
حبیب بینک میں اوورسیز خاتون ڈاکٹر کے ساتھ 2 کروڑ کےفراڈ کے حقائق ، ایک بیٹی ناسا امریکہ میں دوسری نسٹ یونیورسٹی میں تعلیم یافتہ ، تیسری بیٹی کو حبیب بینک کےمینجر کی چوک پر ننگا کرنے کی دھمکیاں ۔ مجھ پر اتنا ظلم کرو جتنا اپنی خواتین پر سہ سکو ۔ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے ، متاثرہ خاتون ڈاکٹر سیدہ مومنہ فاطمہ کی کہانی

حبیب بینک لمیٹڈ کی لاہور کی برانچ میں ہونے والے فراڈ کی یہ تفصیلات بہت حیران کن بھی ہیں اور پریشان کن بھی ۔ اس میں ایک ایسی خاتون کی کہانی سامنے اتی ہے وہ خود بھی پڑھی لکھی ڈاکٹر ہیں اوورسیز میں تھی ان کے خاوند کا انتقال ہو چکا ہے ملتان میں ان کی پراپرٹی کی فروخت کے معاملے پر سارا اسکینڈل سامنے ایا پولیس نے پہلے خاتون کو مظلوم جان کر ان کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا بعد میں خاتون کے ماضی کے ریکارڈ کی بنیاد پر انہی کو جھوٹا اور ان کے خلاف ماضی کے مقدمات نکال لیے جبکہ خاتون ڈاکٹر سیدہ مومنہ فاطمہ کا کہنا ہے کہ وہ اوورسیز سے پاکستان کی خدمت کرنے کے جذبے سے پاکستان واپس ائی تھی لیکن یہاں ا کر انہوں نے کانوں کو ہاتھ لگا لیا یہاں گد بیٹھے ہوئے ہیں بوٹیاں نوچتے ہیں مجھ سے 25 لاکھ روپے رشوت طلب کی گئی کے 25 لاکھ روپے کا کٹ لگاؤ تو دو کروڑ کی ریکوری کرا دیتے ہیں ۔ خاتون ڈاکٹر کی ایک بیٹی پی ایچ ڈی ہے امریکہ میں ناسا میں ملازمت کر رہی ہیں دوسری بیٹی نسٹ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہے تیسری بیٹی کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ بینک مینجر سلطان نے کھلے عام دھمکی دی ہے کہ اس کو چوک پر ننگا کرے گا اور غلط باتیں کر رہا ہے میرا بیٹا بیمار ہے جس کی وجہ سے میں ایک ادھ مرتبہ تفتیش میں نہیں جا سکی تو پولیس میرے خلاف ہو گئی تھانے میں بلا کر مجھے ذلیل کرتے رہے اور جن پر الزام تھا وہ صوفوں پر بیٹھے اور مجھے دھمکیاں دیتے رہے میں اللہ حکام سے اپیلیں کرتی رہی کہ اگر میری جان کو کچھ ہوا یا میری بیٹی کو کچھ ہوا تو ذمہ دار وہ ہوں گے ۔
حبیب بینک لمیٹڈ کی برانچ کے حوالے سے یہ واقعات سوشل میڈیا پر کافی توجہ حاصل کر چکے ہیں معاملہ پولیس تک گیا اور مقدمہ بازی ہوئی اور اس کے بعد کافی میڈیا میں ایا خاتون کے مطابق پولیس والوں کو خود بینک کملے نے بتایا کہ برانچ میں تو دو کروڑ روپے کیش تھا ہی نہیں اور مینجر دو کروڑ روپے کا چیک کیش کیسے کر رہا تھا اور ایک کروڑ 35 لاکھ روپے کیش گننے کے بعد رقم کاؤنٹر سے واپس لے لی گئی معاملہ یہ تھا کہ میرا چیک کیش کر دو میری رقم مجھے واپس کر دو بینک مینجر نے خود ہی چیک پر مجھ سے دو دستخط کروائے اور خود ہی لکھ دیا کہ ان کو پولیس سکیورٹی کی ضرورت نہیں ہے حالانکہ پانچ لاکھ سے بڑی رقم پر قانون کہتا ہے کہ پولیس سیکیورٹی دی جائے گی اس معاملے میں دو سوالات بینک مینجر کے حوالے سے اٹھتے ہیں کہ اگر برانچ میں اتنا کیش نہیں تھا تو دو کروڑ روپے کا چیک کیسے کیش کرنے کی اجازت دی گئی دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر کیش دے رہے تھے تو پولیس سکیورٹی کیوں فراہم نہیں کی گئی باقی باتیں فراڈ سے جو جڑی ہوئی ہیں وہ قانونی ہیں اور وکیل اور قانون کے ضابطے ان کا فیصلہ کریں گے ۔ بینک کے حوالے سے یہ باتیں سامنے ائی ہیں کہ وہاں پر عملہ کچھ نوسر بازوں کے ساتھ مل کر اس طرح کے معاملات میں لوگوں کے ساتھ فراڈ میں ملوث رہتا ہے اس واقعے سے یہ نصیحت ملتی ہے
کہ کسی بھی نئی برانچ میں جاتے وقت اگر اپ بڑی رقم نکلوانے جا رہے ہیں تو اپنے ساتھ سیکیورٹی کا انتظام کر کے جائیں یا پھر کیش مت نکلوائیں اور چیک پر ہی ٹرانزیکشن کریں یا پے ارڈر بنوائیں اس حوالے سے بینکنگ ماہرین سے بھی رائے حاصل کریں اور اس واقعے سے جڑی ہوئی ویڈیوز کو تفصیل سے غور سے دیکھیں اپ کو بہت سی باتیں سیکھنے کو ملیں گی اس واقعے کو اگرچہ اپ کافی مہینے گزر چکے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر اس کی ویڈیوز 





ابھی بھی وائرل ہیں اور ان پر مختلف تبصرے بھی سامنے ا رہے ہیں یہ اس طرح کا کوئی واحد واقعہ نہیں ہے اس طرح کے اور بھی واقعات ہیں اور بھی شکایات سامنے اتی رہتی ہیں لہذا بینک کی انتظامیہ کو بھی اس طرح کے واقعات کے بعد اپنے عملے کی سکروٹنی کرنی چاہیے بینک کی برانچوں میں جو کالی بھیڑیں ہیں وہ بینک انتظامیہ کے لیے شرمندگی اور بدنامی کا باعث بنتی ہیں اور ایسے لوگوں کے خلاف قانون کو سخت کاروائی کرنی چاہیے اور جن لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے یقینی طور پر ان کو انصاف دلانے میں سب اسٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرتے رہنا چاہیے ۔ اس کیس کے بارے میں یا اس سے جڑے ہوئے یا اسی قسم کے دیگر کیسز کے بارے میں اگر اپ کے پاس بھی کوئی اہم معلومات ہو اپڈیٹ ہو یا اپ کوئی واقعہ شیئر کرنا چاہیں تو ہمیں ضرور بھیجیں ۔ جیوے پاکستان ڈاٹ کام اس قسم کے بینک فراڈ اور بینک سے جڑے ہوئے مسائل کو عوامی مفاد میں اجاگر کرتا ہے تاکہ اس طرح کے واقعات سے لوگوں کو مزید فراڈ سے بچنے کے بارے میں اگاہی اور شعور حاصل ہو ۔ اس طرح کے بینک فراڈ یا واقعات کے بعد جو بینک افسران اور پولیس افسران اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہیں وہ قابل تعریف ہیں اور جو کالی بھیڑوں کی نشاندہی کرتے ہیں وہ بھی با ہمت اور جرات مند لوگ ہیں ۔
https://www.google.com/search?q=2+crore+ki+bank+dacoity+in+hbl+gulberg+lahore&rlz=1C1BNSD_enPK992PK992&oq=2+crore+ki+bank+dacoity+in+hbl+gulberg+lahore&gs_lcrp=EgZjaHJvbWUyCwgAEEUYChg5GKABMgcIARAhGI8C0gEJMTQzNjRqMGo3qAIAsAIA&sourceid=chrome&ie=UTF-8#fpstate=ive&vld=cid:c972788f,vid:elFwXDGiNQk,st:0























