بڑے ڈونرز مالیاتی ادارے حیران رہ گئے اور ہر فورم پر پاکستان اور سندھ کی تعریف کی جا رہی ہے اور دنیا کو بتایا جا رہا ہے کہ سیلاب کے بعد جتنی بڑی کامیابی کی نئی تاریخ سندھ میں رقم کی گئی ہے اس کی پوری دنیا میں کوئی مثال نہیں ۔

ایس پی ایچ ایف کے تحت خواتین کو خودمختار بنانے کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات – “پہلی بار آٹھ لاکھ خواتین کے بینک اکائونٹس کھولے گئے ہیں، جو عورتوں کو مالیاتی خودمختاری کی فراہمی کے حوالے سے مثالی اقدام ہے

ایس پی ایچ ایف نے کامیابی کے ساتھ 800،000 سے زائد مستحقین کو فنڈز تقسیم کیے ہیں ، سرکاری طور پر خود کو دنیا کے سب سے بڑے ہاؤسنگ انیشی ایٹو کے طور پر قائم کیا ہے۔ یہ نیپال اور آزاد جموں و کشمیر میں زلزلے کے بعد گھروں کی تعمیر نو کے اقدامات جیسی تقابلی کوششوں سے کہیں زیادہ ہے

، جس نے اسے پیمانے ، اثرات اور لچک کی تعمیر میں ایک تاریخی پروگرام بنا دیا ہے۔

“جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے، ہم نے جدید ترین مینجمنٹ سسٹم کے ساتھ کارکردگی اور احتساب میں اضافہ کیا ہے. فائدہ اٹھانے والوں کے اعداد و شمار کی تجدید سے لے کر حقیقی وقت میں پیش رفت کا سراغ لگانے تک، ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہر مستفید کی درست شناخت اور حمایت کی جائے۔

سی او پی 29 آذربائیجان میں ایس پی ایچ ایف کے سی ای او خالد محمود شیخ نے افراد کو بااختیار بنانے کے تبدیلی کے اثرات پر روشنی ڈالی۔ “جب انہیں اپنے گھروں کی تعمیر نو کے لئے 1،000 ڈالر تفویض کیے گئے، تو فائدہ اٹھانے والوں نے غیر معمولی کاروباری صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا – بینک اکاؤنٹ کھولنا، وسائل کا انتظام کرنا اور قابل ذکر گھروں کی تعمیر۔

یہ بتانا ضروری ہے کہ تقریبا 21 لاکھ مکانات کی تعمیر کے سلسلے میں حکومت سندھ نے اپنے پاس سے 50 ارب روپے اور ورلڈ بینک نے 110 ارب روپے فراہم کیے اور سندھ حکومت نے ایک کمپنی ایس پی پی ایچ ایف ایچ ایف بنائی اور اس کے ذریعے اس کام کو بڑھایا گیا

اس منصوبے کو شروع کرتے وقت سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ کام کو تیزی سے شروع کرنا تھا اور اس کا دائرہ کار بھی بہت پھیلا ہوا تھا سندھ کے 24 اضلا ع میں یہ کام ہونا تھا اور 20 لاکھ سے زیادہ گھر بنانے تھے یہ کسی طریقے سے بھی کوئی چھوٹا کام نہیں تھا یہ دنیا کا سب سے بڑا ڈیزاسٹر مینجمنٹ ہاؤسنگ پروجیکٹ کہلایا کیونکہ جو کشمیر میں زلزلہ ایا تھا اس میں ساڑھے چھ لاکھ مکانات کا منصوبہ تھا اور اس کے بعد نیپال میں جو زلزلہ ایا اس میں تقریبا سات لاکھ 80 ہزار مکانات کا منصوبہ تھا اس لیے جب ہم اٹھ لاکھ گھروں کی جب بھی بات کریں گے تو سب سے بڑا منصوبہ پاکستان کا اور سندھ کا کہلائے گا ہم نے ہر مہینے 50 ہزار مکانات بنانے کی طرف پیش قدمی کی

