
علی امین گنڈا پور کو ریلی کی قیادت اور محسن نقوی کو موٹر وے بند کرنے کے بجائے بگن میں ہونا چاھیئے جہاں قیامت بیت گئی وہاں سے رابطہ کرنے والے دوست جس طرح خوفناک خبریں بتا رہے محض احتیاط کے پیش نظر انہیں من و عن شائع نہیں کیا جاسکتا کہ آزاد ذرائع سے تصدیق ایک مشکل مرحلہ ہے مختصراً یہ ہے کہ وہاں مسلح لشکر کا راج ہے چوکیاں تھانے خالی ہیں یا عضو معطل ، بگن پاڑہ چنار سے کوئی پچاس ساٹھ کلو میٹر فاصلے پہ ہے جہاں سے لشکر سہولت کیساتھ سفر کرکے بگن پہنچا اور سب کچھ پھونک دیا بگن کے
معروف ڈاکٹر طلا محمد فیملی سمیت قتل ہوچکے ہیں جبکہ ڈاکٹر بیٹی کا کچھ پتہ نہیں چل رہا کرم کے مندوری اسپتال میں تصادم میں مارے جانیوالے شیعوں سنیوں کی لاشیں بکھری پڑی ہیں گھروں میں گھس کر فائرنگ کی گئی ہے لوٹ مار اسکے علاؤہ ہے
سردست پیپلز پارٹی و مسلم لیگ اور سرپرستوں کی پہلی ترجیح تحریک انصاف کو اسلام آباد داخلے سے روکنا اور خیبرپختونخوا کی حکمران تحریک انصاف کی کوشش ریلی کو اسلام آباد پہنچانا ہے
کرم میں لگی آگ کی تپش سے فی الحال اسلام آباد محفوظ ہے تو لڑنے مرنے دیں عوام کو ؟ ویسے بھی اکتوبر سے ابھی تک وہاں جان سے جانیوالے والے بس عدد ہی ہیں اور عدد بھی وہ جن سے زیادہ میڈیا چیمپئنز ٹرافی اور دفاعی نمائش کو وقت دیتا ہے !
فیض اللہ خان























