پولیس آپریشن کے دوران وزیراعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈاپور اور بانی پاکستان تحریک انصاف کی اہلیہ بشریٰ بی بی گاڑی میں بیٹھ کر فراراور کارکن بھی بھاگ نکلے۔

علی امین گنڈا پور، بشریٰ بی بی بلیو ایریا میں کلثوم پلازہ کے قریب گاڑیوں میں موجود ہیں اور پی ٹی آئی مظاہرین کی قلیل تعداد گاڑیوں کے پاس موجود تھے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور ڈی چوک ایریا سے فرار ہوگئے اور دونوں ڈی چوک ایریا سے ایک ہی گاڑی میں فرار ہوئے۔
بشریٰ بی بی کی گاڑی کا رخ کے پی ہاؤس کی جانب موڑا گیا ہے اور اسلام آباد پولیس کا اسکواڈ بشری بی بی کی گاڑی کے تعاقب میں ہے۔
قیادت کے فرار ہوتے ہی کارکن بھی جناح ایونیو اور سیونتھ ایونیو سے گاڑیاں چھوڑ کر بھاگ کر اسلام آباد کے رہائشی سیکٹروں میں جا رہے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی سنگجانی میں دھرنا دینے پر آمادہ تھے,بشریٰ بی بی نے انکار کر دیا، بیرسٹر سیف
خیبر چوک اور کلثوم پلازہ کے درمیان آپریشن کے دوران پولیس نے تمام ہٹائے گئے کنٹینرز کو واپس نصب کر دیا، تحریک انصاف کے مرکزی کنٹینر کو آگ لگ گئی، 450 سے زائد کارکنوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا
پی ٹی آئی کی یہ فائنل کال نہیں۔ مس کال تھی ،وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
پی ٹی آئی کی یہ فائنل کال نہیں۔ مس کال تھی۔ تحریک انصاف نے اپنے کنٹینر کو خود آگ لگائی۔ کنٹینر میں جلنے والی اہم دستاویزات کا فرانزک کروایا جائے گا۔۔۔مظاہرین اپنے جوتے ۔۔کپڑے اور گاڑیاں چھوڑ کر بھاگے۔ ہمیں ٹھیک وقت کا انتظار تھا۔ وزیر داخلہ مسلسل نگرانی کرر ہے تھے ۔ رہا کسی کو کروانے آئے تھے۔ بہت سے کارکنوں نے خود کو گرفتار کروالیا۔ پی ٹی آئی کے انتشاری پارلیمنٹ اور اعلیٰ سرکاری شخصیات کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ وزیراطلاعات عطااللہ تارڑ کی اسلام آباد میں میڈیاسے گفتگو