📍چونڊڪو، ضلعو خيرپور
خيرپور جي تعلقي ناري ۾ قائم ننڍڙي شهر چونڊڪو جي رهواسي لالو ۽ سندس ڀاءُ 2022 جي ٻوڏ ۾ تباهه ٿي ويل پنهنجا گهر ايس پي ايڇ ايف جي سهڪار سان ٻيهر تعمير ڪيا آهن. هنن نه رڳو پنهنجا نوان گهر ٺاهيا آهن پر ناري تعلقي ۾ هلندڙ نون گهرن جي اڏاوتي ڪم سبب کين رنگ جي ڪاريگر طور پنهنجي ئي ڳوٺ ۾ روزگار جو نئون ذريعو پڻ ملي ويو آهي-

قمبر شھدادڪوٽ ضلعي جي رهواسڻ پيراڻي خاتون سنڌ حڪومت جي سهڪار سانSPHF جي پروگرام تحت پنهنجي ڪچي گهر کان هڪ نئين، پڪي گهر تائين جو سفر مڪمل ڪيو.


Babar Mangi and Sindh People’s Housing For Flood Affectees
November 20
During my trip to Sukkur Sindh, I witnessed communities overcoming the challenges of the floods, rebuilding vibrant homes with courage and determination deeply tied to their culture.
Muzboot Buniyad is my tribute to their resilience and to SPHF, whose support has made this recovery possible.
Listen now and let their strength move you.
Directed by Zulqarnain Hussain
Shot by Farhan ahmed
Music Prod & Mix by Kaashi Haider
#SindhiRap #Sindh #BabarMangi
=======================================
اس منصوبے کی بڑی بڑی خصوصیات یہ ہیں کہ

اتنی بڑی تعداد میں نئے سرے سے مکانات کی تعمیر کا منصوبہ نہیں بنا ۔ معلوم تھا ریخ میں نیپال میں ساڑھے سات لاکھ مکانات بنائے گئے اور اب سندھ میں 21 لاکھ مکانات بنا کر نیا المیر کارڈ بن رہا ہے ۔ مجموعی طور پر 418 ارب روپے کا انتظام ہوا ہے سندھ کے 24 اضلاع میں یہ کام ہو رہا ہے ۔
Dr. Valerie Hickey, Global Director at the World Bank, described the Government of Sindh’s SPHF initiative as a ‘miracle’ for Sindh, focusing on the empowerment of families with independence, having already built 300,000 homes.
#SindhPeoplesHousing #COP29 #COP29Azerbaijan


Dr. Issa Faye, Director-General at Islamic Development Bank Group – isdb.org, emphasized at COP29 Azerbaijan the alignment of the Government of Sindh’s SPHF initiative with Pakistan’s strategy for sustainable infrastructure and human capital development. He highlighted the Sindh government’s deep commitment to rehabilitating rural Sindh and building resilience for the future.
#SindhPeoplesHousing #COP29 #COP29Azerbaijan


Ms. Xiaohong Yang, Deputy Director General of Asian Development Bank, applauded the Government of Sindh’s SPHF initiative for its groundbreaking digitalization efforts through its MIS system, enabling transparency and real-time tracking of funds and construction progress, including the exact number of women beneficiaries.
#SindhPeoplesHousing #COP29 #COP29Azerbaijan
Chief Minister Sindh Murad Ali Shah delivered a keynote address at COP29 Azerbaijan, showcasing the SPHF initiative envisioned by Bilawal Bhutto Zardari
As the world’s largest housing project, SPHF is constructing 2.1 million climate-resilient houses, setting a global standard for resilience and sustainable housing solutions.
#COP29Azerbaijan #SindhPeoplesHousing


