سابق نگران وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی نے مطیع اللہ جان کے بارے میں ایسا کیوں کہا ؟

سابق نگران وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی نے مطیع اللہ جان کے بارے میں ایسا کیوں کہا ؟
تفصیلات کے مطابق سابق نگران وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی سے جب ایک ٹی وی پروگرام میں متیع اللہ جان کی گرفتاری اور ان کے خلاف ایف ائی ار میں لگائے گئے الزامات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے پہلے تو کہا کہ میرے لیے اپ نے ایک مشکل سوال چنا ہے لیکن مجھے دونوں باتوں کا دفاع کرتے ہوئے مشکل کا سامنا ہے کیونکہ جس طرح کی صحافت مطیع اللہ جان کر رہے ہیں اس کا دفاع کرنا بھی میرے لیے مشکل کام ہے اور جس طرح کے الزامات کے تحت ترقی گرفتاری ہوئی ہے اس کا دفاع کرنا بھی مشکل ہے ۔ گویا مرتضی سولنگی کو مطیع اللہ جان کی صحافت کا انداز بالکل بھی پسند نہیں اور وہ اس سے اتفاق نہیں کرتے اور جس طرح کے الزامات لگا کر ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے اس انداز کو بھی وہ قبول نہیں کرتے ۔ ادھر عدالت میں منشیات کیس کی سماعت ہوئی اور پھر مطیع اللہ جان کی ضمانت منظور کر لی گئی اور یہ ریمارکس بھی دیے گئے کہ صحافت کا تو ستیا ناس ہو گیا ہے

اسلام آباد انسداد دہشت گردی عدالت نے صحافی مطیع اللہ جان کی ضمانت منظورکرلی۔ جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ صحافت کا ستیاناس ہوگیا ہے بہت شرمندگی ہے کہ صحافی پراسیکوٹرکوکہیں کہ آپ حرام کھاتے ہیں کیا پھریہ بھی کہا جائے کہ صحافی اپنی سوچوں کوبیچتے ہیں۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات خرید وفروخت کیس کی سماعت کی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے آرڈر کے کاپی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا مطیع اللہ جان کے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کی پراسس عدالت نے مکمل کیا۔

مطیع اللہ جان کے وکیل نے کہا کہ ہماری ضمانت کی درخواست بھی سن لیں۔ جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ نوٹس کر دیتے ہیں پراسیکوشن تیاری کر لے گی، اسکرینوں پرآکرصحافت کا ستیاناس ہوگیا ہے۔

جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ بہت شرمندگی ہے کہ صحافی پراسیکوٹرکوکہیں کہ آپ حرام کھاتے ہیں، کیا پھریہ بھی کہا جائے کہ صحافی اپنی سوچوں کوبیچتے ہیں؟

عدالت نے مطیع اللہ جان کی درخواست ضمانت دس ہزار روپے مچلکوں کے عوض منظور کرلی۔

صحافی مطیع اللّٰہ جان کی 10 ہزار روپے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی گئی۔

مطیع اللّٰہ جان کو اسلام آباد کی انسدادِ دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے مطیع اللّٰہ کے جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ معطل کر دیا تھا۔

صحافی مطیع اللّٰہ جان نے روکنے پر گاڑی پولیس پر چڑھا دی: مقدمے میں الزام

مطیع اللّٰہ جان کے 2 روزہ جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی تھی۔

واضح رہے کہ سینئر صحافی اور اینکر مطیع اللّٰہ جان کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق پولیس نے مطیع اللّٰہ جان کو ای نائن چیک پوسٹ سے گرفتار کیا، گاڑی کو پولیس نے گزشتہ رات ناکے پر رکنے کا اشارہ کیا تھا۔

صحافتی اور سیاسی حلقوں میں مطیع اللہ جان کی گرفتاری زیر بحث رہی ہے قانونی حلقوں میں بھی ان کے حوالے سے کافی بحث سامنے ائی بعض دوستوں کا خیال ہے کہ انتظامیہ نے اسلام اباد اپریشن کے بعد پیدا شدہ صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے مطیع اللہ جان کی گرفتاری کر کے اس معاملے کو میڈیا کی توجہ کا مرکز بنایا اور یہ معاملہ دراصل اصل معاملات سے توجہ ہٹانے کے لیے تھا لیکن قانونی حلقے اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے