
پروگریسو پیپرز کے ایک اور ممتاز ساتھی رخصت ہوئے.
مولانا مودودی کے بھتیجے (ان کے بڑے بھائی ابوالخیر مودودی کے صاحبزادے) ابوالبرکات “پاکستان ٹائمز” میں کام کرتے تھے. ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹا تو ابو البرکات یہ کہہ کر دفتر سے چلے گئے کہ اب کیا صحافت ہوگی.
اس کے بعد انہوں نے ادارے کی کینٹین سنبھال لی. جس دن بھٹو کو پھانسی کا فیصلہ سنایا گیا، ابو البرکات صاحب نے کینٹین کے برتن توڑ ڈالے اور گھر چلے گئے. بعد میں وہ گرفتار ہوئے اور جیل بھی کاٹی. اس کے بعد وہ چین گئے اور کافی عرصہ ریڈیو بیجنگ میں رہے. واپسی پر اسلام آباد کے انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز سے منسلک ہوئے. کچھ کتابیں بھی لکھیں. طویل عرصے سے بیمار تھے. کوئی ایک سال کوما میں رہے.
ابوالبرکات صاحب 1979 میں لاہور کارپوریشن کے رکن بھی منتخب ہوئے تھے.ان کے عوام دوست گروپ کو اکثریت حاصل تھی لیکن لاہور کا مئیر پیپلز پارٹی کا کیسے برداشت کیا جاسکتا تھا. کمشنر نے ابوالبرکات سمیت عوام دوست گروپ کے 35 کونسلر ڈی سیٹ کردئیے اور مرضی کا مئیر منتخب کرالیا.
محترمہ مہناز الرحمان صاحبہ کی فیس بک وال سے