وہ شخص جس نے اس خواب کی ایک حقیقی تصویر پیش کی۔
– بہت بڑی کوشش

===========================

زبیرہ خاتون محفوظ اور مستقل گھر ملنے پر خوشی سے نہال
ضلعہ خیرپور کے گائوں واحد بخش کبر کی رہائشی زبیرہ خاتون 2022 کے سیلاب میں گھر سے محروم ہوگئی تھیں، SPHF کے پروگرام کے تحت انہوں دوبارہ پکا گھر تعمیر کیا ہے، جو حالیہ بارشوں میں مضبوط اور محفوظ رہا۔ زبیرہ خاتون کا کہنا ہے کہ نئے گھر کے آنگن میں انہوں نے پودے بھی لگائے ہیں، محفوظ اور مستقل پناہ گاہ دینے پر ہم حکومت سندھ کے شکر گزار ہیں۔
SindhPeoplesHousing#


امداد علي کوسو – ڪاريگر
سنڌ ۾ 2022 جي ٻوڏ متاثرن کي نوان گهر ٺهرائي ڏيڻ لاءِ SPHF پاران خاص اپاءَ وٺڻ جي سلسلي ۾ مقامي سطح تي ڪاريگرن کي سکيا پڻ فراهم ڪئي وڃي ٿي،شڪارپور ۾ تازو SPHF طرفان منعقد ڪرايل تربيتي سيشن ۾ شرڪت ڪندڙ ڪاريگر امداد علي کوسي نون گهرن جي اڏاوتي گهرجن ۽ سکيا کي انتهائي لاڀائتو قرار ڏنو آهي.
SindhPeoplesHousing#


ظفراللہ – جیکب آباد
ضلعہ جیکب آباد کے رہائشی ظفراللہ کا گھر سیلاب میں تباہ ہوگیا تھا۔ حکومت سندھ کے تعاون سے سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ ایفیکٹیز کے پروگرام کے تحت انہوں نے ایک بار پھر اپنا پکا گھر تعمیر کیا، جس سے ان کی ناامیدی امید میں بدل گئی ہے۔
#SindhPeoplesHousing


A remarkable 300,000 houses have now been completed under the Sindh Peoples Housing for Flood Affectees (SPHF) program. This initiative stands as one of the world’s largest housing projects for those impacted by floods, providing secure, flood-resistant housing for over 12 million people.
#SindhPeoplesHousing

گوپی چانڈیو، شہید بینظیر آباد
شہید بینظیر آباد کے رہائشی گوپی چانڈیو نے 2022 کے سیلاب میں اپنا کچا گھر گنوادیا تھا، حکومت سندھ کے تعاون سے سندھ پیپلز ہائوسنگ فار فلڈ افیکٹیز کے پروگرام کے تحت دوبارہ اسی جگہ پر پکا اور مضبوط گھر تعمیر کرنے کے بعد گوپی اب ایک نئے عزم اور روشن مستقبل کی امید کیساتھ زندگی گذار رہا ہے۔
SindhPeoplesHousing#


سندھ میں کیسے سستے ترین اور کرپشن فری گھر فراہم کیے جا رہے ہیں ؟ یہ ایک معجزہ لگتا ہے لیکن یہ سندھ حکومت نے کر دکھایا ہے اور اس منصوبے کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس منصوبے نے نہ صرف انٹرنیشنل ڈونرز کو مطمئن کیا ہے بلکہ پہلی مرتبہ سندھ حکومت کو کسی منصوبے پر پرائیویٹ ڈونرز بھی پورے اعتماد کے ساتھ رقم دے رہے ہیں تاکہ لوگوں کو ان کے گھر بنا کر دیے جا سکیں اور جو کوئی بھی اس سلسلے میں اپنی رقم فراہم کر رہا ہے اسے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی مدد سے اس کی رقم جن گھروں کی تعمیر پر خرچ کی جا رہی ہے اس کی مکمل اپڈیٹ فراہم کی جاتی ہے اور وہ خود بھی فالو اپ دیکھ سکتے ہیں اس منصوبے کی بنیادی کامیابی ہی اس لیے نظر اتی ہے کہ اس میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی کہ جدید ترین ٹولز کو بہترین طریقے سے استعمال کیا گیا ہے اور اس کی شفافیت برقرار رکھنے کا بہت زبردست انتظام کیا گیا ہے جس کا صحرا خالد شیخ کے سر جاتا ہے جو اس منصوبے کے سی ای او ہیں
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے سیلاب متاثرین کو ان کے گھروں کی فراہمی کا یہ پروگرام اپنی مثال آپ ہے اسے کرپشن فری بنایا گیا ہے اور لوگوں تک ان کی رقم تین اقساط میں پہنچائی جاتی ہے پروجیکٹ کے متاثرین اس میں کوالیفائی کرتے ہیں یا نہیں اس مرحلے سے لے کر ان کی قسطوں کی ادائیگی تک ہر جگہ ان کو نہ صرف مکمل رہنمائی فراہم کی جاتی ہے اور کسی کو رشوت نہیں دینی پڑتی بلکہ ان کے بارے میں تمام کوائف کا ڈیٹا ادارے کے پاس موجود ہے ان کے گھر میں کتنے افراد رہتے ہیں ان کے شناختی کارڈ نمبر کیا ہیں اور ان کے ایڈریس کیا ہیں ان کے بارے میں تمام کوائف اس ڈیٹا بینک میں موجود ہیں جو اس ادارے نے خود ڈیویلپ کیا ہے یہ ایک بہت بڑا کام ہے اور سندھ حکومت کے پاس جتنا ڈیٹا اس منصوبے کے ذریعے جمع ہو گیا ہے اس کی بھی کوئی مثال نہیں ملتی

