بھرپور جوانی میں مجذوب سا رہتا ہوں۔


محبوب سرور

گمنام سی بستی میں
بے نام سا رہتا ہوں
بے نام حوالے سے
پہچان میں رہتا ہوں
رنگینی دنیا بھی
کیا خوب تماشہ ہے
بھر پور جوانی میں
مجذوب سا رہتا ہوں
راتوں کی خاموشی میں
میری ذات کے پہلو میں
اندھیری سی نگری میں
بے خوف سا رہتا ہوں
بھوک کی دنیا میں
افلاس کے پہلو میں
آسائش کی دنیا میں
بے چین سا رہتا ہوں