خالد شیخ نے جیوے پاکستان ڈاٹ کام کو خصوصی بریفنگ کے دوران بتایا کہ 70 ہزار سے زیادہ لوگ ایسے تھے جن کے کیس ڈبل تھے ان کو سسٹم نے نشاندہی کر کے الگ کیا اور اب ہم نے اس سسٹم کو ایسا فول پروف بنایا ہے کہ اس میں کوئی بھی ہمیں نہ تو ڈوج دے سکتا ہے نہ کرپشن کر سکتا ہے صرف کوالیفائی کرنے والے متاثرین کو مکمل ڈیٹا کے ذریعے رقم خرید فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے ملکیتی حقوق کی بنیاد پر ان کو یہ مکان بنا کر دیے گئے ہیں خواتین کو ان کے گھروں کا مالک بنایا گیا ہے ایسے علاقے جو کسی وڈیرے کی زمین پر مشتمل ہیں ان کے ساتھ الگ شرائط نامہ دستخط کرایا جاتا ہے اور اس کے بعد کام ہوتا ہے ۔بریفنگ کے دوران سانگڑ کے ایک تعلقہ کے عبدالجبار نامی شخص کے قوائف کے بارے میں معلومات حاصل کی گئی اور اس کو کاؤنٹر چیک کرایا گیا تو کمپیوٹر کی مدد سے اس کے گھر کے تمام قوائف اور تفصیلات کمپیوٹر سکرین پر بمع تصاویر پیش کی گئی اور سب شروع کا یہ عمل دیکھ کر بہت حیران اور خوش ہوئے اور پروجیکٹ اے سی ای او خالد شیخ اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کی انہوں نے واقعی بہت عمدہ طریقے سے ڈیٹا جمع کیا ہے اور ٹرانسپیرنٹ طریقے سے اس منصوبے کو لے کر یہاں تک آئے ہیں

کیا کوئی یقین کر سکتا تھا کہ اس منصوبے کے لیے دو ارب ڈالر کی رقم کہا بندوبست یقینی بنا لیا جائے گا یہ سارا کریڈٹ بلاول بھٹو زرداری اور سندھ حکومت کو جاتا ہے نہ صرف یہ رقم کا انتظام کیا گیا بلکہ اس کا بہترین اور ٹرانسپیرنٹ استعمال بھی کر کے دکھایا گیا اور جن لوگوں کے گھر تباہ ہوئے اور جن لوگوں کو گھر دوبارہ بنا کر دیے گئے ہیں وہ خود اس کی جیتی جاگتی تصویر ہیں اور خود جیتے جاگتے ثبوت ہیں کہ کرپشن فری منصوبہ کیسے مکمل ہوا اور ان کو گھر بنا کر ان کے حوالے کیے گئے ۔ شاباش سندھ حکومت شاباش